• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دسمبر میں کیلنڈر اُتار کر رکھ لیا جاتا، بعد میں اس کے صفحات سے پتنگ بنائے جاتے

Updated: January 18, 2026, 4:08 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai

گائوں کے بچے مویشیوں کو چرا گاہ لے جاتے وقت پتنگیں بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اُس وقت وہ بازاروں سے پتنگ نہیں خریدتے تھے بلکہ وہ خود بناتے تھے۔

Village children prefer to make their own kites rather than buying them from the market. Photo: INN
گاؤں کے بچے بازار سے پتنگ خریدنے کے بجائے خود پتنگ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

پتنگ بازی کا شغل گائوں اور شہر ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں پتنگ باز نہ ہوں۔ یہ شوق بچوں، نوجوانوں اور عمر رسیدہ افراد کے مابین دیکھنے کو ملتا ہے۔ گائوں کے بچے مویشیوں کو چرا گاہ لے جاتے وقت پتنگیں بھی اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اُس وقت وہ بازاروں سے پتنگ نہیں خریدتے تھے بلکہ وہ خود بناتے تھے۔ جنوری ماہ میں گزرے سال کا کیلنڈرجب ختم ہو جاتااور اُسے دیوار سے اُتار کر ایک کونے میں  رکھ دیا جاتا تو بچے اس کے صفحات سے پتنگیں تیار کرتے تھے۔ وہ اپنا اور دوستوں کے گھروں سے لایا ہوا پرانا کیلنڈرلے کر ایک جگہ جمع ہو جاتے تھے۔ وہیں خود سے گوند تیار کرتے۔ کوئی بچہ گھر میں رکھی کپڑا کاٹنے والی قینچی چھپا کر لاتا، سینک کیلئے کچھ بچے گھر میں رکھی جھاڑو چپکے سے اُٹھا لاتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب مل کر ڈھیر ساری پتنگے تیار کر لیتے تھے۔ گائوں کے بچوں کے ذریعہ بنائی جانے والی پتنگ کی خاص بات یہ ہوتی کہ اِس میں ایک دُم (پونچھ) بھی ہوا کرتی تھی۔ بچے پتنگ کے نچلے حصے میں ایک لمبی سی کاغذ کی پونچھ ضرور بناتے تھے۔ اُس وقت ان بچوں کے پاس بازار سے مانجھا خریدنے کے پیسے نہیں ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ وہ گھر میں سلائی کیلئے رکھے گئے دھاگا اُٹھا لاتے پھر گائوں کے کسی ٹیلے یا اونچی جگہ پر کھڑے ہوکر پتنگ آسمان میں اُڑا دیتے تھے۔ پتنگ جب آسمان کی اونچائی چھونے لگتی تواُس کی دُم ہوا کے دوش پر لہراتی، اِدھر زمین پر کھڑے بچے اُسے دیکھ کر خوشی سے جھومنے لگتے تھے۔ تیزہوا کے سبب اکثر سلائی کا کمزور دھاگا ٹوٹ جاتا اور پھر بچے کٹی پتنگ کا پیچھے کرتے... وہ آسمان میں لہراتی بل کھاتی پتنگ تک پہنچنے کیلئے زمین پر تیز قدموں سے دوڑتے۔ خیر اُن کی یہ دوڑ بھاگ اُس وقت ناکام ثابت ہوتی جبکہ پتنگ نیچے آکر کسی درخت کی ٹہنی میں پھنس جاتی، پہاڑ جیسا عزم رکھنے والے وہ بچے کہاں ہار ماننے والے تھے۔ وہ پیڑ پر چڑھ جاتے لیکن کھینچ تان میں پتنگ تو ہاتھ نہ آتی ... اُس کی پونچھ ضرور پکڑ میں آجاتی، پتنگ کے بغیر بھلا اُس کی دُم کس کام کی۔ 
گائوں کی وہ صبحیں بھی خوب تھیں جب نو عمر لڑکوں کی ٹولیاں کھیتوں اور چرا گاہوں کی طرف رواں  دواں ہوتی تھیں ۔ وہاں وہ پہلے ہی سے کسی خاص جگہ پر پتنگیں چھپا کر رکھ دیا کرتے تھے۔ پھر اپنے گروپ کے ساتھ وہاں پہنچتے اورخفیہ مقام پر رکھی گئی پتنگ نکالی جاتی۔ اگر کوئی ساتھی مانجھا لے کر پہنچ جاتا تو اُن کی خوشی ایسی ہوتی کہ گویا عید کا چاند نظر آ گیا ہو۔ کیونکہ گائوں کے بچوں کو اُس وقت مانجھا کہاں میسر تھا۔ وہ تو اُس وقت کپڑے اور بستر سلنے والے دھاگے کے سہارے تھے۔ وہاں اُس وقت’ وہ کاٹا‘ کا شور کم ہی اُٹھتا تھا بلکہ اکثر پتنگ کا دھاگاکمزور ہوتا تھا اور خود ہی ٹوٹ جاتاتو بچے چیختے’وہ دھاگا ٹوٹا‘۔ تیز ہوا سے کمزور دھاگا ضرور ٹوٹتا تھا لیکن اُن کی ہمت کبھی نہیں ٹوٹتی۔ وہ پتنگ اُڑانے کیلئے کوئی نہ کوئی انتظام کر ہی لیتے تھے۔ معمولی دھاگے سے پتنگ اُڑانے کا وہ شوق اچھا تھاکیونکہ اب تو چائنیز مانجھے سے لوگوں کی گردنیں کٹ رہی ہیں۔ چنانچہ پتنگ کی تو نہیں بلکہ زندگی کی ڈور کٹ رہی ہے۔ 
پتنگ تیار کرتے کرتے گائوں کے نوجوان مانجھا اور چرخی وغیرہ بھی تیار کرنے لگے۔ چرخی بنانا تو اُن کیلئے مشکل نہیں تھا...گائوں میں لکڑیاں موجود ہی تھیں لیکن مانجھا بنانا مشکل کام تھا۔ گائوں  میں اُس وقت مانجھا کچھ اس طرح تیار ہوتا تھا .... سوتی دھاگے کی ریلیں یا گولا لیا جاتا ہے اور اسے کسی بھی سہارے یا درختوں کے گرد گھما دیا جاتا، جس طرح بجلی کے تار ایک کھمبے سے دوسرے کھمبے تک لگائے جاتے ہیں۔ پھر چاول لے کر اسے ابالا جاتا، شیشوں کے ٹکڑےلے کر باریک کوٹ کراُسے ابلے ہوئے چاولوں میں ملا دیا جاتا اور کپڑے رنگنے والے رنگ سے اُسے رنگ دیا جاتا تھا۔ پھر اُبلے ہوئے چاول اور شیشے کے ٹکڑوں  کو دستانے پہن کر دھاگوں  میں لگا کر مانجھا تیار کیا جاتا تھا۔ سوکھنے کے بعد اسے چرخی میں  لپیٹ دیا جاتا تھا۔ خود سے تیار ہونے والا یہ مانجھا معمولی سی رگڑ پر دوسرے مانجھے کو کاٹ دیتا تھا۔ 
یہ توہوئی گائوں کی پتنگ بازی اب ذرا نوابین اودھ کا شوق دیکھئے.. کہا جاتا ہے کہ نوابین اودھ پتنگ بازی کے ذریعے غرباء پروری کرتے تھے۔ پتنگوں میں سونے چاندی کے تار یا ہیرے جواہرات لگا کر اڑاتے تھے۔ پتنگ کٹ جانے پر اس کو چھوڑ دیتے تھے جو غریبوں تک پہنچ جاتی تھی اور اس سے غریبوں کی امداد ہوا کرتی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک نواب صاحب کی طبیعت خراب ہوئی تو حکیم نے ان کو پتنگ بازی کا مشورہ دیا، نواب صاحب پتنگ بازی کرنے لگے اور وہ صحت مند ہو گئے۔ اسی دور سے لکھنؤ میں پتنگ بازی کا شوق کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور آج بھی اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بڑی تعداد میں پتنگ بازی سے شوق کرنے والے افراد موجود ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK