Inquilab Logo Happiest Places to Work

اہل جنت میں شامل ہونے کیلئے آج ہی اپنا احتساب کرلیجئے

Updated: March 05, 2026, 2:55 PM IST | Dr. Bushra Tabassum | Mumbai

ہم صغیرہ و کبیرہ، ظاہر ی و باطنی،جانے اَن جانے، کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگتے تو ہیں اور آپس میں ’ کہا سنا معاف کرنا‘ بھی عادتاً دُہرا لیتے ہیں، لیکن اس جملے کی روح سے بے گانہ رہتے ہیں۔

Our faith demands that we become our own accountants and think about whether we have prepared anything. Photo: INN
ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم خود اپنے محاسب بنیں اور سوچیں کہ کیا ہم نے کچھ تیاری کی ہے؟۔ تصویر: آئی این این

مقبول روزے کی شرط ایمان اور احتساب ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنا احتساب اور اِصلاح کیسے ہو؟ احتساب دراصل اپنے مومنانہ معیار کو بلند کرنے کی طرف متوجہ ہونا ہے۔
ہم بُری بھلی زندگی تو گزارتے ہیں مگر اس بات پر دھیان نہیں دیتے کہ کمی کہاں ہے؟خطا کیا ہے؟گناہ کیا ہیں ؟ اور ان میں ہمارا نفس کتنا آلودہ ہے؟ نیکی کے تھیلے میں کتنے سوراخ ہیں ؟ وہ سب کچھ نظروں سے اوجھل رہتا ہے جن سے نیکی کا معیار ناقص ہو جاتا ہے۔
 ہم صغیرہ و کبیرہ، ظاہر ی و باطنی،جانے اَن جانے، کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگتے تو ہیں اور آپس میں ’ کہا سنا معاف کرنا‘ بھی عادتاً دُہرا لیتے ہیں، لیکن اس جملے کی روح سے بے گانہ رہتے ہیں۔ کوئی ندامت کا جذبہ اس جملے کے ساتھ نہیں ہوتا۔ نہ دل کی دنیا میں شرمندگی کا جوار بھاٹا اٹھتا ہے، اور جواب دہی کے خوف کی برکھا تو کیا برسنی ہے، آنکھوں میں نمی تک نہیں آتی۔ اور دوسرا تضاد یہ ہے کہ لوگوں کے بڑے بڑے گناہوں پہ ہماری نظر رہتی ہے، مگر اپنے گناہ اور نافرمانیاں معمولی لگتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۱): ایسا لگتا ہے کہ روزہ بھی’ آن لائن‘ رکھا جا رہا ہے!

فکر کرنے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ کیا ہم حقوق اللہ،حقوق العباد کی ادائیگی میں معیار کا بھی خیال رکھتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نیکی کے معاملے میں کم تر معیار پہ راضی ہونے کی عادت میں مبتلا ہیں اور دنیا کی خواہشات کیلئے معیار اعلیٰ ترین ہے؟ نیکی میں اپنے سے کم معیار کے لوگوں میں میل جول رکھنے کی وجہ سے اپنی معمولی نیکیاں اور کم تر عبادتیں بھی بہت اعلیٰ لگتی ہیں، اور اپنے متقی ہو جانے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں :
’’ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے؟‘‘ (النجم:۳۲)
میزان اسی لئے تو رکھی جائے گی کہ دنیا کی چاہت کے پلڑے میں وزن زیادہ ہے یا آخرت کی چاہت میں ؟ دل کی سچی اور کھری چاہت اور نیت پر ہی اعمال کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تلقین کی:
’’ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو ، اور ہرشخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کیلئے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔‘‘ (الحشر:۱۸)
اور اگر مومن اس معیار کا جائزہ لینے سے غافل ہوتا ہے تو نتیجتاً یہ معاملہ سامنے آتا ہے:
’’ اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجائو جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انھیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔‘‘ (الحشر:۱۹) 

یہ بھی پڑھئے: استغفار روح کی سسکی ہے جو عرش الٰہی کے کنگوروں تک پہنچتی ہے!

اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ:
’’ دوزخ میں جانے والے اور جنّت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے، جنّت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔‘‘ (الحشر:۲۰)
اہل جنت میں شامل ہونے کے لئے آج اور ابھی اپنا بے لاگ احتساب کرنا ہوگا اور کل کے لئے نیکیاں جمع کرنی ہوں گی اور نیکی کا معیار بھی بلند رکھنا ہوگا تاکہ انبیاؑ کی رفاقت نصیب ہو۔
محاسبہ یا احتساب، بہتر سے بہترین کا سفر ہے اور اس سفر کی منزل جنت ہے۔ ایمان بڑھتا ہے تو احتساب کی طلب بھی بڑھتی جاتی ہے اور جب احتساب کی لگن زندگی کی لذت بن جاتی ہے تو ایمان میں اضافہ ہوتا رہتاہے۔ گویا ایمان و احتساب لازم و ملزوم ہیں۔ ایمان کا پیمانہ وہی ہوگا، جو احتساب کا ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: قومِ نوحؑ، قومِ صالح، ؑ حضراتِ ابراہیمؑ، شعیبؑ، موسیٰ اؑور یوسفؑ کے واقعات سنئے

احتساب اور تزکیۂ  نفس
احتساب خوب سے خوب تر کی تلاش ہے۔ نصب العین کے حصول کی کوشش کرتےہوئے جو کمی، کوتاہی ہوجائے اس کا بروقت تدارک کرنا احتساب ہے۔ جو غلطی ہوجائے اس کو آگے بڑھنے سے پہلے درست کر لینا احتساب ہے، تاکہ جب مالک کے سامنے کام کی رپورٹ پیش کرنے حاضر ہوں تو مالک خوش ہو جائے۔ اس کو قرآنی زبان میں ’تزکیۂ نفس‘ کہتے ہیں اور  تمام انبیاء ؑ ـ بھی نفوس کے تزکیہ کے لئے مبعوث فرمائے گئے۔
ہمارا ایمان ہے کہ رب کائنات کے حضور پیشی کسی بھی لمحے متوقع ہے اور اس کی نگاہوں سے کسی بھی لمحے ہم اور ہمارے اعمال اوجھل نہیں ہو سکتے۔ اس ربّ کی عظمت کا احساس، اس کی ذات کی پہچان، اس کی رحمت کا عرفان جس قدر دل میں جاگزیں ہوگا، اسی قدر مومن:  ’’ہرنفس یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا سامان کیا ہے‘‘ کی حقیقت سے واقف ہوگا اور اس پر ہر لمحے جواب دہی کا خوف غالب رہے گا۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے۔
ایمان کا پہلا محاسبہ یہ ہے کہ توحید کا عرفان ہو۔ ’اللہ ایک ہے‘،یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اس کی ذات پہ ایمان بالغیب کے تقاضے ہر شق اور ہر شرط کے ساتھ پورا کرناہی اس کو ’ایک ماننا ہے‘۔ شرکِ خفی اور شرکِ جلی کا علم درست اور مکمل ہونا چاہئے۔ شرک تو کسی صورت معاف نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ماہِ رمضان قرآن سے تجدید تعلق کا بہترین موقع

ہمارے ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم خود اپنے محاسب بنیں اور سوچیں کہ کل اپنے ربّ کے حضور پیش ہوکر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا حساب دینے کیلئے کیا تیاری کر رکھی ہے؟  ہرنفس یہ دیکھے کہ اس نے کل کیلئے کیا سامان کیا ہے‘‘ کی تلقین ہمیں بہتر سے بہترین کی طرف راغب کرنا ہے۔ اس دن جب ذرہ برابر نیکی اور بدی سامنے لائی جائے گی اور کسی پہ ظلم نہ کیا جائے گا۔جب حکم ہوگا:’’ پڑھ اپنا نامۂ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘ ( بنی اسرائیل :۱۴)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK