عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی تک

Updated: March 14, 2021, 8:38 PM IST | Ali Ahmed Kazmi

سچ یہ ہے کہ ان دنوں ساحر کو شعر و ادب سے زیادہ سماج اور سیاست سے دلچسپی تھی۔ بلونت سنگھ سے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ساحر نے کہا تھا: ’’سیاست سے مجھے لگاؤ ہے ، اس وجہ سے ایک بار پٹا بھی۔‘‘ پٹنے سے یہ شعور مزید بیدار ہوا جس نے آگے بڑھ کر سرکشی و مزاحمت کی شکل اختیار کرلی۔

Sahir Ludhianvi. Picture:INN
ساحر لدھیانوی۔تصویر :آئی این این

سچ یہ ہے کہ ان دنوں ساحر کو شعر و ادب سے زیادہ سماج اور سیاست سے دلچسپی تھی۔ بلونت سنگھ سے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ساحر نے کہا تھا: ’’سیاست سے مجھے لگاؤ ہے ، اس وجہ سے ایک بار پٹا بھی۔‘‘ پٹنے سے یہ شعور مزید بیدار ہوا جس نے آگے بڑھ کر سرکشی و مزاحمت کی شکل اختیار کرلی۔  دماغ سے تو وہ سیاست داں ہیں البتہ دل سے شاعر۔ غالباً اسی لئے ان کے اندر کے شاعر نے سیاست کو سیاسی شعور اور وجدان کے طور پر تو قبول کیا لیکن انہیں کسی سیاسی جماعت کا رکن نہیں بننے دیا کہ اس سے شاعر تو شاعر خود سیاستداں بھی محدود اور مشروط ہوجاتا ہے ۔ تاہم ان کے سیاسی شعور کو  سمجھے بغیر ان کی سماجی و مزاحمتی شاعری کو سمجھا نہیں جاسکتا ۔ ایک جگہ وہ کہتے ہیں :’’ میں کبھی کسی سیاسی پارٹی کا ممبر نہیں رہا۔ ہاں، غلام ہندوستان میں آزادی کے مثبت پہلو ڈھونڈنا اور ان کا پرچار کرنا میرا نصب العین رہا۔ اب ذہنی طور پر اقتصادی آزادی کا حامی ہوں جس کی واضح شکل میرے نزدیک سوشلزم ہے۔‘‘
 (ساحر کے ساتھ ایک شام از نریش کمارشاد)تنظیم سے وابستگی یا عدم وابستگی، یہ بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ اصل شے ہے فکر و نظر سے وابستگی، جو تنظیم کے بغیر بھی اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ ساحر کا  اپنے والد، اپنے گھر ، اپنے نظام کے خلاف بغاوت و سرکشی اس بات کا ثبوث پیش کرتی ہے کہ کس طرح ذاتی ناآسودگی ، سماجی ناآسودگی میں تبدیل ہوکر ایک ایسے حلقۂ فکر و عمل میں رچ بس رہی ہے اور نوجوان شاعر عشق و محبت سے بے پروا اپنی ذات اور جذبات سے بھی بے پروا ایک ایسی بنیاد ڈال رہا ہے جس پر ساحر کی شاعری کا تاج محل تیار ہوا جو آخر تک دائم و قائم رہا۔ مخمورسعیدی نے غلط نہیں کہا :
’’ساحر کے سیاسی آدرشوں نے ان کا بہت دور تک ساتھ دیا۔ غیرملکی سامراجی حکمرانوں سے ملک کی نجات کا خواب اور عالمی سطح پر ایک انسانیت دوست، امن پسند اور مساوات پر مبنی غیرطبقاتی سماج کے قیام کا تصور ان کے دل میں ہمیشہ امنگیں جگاتا رہا۔‘‘ (ساحرلدھیانوی ، ایک مطالعہ)نوجوانی اور طالبعلمی کے زمانے سے ہی ساحر کی یہ نقل و حرکت، مزاحمت، تقریر و تحریر اپنا اثر دکھانے لگی اور وہ مقبول تو ہونے لگے لیکن حکمراں طبقہ کی نظروں میں بھی چڑھنے لگے۔ والدہ کو فکر ہوتی لیکن جب انہوں نے اپنے بیٹے کی مقبولیت دیکھی تو اُس پر فخر بھی کیا البتہ والد مایوس ہوئے کہ ان کا بیٹا زمینداری اور سرمایہ داری کو ختم کرانا چاہتا ہے۔ کرتار سنگھ سراہٹا ایک انقلابی لیڈر تھے۔ ان کی شہادت پر سبھی انقلابی نوجوانوں نے یوم شہادت منایا ۔ اس  میں ساحر بھی شریک ہوئے اور باقاعدہ نظم بھی پڑھی جس کے سبب انہیں کالج سے نکال دیا گیا جس کا انہیں ذرا بھی ملال نہ ہوا۔ اسی دور کی مزاحمتی اور احتجاجی نظموں پر مشتمل جب ساحر کا پہلا شعری مجموعہ ’تلخیاں‘   شائع ہوا تو عام خیال ہے کہ یہ مجموعہ لدھیانہ کالج اور پنجاب کے ماحول کا مرہون منت ہے۔ کالج سے نکال دیئے جانے کی وجہ سے ساحر بی اے تو پورا نہ کرسکے لیکن شاعرمکمل طور پر ہوگئے۔
