ایسے وقت میںجب بچوں کی توجہ موبائل کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اردو کامک بکس انہیں مطالعے کی جانب راغب کرنے کاذریعہ بن سکتی ہیں۔
کامکس۔ تصویر:آئی این این
کامک بک یا’مزاحیہ تصویری کہانیاں‘ یا کامک اِسٹرپ، کہانی سنانے کا ایک دلچسپ اور مؤثر ذریعہ رہا ہے جس میں دلچسپ کارٹون اور مختصر مگر پراثر مکالموں کے ذریعے واقعات کو پیش کیا جاتا ہے۔ انگریزی اور دیگرکسی بھی زبان کی طرح اردو میںبھی کامکس بک نہ صرف تفریح کا سامان فراہم کرتی رہیں بلکہ طلبہ کی تعلیمی اور ذہنی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہیں۔ بچوں کے مختلف رسالوں جیسے اُمنگ، ہلال ، کھلونا ، گل بوٹے اور دیگر میں کامک کہانیوں کا باقاعدہ گوشہ ہوا کرتا تھا ۔تصاویر اور دلچسپ کہانیوں کی بدولت بچے اردو الفاظ، محاورات اور جملوں کو آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح زبان سیکھنے کا عمل بوجھ محسوس نہیں ہوتاتھا بلکہ ایک خوشگوار سرگرمی بن جاتاتھا۔ بہت سے طلبہ روایتی کتابیں پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے لیکن رنگین تصاویر اور دلچسپ کرداروں والی کامک بکس انہیں اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہیں ۔ ماہرین تعلیم کے مطابق کامک بکس کا سب سے زیادہ فائدہ طلبہ کے تخیل اور ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کوہوتا ہے۔ ان میں موجود کردار، مناظر اور کہانیاں بچوں کے تخیل کو مہمیز دیتی ہیں۔ وہ نئے خیالات سوچتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تصاویر کے ساتھ پیش کی گئی معلومات ذہن میں زیادہ عرصے تک محفوظ رہتی ہیں۔بہت سی اردو کامک بکس میں دیانت داری، محنت، انسان دوستی، ہمدردی اور حب الوطنی جیسے موضوعات شامل ہوتے تھے جن سے طلبہ مثبت اخلاقی اقدار سیکھتے تھے۔ آج کے دور میں جب بچوں کی توجہ کتابوں سے ہٹ کر موبائل اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کی طرف منتقل ہو رہی ہے، اردو کامک بکس انہیں مطالعے کی طرف راغب کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہیں۔ہم نے اس سلسلے میں چند ایسے افراد سے گفتگو کی جنہوں نے اپنے بچپن میں کامک بکس پڑھی ہیں اور جو اُن کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہیں۔
مدیرماہنا مہ شاعر، معروف شاعر اورکوئز ٹائم جیسی بہترین تعلیمی تفریح کے روح رواں حامداقبال صدیقی نے کہا کہ ’’ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہاں بچوں کے ادب کے نام پر صرف رسالے نکلتے ہیں اور اکا دکا کہانیاں و نظمیں لکھ دی جاتی ہیں جبکہ کامک بک یا کامک اسٹرپ جیسی نہایت مفیدصنف کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔‘‘حامد اقبال کے مطابق کامک اسٹرپ کا طلبہ کو بہت فائدہ ہوتا تھا اور یہ بات ہم اپنے برسوں کے تجربہ کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں۔ پہلے کامک کارٹون بنانے والے لوگ بھی ہوتے تھے جو اردو کیلئے خصوصاً کئی بہترین کامک تیار کرتے تھے لیکن اب اس جانب کوئی دھیان نہیں دیتا۔ حامد اقبال نے بتایا کہ ہم نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے پروگراموں کے دوران دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے کہ کامکس بک کے تعلق سے اگر کوئی سوال پوچھا جائے تو طلبہ فوراً جواب دیتے ہیں۔ ان کامک کہانیوں کی وجہ سےطلبہ کا تخیل بہت اچھا ہوجاتا ہےبلکہ وہ ان کرداروں کی مدد سے اپنے ذہن میں کہانیاں گڑھ لیتے ہیں۔ ان میں زبان کی سمجھ اور بول چال کے الفاظ کا موقع و محل کا ادراک بھی آجاتا ہے ۔ حامد اقبال نے یہ بھی بتایا کہ پہلے اخبارات میں بھی کامک کہانیاں شائع ہوتی تھیں۔ اب چند ایک کو چھوڑ کر دیگر تمام زبانوں کے اخبارات اور رسالوں میں یہ سلسلہ بند کردیا گیا ہے ۔حالانکہ برطانیہ کے اخبارات میں یہ چلن اب بھی جاری ہے۔ حامد اقبال نے بتایا کہ شکیل انوار صدیقی نے اردو میں بچوں کیلئے بہت سی کامک بکس لکھیں۔ ان کی کتاب ’’ننھے میاں کے کارنامے‘‘ اسی ذیل میں نہایت مقبول ہوئی تھی ۔
معروف صنعتکار اور زبان و ادب کا اعلیٰ ذوق رکھنے والے شکیل مومن نے بتایا کہ’’ پہلے جب موبائل تو دور ٹیلی ویژن تک نہیں تھا اس وقت تفریح کے ذرائع میں پرنٹ میڈیا سب سے اوپر تھا ۔ اس وقت بڑوں کی تفریح کے لئے (ادبی رسائل اور اخبارات کو چھوڑ کر) ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کے ساتھ ساتھ فلمی میگزین خاص طور پر دہلی سے شائع ہونے والا رسالہ ’شمع‘ مقبولیت کی معراج پر تھا۔یہی دور بچوں کے رسائل کا بھی زریں دور تھا۔ جہاں ’’ہلال‘‘، ’’کلیاں‘‘، ’’کھلونا‘‘ اور سرحد پار کا ’’بچوں کا باغ‘‘ وغیرہ عروج پر تھے وہیں کامک بکس کا بھی دور دورہ تھا۔‘‘شکیل مومن کے مطابق کامک بکس دراصل قرأت اور بصارت دونوں کی تسکین کا سامان ہوتے تھے۔ کہانیوں کے کردار زندہ جاوید آنکھوں کے سامنے نظر آتے تھے۔ لائبریریوں میں بچے پہلے کامک بکس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ مالیگاؤں شہر سے بھی ’’اردو کامک‘‘ کے نام ایک رسالہ شائع ہوتا تھا جو اب ’’ریختہ‘‘پر دستیاب ہے۔اسی دوران روزنامہ انقلاب نے بھی بچوں کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے کامک کو روزانہ قسط وار شکل میں غالباً تیسرے صفحے کے نیچے شائع کرنا شروع کیاتھا ۔ ان میں سے کچھ نام آج بھی ذہن میں بسے ہوئے ہیں مثلاً ’’قاتل چیونٹیاں‘‘، ان کامک کہانیوں کو پڑھنے کے لئے ہی شروع میںشدت سے انقلاب کا انتظار ہوتا تھا۔ ٹیلی ویژن کے آنے سے کامک بکس کا زوال شروع ہو گیا اور اب تو موبائل نے مطالعہ کی عادت کا بیڑہ ہی غرق کردیا ہے۔
معروف کالم نگار اورتعلیمی شخصیت پروفیسر زہرہ موڑک نے کامک بکس کے تعلق سے بتایا کہ’’ یہ صنف طلبہ کے ذہن کو بہت زیادہ اپیل کرنے والی اور ان کے تخیل کو نئی اڑان دینے والی صنف ہے۔ اس پر ماضی میں کافی محنت ہوئی اور اسے طلبہ کی کی ایک عادت بنانے میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل کی گئی لیکن ٹیلی ویژن کے ظہور اور پھر موبائل کے عروج نےتمام محنت پر پانی پھیر دیا۔اب طلبہ کو دوبارہ اس صنف تک لانے میں بہت محنت درکار ہو گی۔پروفیسر زہرہ موڑک کے مطابق ماضی کے ہمارے کئی قلمکاروں نے اس جانب محنت کی لیکن اب کوئی محنت کرنے کو تیار نہیں ہے جبکہ یہ آج بھی طلبہ کی ذہنی تربیت کا بہترین میڈیم ثابت ہو سکتی ہے۔