گزشتہ دنوں جب میں ممبئی پہنچا تو وہاں ’انرسے‘کی دھوم تھی۔ گائوں سے ممبئی آنے والا ساتھ میں ’انرسا‘ ضرور لا رہا تھا۔ ہم سے ایک روز پہلے ممبئی پہنچنے والے مولانا تاجدار صاحب گائوں سے چھ کلو انرسا لے کر ممبئی آئے تھے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 9:52 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
گزشتہ دنوں جب میں ممبئی پہنچا تو وہاں ’انرسے‘کی دھوم تھی۔ گائوں سے ممبئی آنے والا ساتھ میں ’انرسا‘ ضرور لا رہا تھا۔ ہم سے ایک روز پہلے ممبئی پہنچنے والے مولانا تاجدار صاحب گائوں سے چھ کلو انرسا لے کر ممبئی آئے تھے۔
گزشتہ دنوں جب میں ممبئی پہنچا تو وہاں ’انرسے‘کی دھوم تھی۔ گائوں سے ممبئی آنے والا ساتھ میں ’انرسا‘ ضرور لا رہا تھا۔ ہم سے ایک روز پہلے ممبئی پہنچنے والے مولانا تاجدار صاحب گائوں سے چھ کلو انرسا لے کر ممبئی آئے تھے۔ یہاں پہنچ کر اُس کو تقسیم کرنے کا مرحلہ اُن کیلئے بڑا سخت تھا۔ دو کلو انرسا قلابہ لے کر جانا تھا۔ ایک کلو انرسا گھاٹ کوپر میں کسی کے یہاں دینا تھا اور پھر ایک کلو انرسا لے کر انہیں تھانے کی طرف بھاگنا تھا۔ ہاں اس کو بھاگنا ہی کہئے کیونکہ وہ بہت کم وقت کیلئے ممبئی آئے تھے۔ انرسا نہ ہوا میرے لئے مصیبت بن گیا ہے۔ دو دن سے اسے لے کر ممبئی کا چکر لگا رہا ہوں۔ ماتھا سکوڑتے ہوئے انہوں نے قدرے جھنجھلاہٹ میں کہا۔ یہ سن کر مجھ سے رہا نہ گیا ...میں نے کہا جناب والا شکر ادا کیجئے یہ انرسا آپ کو ممبئی کی سیر کرا رہا ہے۔ بتائیے کیا انرسے کے بغیر اب اِن علاقوں کا رُخ کرتے۔ پاس میں کھڑے حافظ رئیس الدین خان صاحب بول پڑے ...ارے بھئی گائوں والوں کا خیال تو کرنا ہی پڑے گا۔ اس بار مولانا تاجدار صاحب کو اپنے گائوں کا(دیواسہ، پرتاپ گڑھ) کا پردھان بننا ہے۔ ہاں بات تو درست ہے کہ اگر کسی کو گائوں کا پردھان بننا ہے تو اسے ممبئی کے چکر ضرور لگانے پڑیں گے کیونکہ گائوں کی ایک بڑی تعداد ممبئی میں جو بستی ہے۔ پاس میں کھڑے ان کے گائوں کے ایک دوسرے صاحب بول پڑے۔ گزشتہ دنوں جب میں وڈالا میں اپنے گائوں کے لوگوں سے ملنے پہنچا تو وہاں بھی انرسے کے چرچے تھے۔ عتیق بھائی بتانے لگے شہر یار صاحب کوئی ۱۵؍ کلو انرسا لے کر الٰہ آباد سے روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ سُن کر پاس میں کھڑے شوکت صاحب کہنے لگے کہ کیا پردھانی لڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ بغل میں پان لگارہےدوبے جی کہنے لگے بھیا اس پندرہ کلو میں تین کلو تو ہمارا ہے۔ ہم تو اُس گائوں کے ووٹر بھی نہیں ہیں۔ شہریار بھیا پریم بھائو سے لا رہے ہیں بے وجہ آپ لوگ ان پر پردھانی کا ماحول بنانے کا الزام لگا رہے ہیں۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ گائوں میں جس سے برسوں ملاقات نہ ہوئی ہو تو آپ ممبئی چلے جائیے، وہاں گائوں کے بچھڑے دوست مل جائیں گے۔ میرے اپنے ذاتی تجربے کے مطابق وہاں گائوں سے زیادہ عزت اور پیار محبت بھی دیں گے۔ شالیمار، اولمپیا اور ڈائمنڈ جیسے ہوٹلوں سے کم میں آپ کی ضیافت نہیں ہوگی۔ واپسی میں افلاطون اور نان خطائی بھی کلو دو کلو باندھ ہی دیں گے۔ یہ شہر مصروف تو بہت ہے اور یہاں کے لوگوں کے پاس وقت بھی کم ہوتا ہے لیکن یہ بیمار، پریشان حال اور ضروتمندوں کی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ مجھے بہت کم شہروں میں گھومنے کا موقع ملا ہے لیکن میں جہاں بھی گیااُن شہروں میں جو اپنائیت اور محبت ممبئی نے دی، کہیں اور میسر نہیں آئی۔ اس شہر کے لوگ محنت کرتے ہیں اور پیسے جمع کرتے ہیں تو وہ صرف اپنے اوپر نہیں خرچ کرتے بلکہ اپنے گائوں کا بھی خوب خیال کرتے ہیں۔ گائوں سے آنے والے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار دلانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سیلاب کا ڈر، گاؤں والے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے آشیانے کواُجاڑنے پر مجبور
ہاں تو بات انرسے کی ہو رہی تھی۔ تو گوش گزار کرتا چلوں کہ یہ انرسا ہمارے الٰہ آباد کی ہری سین گنج بازار کا بہت مشہور ہے۔ ویسے تو یوپی کے بہت سے شہروں اور قصبات میں یہ بنتا ہے لیکن ہری سین گنج کے انرسے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ دور دور سے آنے والے حلوائی یہاں سے انرسا خرید کر لے جاتے ہیں اور اپنی دکانوں پر فروخت کرتے ہیں۔ انرسا بارش کا موسم شروع ہونے کے ساتھ دکانوں پر بکنے کیلئے سجنے لگتا ہے اور موسم سرماں کے آتے آتے اس کی فروخت ختم ہو جاتی ہے۔ انرسے کی تیاری میں موسم کا بھی بڑا دخل ہے۔ ساون اور بھادو، یعنی جولائی سے ستمبر تک کا موسم نمی سے بھرا ہوتا ہے اور یہی نمی چاول کے آٹے کو اچھی طرح خمیر ہونے میں مدد دیتی ہے۔ جب آٹا خوب خمیر ہوجائے تو اس سے بننے والا انرسا جالی دار بھی ہوتا ہے اور خستہ بھی، یعنی ایسا کہ منہ میں رکھتے ہی ذائقہ بکھرنے لگے۔ انرسے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو ہمارے الٰہ آباد اور آس پاس کے علاقوں میں تیار ہوتا ہے۔ یہ ذرا سخت قسم کا ہوتا ہے اور اس کی جسامت بھی عموماً چھوٹی پوری کے برابر ہوتی ہے۔ اسے کھانے کیلئے دانتوں کو بھی ذرا محنت کرنا پڑتی ہے۔ خوب چبائیے، پھر نگلئے، تب کہیں جاکر انرسا آپ کے حلق سے نیچے اترے گا۔
اس کے مقابلے میں لکھنؤ میں فروخت ہونے والا انرسا بڑا نرم و نازک ہوتا ہے۔ گول، چھوٹا سا، بالکل چھوٹے رس گلے کی طرح، اور رنگ بھی کچھ ایسا ہی۔ اوپر سےتِل کے دانوں میں لپٹا ہوا۔ اسے دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کھانے میں بھی نفیس ہوگا۔ منہ میں رکھئے تو نرمی سے گھلتا چلا جاتا ہے اور ذائقہ ایسا کہ آدمی ایک کے بعد دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھائے بغیر نہیں رہتا۔ لکھنؤ کے اس نرم و نازک انرسے کو دیکھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید اسے نوابین اودھ نے تیار کرایا ہوگا کیونکہ ان کے مزاج کا اثر اس میں نمایاں ہے۔ ہمارے الٰہ آباد والے انرسے سے تو ایسا لگتا ہے جیسے اسے گاؤں کی مٹی میں پلا بڑھا کر مضبوط بنایا گیا ہوکیونکہ وہ کھانے اور نگلنے میں بھی ذرا محنت لیتا ہے، لیکن ذائقے کے معاملے میں دونوں کی اپنی الگ ہی بات ہے۔ ایک میں دیسی پن اور مضبوطی ہے تو دوسرے میں لکھنوی نزاکت اور نفاست۔ یہی تو ہمارے دیسی ذائقوں کی خوبصورتی ہے کہ ایک ہی مٹھائی، جگہ بدلتے ہی اپنا مزاج بھی بدل لیتی ہے۔