لدھیانہ کالج سے نکالے جانے کے بعد ساحر لاہور منتقل ہوگئے۔ یہاں انہوں نے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا ۔ اس شہر میں ان کو اندرکمار گجرال، کرشن چندر اور مہندر ناتھ وغیرہ کا ساتھ ملا۔ لاہور کے ادبی ماحول نیز بزرگوں اور دوستوں کی صحبت نے ساحر کے خیالات کوایک نئی  زندگی دی۔ سرگرمی بڑھی، شاعری بھی بڑھی اور ان دونوں کی وجہ سے سرکشی اور مزاحمت بھی۔ ان سب کی وجہ سے انہیں دیال سنگھ کالج چھوڑنا پڑا۔ پھر وہ اسلامیہ کالج لاہور پہنچے۔ یہاں ان کی ملاقاتیں گوپال متل، دیویندر ستیارتھی، ہری چند اختر، عبدالمجید بھٹی اور دیگر ادیبوں شاعروں سے ہوئی جبکہ بزرگوں میں احسان دانش، حفیظ جالندھری، تاثیر اور صوفی تبسم سے بھی ملاقاتیں رہیں چنانچہ ان سب کی صحبت میں ساحر کے فکر و خیال کو وسعت ملی اور ان کی شخصیت و شاعری ایک بڑے ذہن و وژن میں تبدیل ہونے لگی۔ لاہور میں ہی انہوں نے کارل مارکس کے لکھے گئے مضامین کا اردو ترجمہ کیا۔ یہ کتاب لاہور سے ہی شائع ہوئی جس  کے دیباچے میں گوپال متل نے لکھا:
’’کتاب کا ترجمہ پنجاب کے جواں سال اور جواں فکر  جناب اے ایچ ساحر نے کیا ہے۔ مسودے کے مطالعے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ادبی دنیا کے اس نووارد کا مستقبل نہایت شاندار ہے اور بہت جلد اس کا شمار چوٹی کے ادیبوں میں ہونے لگے گا۔‘‘ 
 گوپال متل کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی۔ آگے  بڑھ کر وہ ادب لطیف، سویرا اور شاہراہ جیسے بڑے ترقی رسالوں سے وابستہ ہوئے۔ اس میں اداریے لکھنے لگے۔ کبھی کبھی مضامین بھی۔ تلخیاں کی شہرت نے انہیں اس عہد کے ترقی پسند شاعروں سے جوڑ دیا چنانچہ دسمبر ۴۵ء میں جب حیدرآباد میں ترقی پسندوں کی کانفرنس ہوئی تو ساحر بھی نہ صرف اس میں شرکت کرنے حیدرآباد گئے بلکہ ’’اردو کی جدید انقلابی شاعری‘‘ کے موضوع پر باقاعدہ مقالہ پیش کیا۔ خیال رہے کہ محض۲۳۔۲۴ سال کا نوجوان،  انقلابی شاعری پر مقالہ پڑھا رہا تھا۔ مقالہ پسند کیا گیا۔ ’روشنائی‘ میں سجادظہیر نے لکھا:
’’پنجاب سے کانفرنس میں شریک ہونے کے لئے ساحرلدھیانوی آئے تھے۔ انہوں نے اردو کی جدید انقلابی شاعری پر ایک چھوٹا سا لیکن دلچسپ مقالہ لکھا تھا۔‘‘ اس مقالہ اور اسی کانفرنس میں منعقدہ مشاعرے میں ساحر کی مقبولیت، رومانیت اور حقیقت کو دیکھتے ہوئے سجادظہیر نے اُنہیں اپنے مخصوص حلقۂ یاراں میں شامل کرلیا۔ حیدرآباد کا ترقی پسندکانفرنس، ترقی پسندوں کی محبت اور سجاد ظہیر کی محبت و شفقت نے ساحر کے دل و دماغ اور فکر وتخیل پر کافی اثر ڈالا۔ چند ہی دنوں کے بعد جب انہوں نے  ریڈیو پر ایک نظم ’آج‘ پڑھی تو یہ نظم خوب مقبول ہوئی جو ایک نئے ساحر کو متعارف کرا رہی تھی۔
مئی ۱۹۴۹ء میں ساحر نے انجمن کی بھیمڑی کانفرنس میں بھی شرکت کی، احمدآباد اور مالیگاؤں کی کانفرنس میں بھی شرکت۔ غرضیکہ اب وہ ترقی پسند تحریک، ترقی پسند شعر و ادب کا ناگزیر حصہ بن چکے تھے اور بھیمڑی کانفرنس کے بعد مستقل طور پر بمبئی میں قیام کرنے لگے تھے۔ ساحر کا شمار اب سردار جعفری، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی وغیرہ کے ساتھ ہونے لگا تھا۔ یہ سب کے سب رومانیت، رومانی اشتراکیت اور   انقلابیت کے حوالے سے اپنی الگ الگ پہچان بنا رہے تھے۔  مالیگاؤں کانفرنس سے متعلق سجاد ظہیر نے لکھا: ’’مالیگاؤں کو بمبئی سے جو شاعروں اور ادیبوں کا قافلہ گیا ( مجاز، ساحر، سردار، کیفی، سجاد ظہیر وغیرہ) ان میں ساغر نظامی بھی تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK