سیلاب زدہ علاقوں میں اس وقت کچے مکانوں پر آفت تو ہے ہی، لیکن پکے مکان بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ گنگا کے کنارے آباد فرخ آباد کے سیکڑوں گائوں سیلاب کی زد میں ہے۔
EPAPER
Updated: August 28, 2026, 3:37 PM IST | Ahsanul Haque | Mumbai
سیلاب زدہ علاقوں میں اس وقت کچے مکانوں پر آفت تو ہے ہی، لیکن پکے مکان بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ گنگا کے کنارے آباد فرخ آباد کے سیکڑوں گائوں سیلاب کی زد میں ہے۔
بارش اپنے ساتھ کتنے ہی کچے مکانوں کو بہا لے جاتی ہے یا اُنہیں منہدم کردیتی ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں اس وقت کچے مکانوں پر آفت تو ہے ہی، لیکن پکے مکان بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ گنگا کے کنارے آباد فرخ آباد کے سیکڑوں گائوں سیلاب کی زد میں ہے۔ جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے اوردرجنوں مکانوں کو نگل لیا ہے وہاں کے لوگوں کے پاس کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں ہے، لیکن جہاں ابھی تک سیلاب کا پانی نہیں پہنچا ہے وہاں کے لوگ پڑوسی گائوں کی تباہی دیکھ کر اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی آشیانے اجاڑنے پر مجبور ہیں۔ فرخ آباد کی صدر تحصیل میں واقع دلیپ کی مڑئیا گائوں کےلوگ اپنے مکان توڑ رہے ہیں۔ اینٹیں احتیاط سے نکالی جا رہی ہیں، سریا الگ کی جا رہی ہے اور جو کچھ بچایا جا سکتا ہے، اسے محفوظ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ وجہ صرف اتنی ہے کہ لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر سیلاب نے مکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو پھر نہ اینٹ بچے گی، نہ سریا ہاتھ آئے گی اور نہ وہ سامان جسے برسوں کی محنت سے جوڑا گیا تھا۔
ذرا تصور کیجئے کہ جس مکان کی ایک ایک اینٹ کسی مزدور کے پسینے سے جڑی ہو، جس کی تعمیر کے لئے گھر کے کسی فرد نے اپنی ضرورتیں روک کر پیسے جمع کئےہوں، کسی نےاناج بیچے ہوں، کسی نے مزدوری کی ہو اور کسی نے برسوں ایک ایک پائی بچائی ہو، آج وہی مکان اپنے ہاتھوں سے توڑنا پڑ رہا ہے۔ مکان صرف اینٹ، گارا اور سریا تو نہیں ہوتا، اس میں بچوں کی ہنسی، بزرگوں کی دعائیں، شادی بیاہ کی یادیں اور زندگی کے کتنے ہی موسم قید ہوتے ہیں، مگر اس آفت کا کیا جو سیلاب کی شکل میں آئی ہے۔ اسے کسی کی محنت سے کوئی لینا دینا نہیں کہ یہ دیوار کس کی محنت سے کھڑی ہوئی تھی اور اس چھت کے نیچے کتنے خواب پروان چڑھے تھے۔
گاؤں کے لوگ شاید اس حقیقت کو سب سے پہلے سمجھ لیتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے ہاتھوں سے وہ کام کر رہے ہیں جسے دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔ مکان توڑتے ہوئے شاید ان کے ہاتھ اینٹیں نکال رہے ہوں، مگر دل کے اندر کچھ اور ہی ٹوٹ رہا ہوگا۔ واقعی اس وقت فرخ آباد، انائو اور الٰہ آباد کے جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں کے لوگوں پر کیاافتاد پڑی یہ وہی بیان کر سکتے ہیں۔ مکان توڑنے، مویشیوں کو بچانے، انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کی جو تصویریں آرہی ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ اس سے زیادہ مشکل گھڑی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کو اپنے ہاتھوں سے اپنا آشیانہ اُجاڑنا پڑے۔ برسوں کی محنت سے بننے والے آشیانے پر جب کوئی شخص خود اپنے ہاتھ سے ہتھوڑا چلا کر اسے توڑ رہا ہوگا تو اس لمحے کی تکلیف کا اندازہ لگانا بھی آسان نہیں۔ برسوں کی محنت سیلاب کے ایک جھٹکے میں بہہ جانے پر کبھی کیفی اعظمی صاحب نے یہ شعر کہا تھا:
دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار
کچھ بستیاں یہاں تھیں، بتاؤ کدھر گئیں
ان دو مصرعوں میں سیلاب سے اجڑنے والی بستیوں کی پوری داستان ہے۔ آج فرخ آباد کے گنگا کنارے کھڑے ہو کر دیکھیں تو لگتا ہے جیسے لہروں سے یہی سوال پھر کیا جا رہا ہو کہ جن گھروں میں کل تک چولہے جل رہے تھے، جن صحنوں میں بچے کھیل رہے تھے، وہ بستیاں آخر کہاں گئیں۔ گنگا کنارے بسنے والوں کی زندگی شاید ہمیشہ سے پانی کے ساتھ سمجھوتے کا نام رہی ہے۔ کبھی یہی گنگا کھیتوں کو زندگی دیتی ہے، کبھی پیاس بجھاتی ہے اور کبھی سیلاب کی شکل میں انسان کو بے بسی کا احساس کرا دیتی ہے۔ مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہر سال سیلاب کا خطرہ جھیلنے والے ان لوگوں کیلئے مستقل اور محفوظ انتظام کب ہوگا۔
سیلاب کا پانی تو اُتر جائے گا، گنگا پھر اپنی معمول کی رفتار سے بہنے لگے گی، شاید کچھ عرصے بعد انہی مقامات پر دوبارہ چولہے جلنے لگیں، لیکن جو لوگ آج اپنے ہاتھوں سے اپنے مکان توڑ رہے ہیں، ان کے دل میں یہ سوال ضرور رہے گا کہ آخر کب تک ہمیں اپنے ہی مکان توڑنے پڑیں گے۔ ایسے ہی گاؤں کےرہنے والے راجو نے بتایا کہ اس سیلاب کی نذر گائوں کے زیادہ تر مکان ہو چکے ہیں۔ میرا مکان بچا تھا، اب توڑنا پڑرہا ہے۔ کشتی کے ذریعہ اینٹ اور سریا باہر لے جائیں گے۔ دیکھتے ہیں ، جہاں جگہ ملے گی وہاں مکان بنائیں گے۔ اس وقت تو بس اتنا ہے کہ پانی سے کتنی جلدی باہر نکل جائیں ، پھر دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں بھر آئیں۔ یہ مکانات کسی نے ایک سال پہلے تو کسی نے تین سال پہلے ہی بنائے تھے۔ گاؤں کے ہی ایک اور فرد سریش نےبتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال۵؍ لاکھ روپے خرچ کرکےگھر بنایا تھا، اسے اب خود ہی اُجاڑ رہے ہیں۔ وہیں انتظامیہ نے گنگا میں ڈوبنے والے مکان کے مالکان کو معاوضہ دینے کا یقین دلایا ہے۔
گاؤں کی مٹی سے جڑے یہ لوگ محنت کرنا جانتے ہیں، ٹوٹ کر دوبارہ کھڑا ہونا بھی جانتے ہیں، مگر حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کے حوصلوں کو بار بار آزمائش میں نہ ڈالے۔ سیلاب قدرتی آفت ضرور ہے، لیکن اس کے سامنے انسان کی بے بسی کو کم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ گنگا بہتی رہے، یہ ضروری ہے، مگر گنگا کے کنارے آباد انسان بھی اپنے گھروں، خوابوں اور امیدوں کے ساتھ محفوظ رہیں، شاید اس سے زیادہ ضروری کچھ نہیں۔