Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل، پاکستان کو باجگزار ریاست میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے: وزیر دفاع خواجہ آصف

Updated: March 04, 2026, 5:04 PM IST | Islamabad

پاکستانی وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ، ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جسے انہوں نے ”صہیونی مفادات“ قرار دیا۔ اس کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں کے قریب تک لانا ہے۔

Khawaja Asif. Photo: X
خواجہ آصف۔ تصویر: ایکس

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اپنا اثر و رسوخ پاکستان تک بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان، ایران اور ہندوستان سمیت پڑوسی ممالک اسلام آباد کے خلاف متحد ہو رہے ہیں۔ 

منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کئے گئے اپنے پوسٹ میں آصف نے الزام لگایا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ، ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے انہوں نے ”صہیونی مفادات“ قرار دیا۔ ان کے بقول، ایران کے مذاکرات کے لئے تیار ہونے کے باوجود یہ جنگ اسلامی ملک پر مسلط کی گئی اور اس کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں کے قریب تک لانا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستانی صدر زرداری کا دعویٰ: ہندوستان ’ایک اور جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے؛ کشمیر پر مذاکرات کی اپیل

خواجہ آصف نے دلیل دی کہ ۱۹۴۸ء سے اب تک عالمِ اسلام میں ہونے والے تنازعات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ’صہیونی نظریہ‘ سے منسلک رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان، ایران اور ہندوستان پر پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپنانے کا الزام بھی لگایا۔

آصف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ”اس حکمت عملی کے تحت، افغانستان، ایران اور ہندوستان کا مشترکہ یک نکاتی ایجنڈا پاکستان سے دشمنی کرنا، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، ہمیں چاروں طرف سے دشمنوں میں گھیرنا اور پاکستان کو باجگزار ریاست بنانا ہے۔“ انہوں نے پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اور مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے بقول ”ازلی دشمنوں“ کی اس وسیع تر سازش کے خلاف متحد ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو وارننگ: ایک شدت پسند کی جگہ دوسرا قابلِ قبول نہیں

پاکستانی وزیر دفاع کے یہ تبصرے، خطے میں کشیدہ حالات کے درمیان سامنے آئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاک-افغان سرحد پر کئی جھڑپوں اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں پر تنازعات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اسی دوران، کابل ہندوستان کے ساتھ سفارتی روابط مضبوط کر رہا ہے، جسے اسلام آباد شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حال ہی میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع تر تصادم کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK