برطانوی وزیراعظم اسٹارمرنے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ اور ملک کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: June 22, 2026, 2:55 PM IST | London
برطانوی وزیراعظم اسٹارمرنے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ اور ملک کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم اسٹارمرنے اعلان کیا ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ اور ملک کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔پیر کو۱۰؍ ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر میڈیا کے سامنے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کیئرا سٹارمر نے کہا کہ ان کا ہر فیصلہ اپنے ملک کے لیے ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دپیکا کی وجہ سے رنبیرنے ’’کاک ٹیل ‘‘ میں کام سے انکار کردیا تھا: سیف علی خان
مستعفی ہونے والے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی جماعت یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا اگلے عام انتخابات میں قیادت کے لیے وہ بہترین انتخاب ہیں یا نہیں اورانہوں نے اس سوال پر اپنی پارٹی کا ’جواب سن لیا ہے‘ اور وہ ’اس جواب کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں۔‘ کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ اپنے دو سالہ دور میں انہوں نے معیشت اور دفاع پر اعتماد بحال کیا۔ ان کے مطابق جب لیبر پارٹی کی قیادت ان کے پاس آئی تو اس وقت یہ جماعت ’سیاسی، مالی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکی تھی۔‘
کیئر اسٹارمر کے مطابق انھیں بار بار بتایا گیا کہ پارٹی ’ختم ہو چکی ہے‘، مگر ان کے بقول انہوں نے ’ان لوگوں کو غلط ثابت کیا۔‘ کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ رواں برس مئی میں برطانیہ میں ہونے والے مقامی کونسلز کے انتخابات کے نتائج کے بعد زور پکڑ ا تھا۔ ان نتائج نے برطانوی سیاست کو لڑکھڑا دیا تھا اور ملک کی حکمران لیبر پارٹی تیسرے نمبر پر رہی تھی۔ انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود کیئر اسٹارمر نے اس وقت استعفی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ’ ’میں ملک کو افراتفری کی صورتحال میں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور اپنی پانچ سالہ مدت پوری کروں گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:امریکہ ایران نے ۶۰؍ روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کرلیا
اسٹارمر کی جگہ کون لے سکتا ہے؟
گزشتہ ہفتے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں لیبر پارٹی میں ان کے حریف اور اینڈی برنہم کی کامیابی کے بعد اسٹارمر پر مستعفی ہونے کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا۔ ہفتے کے اختتام پر لیبر پارٹی کے سیاستدان بڑی حد تک خاموش رہے جس کے باعث وزیرِ اعظم کو اپنے سیاسی مستقبل پر غور کرنے کا موقع ملا۔برنہم آج دوپہر ایوانِ عام میں رکنِ پارلیمان کے طور پر حلف اٹھانے والے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر ملک کے نئے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔برنہم نو برس سے گریٹر مانچسٹر کے میئر تھے اور وہ ماضی میں ۲۰۰۱ء سے۲۰۰۷ء تک لیہہ کے حلقے سے ہاؤس آف کامنز کے رکن رہ چکے ہیں۔انہو ں نے ماضی میں ۲۰۱۰ء اور ۲۱۵؍ میں بھی لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخاب میں حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:دپیکا کی وجہ سے رنبیرنے ’’کاک ٹیل ‘‘ میں کام سے انکار کردیا تھا: سیف علی خان
یہ واضح نہیں کہ سر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کے بعد اقتدار کی منتقلی کا عمل چند ہفتوں پر محیط ہو گا یا کئی ماہ تک جاری رہے گا۔ اگرچہ قیادت کے انتخاب کا مقابلہ ممکن ہے لیکن اب بلا مقابلہ تقرری کا امکان بڑھتا جا رہا ہے جس سے غالباً برنہم فائدہ اٹھائیں گے۔ اسٹارمر کے مستعفی ہونے کا مطلب ہے کہ برطانیہ کو چار برس میں پانچواں نیا وزیرِاعظم ملے گا۔ یہ وزیراعظم ایک نئی کابینہ تشکیل دے گا اور نئی پالیسی ترجیحات پیش کرے گا اور ساتھ ہی اپوزیشن جماعتیں غالباً یہ سوال اٹھائیں گی کہ آیا سر اسٹارمر کے جانشین کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے یا نہیں۔