جاڑےکے دن ہیں۔ موسم کے حساب سے گائوں میں پھیری لگانے والے بھی بدل جاتے ہیں۔ اِس موسم میں گرم کپڑے، شال اور رضائی کا گٹھر لادے پھیری والے اِدھر سے اُدھر پھرا کرتے ہیں۔
EPAPER
Updated: December 14, 2025, 12:56 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
جاڑےکے دن ہیں۔ موسم کے حساب سے گائوں میں پھیری لگانے والے بھی بدل جاتے ہیں۔ اِس موسم میں گرم کپڑے، شال اور رضائی کا گٹھر لادے پھیری والے اِدھر سے اُدھر پھرا کرتے ہیں۔
دوپہر کا وقت تھا۔ تیز دھوپ نکل آئی تھی۔ لوگ الائو چھوڑ کر کھیتوں کی طرف نکل پڑے تھے۔ یہاں اب گیہوں کی سینچائی کا کام شروع ہوگیا تھا۔ کچھ کسان جو دھان وقت پر نہیں کاٹ سکے تھے وہ گیہوں کی بوائی میں پیچھے رہ گئے تھے۔ چنانچہ وہ جلدی جلدی گیہوں کی بوائی کا انتظام کر رہے تھے۔ گائوں میں اچھی کھیتی کرنے کیلئے کسانوں میں مقابلہ آرائی ہوتی ہے، ہر کسان ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے اضافی محنت کرتاہے۔ بعض کسان اچھی فصل کیلئے جو کھاد استعمال کرتے ہیں وہ دوسرے کو نہیں بتاتے کیونکہ فصل کی پیداوار میں وہ اول مقام سے پیچھے ہوجائیں گے، پھر چوراہے پر ان کی چرچا نہیں ہوگی۔ اسلئے اچھی کھیتی کیلئے محنت کے ساتھ خوب حکمت سے کام لیتے ہیں تاکہ بازار کے چائے خانوں کی خبروں میں ان کو برابر جگہ ملتی رہے۔
جاڑےکے دن ہیں۔ موسم کے حساب سے گائوں میں پھیری لگانے والے بھی بدل جاتے ہیں۔ اِس موسم میں گرم کپڑے، شال اور رضائی کا گٹھر لادے پھیری والے اِدھر سے اُدھر پھرا کرتے ہیں۔ پہلے وہ سائیکل سے آتے تھے، اب موٹر سائیکل پر چلتے ہیں۔ پہلے وہ آواز لگاتے تھے لے لو بھیا سستی رضائی، کمبل اور گرم کپڑے۔ اب وہ خاموش رہتے ہیں لیکن گاڑی میں لگا مائیک جو ان کے موبائل سے کنکٹ ہے اور بڑے ہی سلیقے سے پھیری والی اشیاء کا تعارف کراتا ہے۔ بیچ بیچ میں گانا بھی بجتا ہے ... بڑی دور سے آئے ہیں ..پیار کا تحفہ لائے ہیں .... پھیری والوں کے خاص گاہک گائوں کی خواتین ہوا کرتی ہیں۔ خریدیں بھلے نہ لیکن رُکوا کر رنگ برنگی شالیں اور گرم کپڑے ضرور دیکھتی ہیں۔ ہمارے علاقے کے ایک پُرانے پھیری والے ہیں، وہ کہتے ہیں اگر خواتین دیر تک کپڑے اُلٹ پلٹ کر دیکھتی ہیں توہم سمجھ جاتے ہیں کہ بس وقت ضائع ہو رہا ہے یہاں مال بکِنا نہیں ہے ...لیکن ہم بیچنے والوں کی مجبوری ہے کہ کپڑے دکھانے سے انکار نہیں کرسکتے۔ پورا گٹھر دیکھنے کے بعد ایسی خواتین آخر میں کچھ ایسا ڈیزائن بتادیں گی کہ وہ ڈیزائن شاید ہی کسی فیکٹری میں تیار ہوتا ہو۔ پھر کہتی ہیں ...بھیا اگلی بار لائیے گا... ضرور لیں گے ہمیں وہ ڈیزائن بہت پسند ہے۔ دل تو یہی کہتا ہے کہ کہہ دیں ...بہن جی وہ ڈیزائن کہاں ملتا ہے بس اُس فیکٹری کا پتہ بتا دیجئے اور مجھ سے یہ پورا گٹھر مفت لے لیجئے۔
اُس روز لوگ دھوپ نکلنےکے ساتھ الائو چھوڑکر اُٹھ رہے تھے۔ روز مرہ کےکام جلدی جلدی نمٹانے کی فکر میں تھے۔ اسی درمیان گائوں کی گلیوں سے ایک آواز بلند ہوئی ’چھوٹا موبائل دینے پر چھوٹا سامان اور بڑا موبائل دینے پر بڑا سامان ‘ لے لو۔ قریب آنے پر دیکھا ایک کمسن لڑکا سائیکل کے پیچھے گٹھری باندھے اسٹیل کا برتن لئے چلا آرہا تھا۔ موبائل سے فوٹو نکالنے پر گھبرا تے ہوئے کہا ...بھیا میرا فوٹو نہ نکالئے کہیں میرے باپ تک مرا فوٹو پہنچ گیا تو مجھ سے یہ میرا کام چھوٹ جائےگا ... پاس میں کھڑے چچا میاں نے سوال کیا ...گھر سے بھاگ کر آئے ہو کیا؟... نہیں چاچا جی میں بھاگ کر نہیں آیا ہوں ...میرا باپ شراب پیتا ہے اور مجھے و میری ماں کو مارتا پیٹتا تھا۔ روز روز کی ذہنی اور جسمانی اذیت سے تنگ آکر میں نے گائوں چھوڑ دیا۔ میرا تعلق قنوج ضلع سے ہے۔ ا ب میں یہاں اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہوں اور یہ پھیری لگا کر موبائل کے عوض میں لوگوں کو اسٹیل کا برتن دیتا ہوں۔ اس طرح اپنی اور ماں کی کفالت کرتا ہوں۔ کمسن کاندھے پر بڑی ذمہ داری کے سبب اس کی باتوں میں مایوسی تھی۔ کئی سو کلو میٹر دور ہونے کے بعد بھی اسے خوف تھا کہ کہیں اُس کا باپ اُسے یہاں سے لے کر اُس کے ساتھ پھر مارپیٹ کا لا متناہی سلسلہ نہ شروع کردے۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل اور اس کی امید ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کے کروڑوں نوجوان بھی ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ آج کل نوجوانوں کیبڑی تعداد خود اپنے مستقبل کے تئیں مایوس نظر آتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔
کپڑے، برتن اور دیگر اشیائے ضروریہ لے کر پھیری لگانے والے تو نظر آجاتے ہیں لیکن اب گائوں کی گلیوں میں روئی دھننے والوں کی آوازیں نہیں سنائی دیتیں۔ ایک وقت تھا جب آواز سنتے ہی اُن کے پاس کام کا ڈھیر لگ جاتا تھا۔ اُس وقت ہاتھ سے روئی کی نرم گرم رضائیوں کی بڑی مانگ تھی۔ سردی کا سارا سیزن دھنیے کو فرصت نہیں ملتی تھی، جن کی دکانیں تھیں وہ وہاں مصروف اور جو چل پھر کام کرتے تھے اُن کو بس آواز لگانے کی دیر تھی۔ اب تو لوگ مشین سے بنی رضائیاں استعمال کرتے ہیں، کسی کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ وہ گھنٹوں رضائی تیار کرنے کا انتظار کرے اور نہ ہی اب وہ روایتی کاریگر باقی رہ گئے ہیں۔ مصنوعی اور مشین سے بنی رضائیوں کے بازار میں آنے سے دُھنیے کا کاروبار اب تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ یوں تو رضائی مشین کی ہو یا ہاتھ سے بنی، سردی کی روک تھام اس کا اصل مقصد ہے لیکن نئی روایات کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ پرانی روایات کو زندہ رکھنا بھی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