ہمیں کافی خوشی ہوئی کیونکہ ایسے ہی لوگ ہیں جو فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بناکر گنگاجمنی تہذیب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 05, 2026, 2:47 PM IST | Sajid Khan | Mumbai
ہمیں کافی خوشی ہوئی کیونکہ ایسے ہی لوگ ہیں جو فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بناکر گنگاجمنی تہذیب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
لکھنؤ یونیورسٹی میں لال بارہ دری میں واقع مسجد کو سیٖل کئے جانے کے خلاف برادرانِ وطن سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے انسانی زنجیر بناکر نماز اور افطار کا نظم کیا جس سے شرپسندوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ اسی نوع کا ایک واقعہ مالیگاؤں میں بھی ہوا جہاں نماز کا وقت ہونے پر چند افراد نے میونسپل کارپوریشن کے ایک محکمہ کے دفتر میں باجماعت نماز اداکی جس کا کسی نے ویڈیو بناکر وائرل کردیا ۔ اس پر شرپسندوں کو موقع مل گیا اور انہوں نے خوب واویلامچایا۔
یہ اور دیگر کچھ واقعات ہیں جوذرائع ابلاغ میں جگہ پانے کی وجہ سے سامنے آئے ہیں لیکن ایسے کئی معاملات پیش آئے یا آرہے ہیں جو مقامی سطح پر ہوتے ہیں لیکن سیکولر ذہنیت کے بااثر افراد کی وجہ سے تنازع بڑھ نہیں پاتا اور فرقہ پرستوں کو کھل کھیلنے کا موقع نہیں مل پاتا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۳): مسجدوں میں جگہ، کرسی اور قرآن کریم کے نسخے…
نیرل میں، جہاں راقم رہائش پزیر ہے ، وہ مشرقی جانب کا واحد ایسا کمپلیکس ہے جہاں صد فیصد مکین مسلمان ہیں۔ وہاں مسجد تو نہیں ہے لیکن ایک عمارت کے گراؤنڈ فلورکے وسیع کمرے میں نمازپنچگا نہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہی شرپسندوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ چند مہینوں قبل ایک شرپسند نے علاقے کی کسی اور جگہ جہاں اسی طرح نماز کا اہتمام کیا جارہا تھا ، کے خلاف اعتراض اور شکایت کی تھی جس سے کچھ کشیدگی پیدا ہوئی اور راقم کے علاقہ میں بھی اس کا اثر نظر آیا، تاہم مسلمانوں کی سمجھداری سے معاملہ رفع دفع ہوگیا۔
یہ سمجھداری بہت بڑی چیز ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اب اس کا مظاہرہ بار بار دیکھنے کو ملتا ہے۔
۴؍ رمضان المبارک، دن : اتوار
وقت : صبح ۱۰؍بجکر۳۵؍منٹ ، مقام : نیرل
میرے دوست یوسف سہد حال ہی میں پنچایت سمیتی کے الیکشن میں شاندار فتح حاصل کرنے والے امیدواربھگوان بال کرشن چنچے سے میری ملاقات کروانا چاہتے تھے۔ اتوار کی صبح سوا دس بجے ان کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ ساڑھے دس بجے ملاقات کرنی ہے۔ راقم اپنے ایک دوست ایوب انعامدارکے ہمراہ قریب ہی واقع ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھگوان چنچے کی عالیشان رہائش گاہ پہنچ گیا۔ انہوں نے پُرتپاک استقبال کیا۔ مراٹھی میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس جگہ جہاں راقم رہائش پزیر ہے ، کے بارے میں بتایا کہ’’ لوگ اعتراض کررہے تھے کہ وہاں لوگ نماز پڑھتے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ نماز پڑھتے ہیں توکیا ہوا ، وہ ’پرارتھنا‘ ہی تو کررہے ہیں اور وہ لوگ کہیں باہر سے نہیں آئے ہیں، یہیں (اسی ملک میں) پیدا ہوئے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۲): کھانے پینے کی ایسی کون سی نعمت ہے جو یہاں دستیاب نہیں !
بھگوان چنچے کی اس بات سے ہمیں کافی خوشی ہوئی کیونکہ ایسے ہی لوگ ہیں جو فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بناکر گنگاجمنی تہذیب کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے افراد ہر جگہ پائے جاتے ہیں جن کی حوصلہ افزائی اور پزیرائی کی جانی چاہئے۔ مختصر گفتگو کے بعد ہم نے وہاں سے رخصت لی۔
۹؍رمضان المبارک ، دن : جمعہ ،
وقت : رات ۱۱؍ بجکر۲۱؍ منٹ ، مقام : کرلاپائپ روڈ
آفس کے ڈراپ سے کرلا اسٹیشن کے قریب پہنچا۔ ٹرین آنے میں کافی وقت تھا ۔ یاد آیا کہ رمضان میں مالپوا گھرلے جاتا تھا۔ تیزی سے پائپ روڈ پہنچا جہاں برہمن واڑی کی طرف جانے والے راستے پر مالپوا بنانے اور بیچنے والا موجود تھا۔ دکاندار نے بتایا کہ ڈبل مالپوا ۲۲۰؍ کا اور سنگل ۱۶۰؍ روپے کا ہے۔ وہاں مختلف قسم کی فیرنی بھی تھی۔ کچھ سوچ کر ڈبل مالپوا کا آرڈردیا۔ دام کچھ زیادہ لگنے پر سوچنے لگا کہ گزشتہ سال قیمت کیا تھی لیکن یاد نہ آیا تو دکاندار سے پوچھ لیا۔ اس نےکہا کہ مالپوا پر ۱۰؍ روپے اور فیرنی پر ۵؍ روپے بڑھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۱): ایسا لگتا ہے کہ روزہ بھی’ آن لائن‘ رکھا جا رہا ہے!
دیگر گاہک بھی آ کر آرڈر دینے لگے۔ مالپوا بن جانے پر دکاندار نے فوئل میں لپیٹ کر مجھے دے دیا۔ گھر پہنچنے کے بعد بیگ سے مالپوا نکالا تو اہل خانہ کو یاد آیا کہ رمضان میں اس کی فرمائش کی جاتی تھی اور بڑے شوق سے نوش کیا جاتا تھا۔
مالپوا کھانے کے بعد اہل خانہ سے پوچھا تو جواب ملا کہ ایک ٹکڑا منہ میں رکھنے کے بعد ہی پتہ چل گیا تھا کہ اس کی لذت گزشتہ سال کے مالپوا جیسی نہیں ہے۔ یہ چیز میں نے بھی محسوس کی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ گزشتہ سال والے بزرگ اس بار نہیں تھے ۔ ان کے مالپوا کی لذت کچھ اور تھی۔ سوچا کہ اگلی بار جاؤں گاتو دکاندار سے معلوم کروں گا۔