گلوبل وارمنگ اور اسلام

Updated: October 01, 2021, 1:55 PM IST | Hina Farheen Momin

قرآن کریم میں کم و بیش ۲۰۰؍ آیتیں ماحول سے متعلق ہیں جن سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ قدرتی ماحول کس طرح ہمارے لئے بیش بہا عطیۂ خداوندی ہے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اس دنیا کے بنانے والے حکیم مطلق نے اسے انتہائی حکیمانہ انداز سے مرتب کیا ہے۔خلاؤں کی بے کرانی میں موجود ستاروں اور کہکشاؤں کی حرکت ہو ،درختوں پہاڑوں اور دریاؤں کے پرکشش مناظر ہوں، طائروں کی دلکش ومترنم آواز ہو یا مختلف النوع حیوانات کی زندگی میں موجود نظم و ضبط، کائنات کی ہر شے زبان حال سے یہ بیان کر رہی ہے کہ اس کے تخلیق کار نے اسے کس بہترین ترتیب و توازن سے بنایا ہے کہ اس میں کہیں کوئی سقم یا کجی دکھائی نہیں دیتی، ساتھ ہی اس مہربان رب نے یہ بھی فرما دیا کہ توازن میں خلل نہ ڈالو۔( سورہ رحمٰن:۸) لیکن کیا کہئے حضرت انسان کی فطرتِ ہوس پرست کو کہ اس نے نت نئی آسائشوں کے حصول کو ممکن بنانے کے لئے اس حسین و متوازن کرۂ ارض کی ترتیب کو کچھ اس طرح بے ترتیب کر دیا کہ بے شمار معاشرتی، معاشی و ماحولیاتی مسائل صفحہ ہستی پر نمودار ہونا شروع ہو گئے۔ عالمی حدت ان ہی ماحولیاتی مسائل میں سے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ زیر نظر مضمون میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ عالمی حدت درحقیقت کیا ہے اور اس مسئلہ کو سلجھانے میں اسلام ہماری کیا رہنمائی کرتا ہے۔  ماجرا یوں ہے کہ عالمی حدت دنیا کے اوسط درجہ ٔ حرارت میں مسلسل اضافے کا نام ہے.جس کی بنیادی وجہ سبز گھر  اثرات (گرین ہاؤس ایفیکٹ) ہیں حالانکہ گرین ہاؤس ایفیکٹ فی نفسہ کوئی منفی مظہر نہیں ۔ یہ گیسوں کے ذریعے سورج کی تپش کو روکے رکھنے کا عمل ہے ، جس کے نہ ہونے پر دنیا کے منفی ۱۸؍ڈگری سیلسیئس پر جم جانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ مسئلہ اس اثر میں ہونے والا مسلسل اضافہ ہے جو مختلف انسانی سرگرمیوں کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کے بے تحاشا اخراج کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
    عالمی حدت کی ایک نسبتاً چھوٹی وجہ اوزون تہہ میں ہونے والی تخفیف بھی ہے جو ان ہی گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ اوزون تہہ دراصل ایک حفاظتی غلاف ہے جو کرۂ ہوا کی قائمہ تہہ میں موجود ہے، اور سورج کی ضرر رساں بالائے بنفشی شعاعوں کو ۹۹؍فیصد تک جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن گرین گیسیں قائمہ تہہ میں پہنچ کر اوزون کے ساتھ کیمیائی تعامل کرتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون گیس آکسیجن جوہر اور آکسیجن کے ایک آزاد سالمہ کی صورت میں ٹوٹ جاتی ہے۔جس سے بالائے بنفشی شعاعیں براہ راست زمین پر پہنچ کر نہ صرف جانداروں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ زمین کی حدت میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہیں۔درختوں کی بے تحاشہ کٹائی بھی کرہ ہوا میں سبز گھر گیسوں کے بڑھنے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔معلوم ہوا کہ مسئلہ کی جڑ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے جو بڑی مقدار میں روایتی ایندھن کے جلنے سے پیدا ہورہی ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ،  کلورو فلورو کاربن، میتھین ،فریونز اور ہیلونز وغیرہ گرین ہاؤس گیسیں کہلاتی ہیں ۔ عالمی حدت صرف اس دنیا میں گرمی بڑھ جانے کا نام نہیں ماہرین کا انتباہ ہے کہ اس کے اثرات اس قدر سنگین ہیں کہ دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو ختم ہو جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے گزشتہ صدی کے دوران سطح سمندر میں ۱۸؍سینٹی میٹر کا اضافہ ہو چکا ہے اور اس صدی کے خاتمے تک اس میں ایک میٹر تک کے اضافہ کا امکان ہے۔ عالمی حدت بڑھنے سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طوفان اور سیلاب تواتر کے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں آ رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مستقبل قریب میں عالمی تپش میں اضافے سے دنیا کے کچھ حصے قحط سالی کی زد میں ہوں گے اور کچھ حصے سیلابی علاقے بن جائیں گے۔قحط سالی کی وجہ سے بھکمری کے حالات پیدا ہوں گے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتیں واقع ہوں گی اسی طرح زیادہ بارش والے علاقوں میں زمینیں دلدلی بن جائینگی ،ان میں حشرات کی بہتات ہوگی جس سے بیماریاں پھیلیں گی اور اموات ہوں گی۔  عالمی حدت انسانی معیشت کو بھی بے حد نقصان پہنچا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق ۲۰۵۰ء تک  ۲۵۰؍  ملین لوگوں کو موسمی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑےگی کیونکہ سطح سمندر میں اضافے سے سیکڑوں جزائر اور ساحلوں پر آباد علاقے زیر آب آ جائیں گے۔ عالمی حدت صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دیگر حیاتی?تنوع کے لئے بھی بے حد تباہ کن ہےکیونکہ درجۂ حرارت میں اضافے کی وجہ سے تمام ماحولیاتی نظام میں بڑی تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں اور اس نظام  میں موجود جانداروں کو غذا کی تلاش میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔  آئیے اس مسئلہ کو ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ ایمان ہے کہ دین اسلام ہی وہ ضابطہ حیات ہے جو ہمیں گود سے گور تک زندگی بسر کرنے کی سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مندرجہ بالا پیش کردہ حقائق کی روشنی میں یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ اس مسئلہ کا اصل سبب گرین ہاؤس گیسوں کا بے تحاشہ اخراج ہے۔آخر ان سبز گھر گیسوں کے اخراج کی وجہ کیا ہے ؟معدنی ایندھن کا احتراق! اور یہ کیوں ہو رہا ہے کیونکہ کوئلے اور تیل پر ہی عالمی معیشتوں کا استحکام قائم ہے۔مان لیجئے کہ معاشی ترقی کے تمام راستے اسی راہ گزر سے ہو کر گزرتے ہیں اور اس معاشی ترقی کی اندھی دوڑ میں افراد ہوں یا اقوام اندھا دھند دوڑے جا رہے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ حاصل کر لینے کی ہوس نے آج انسانی ذہنیت کو اس قدر مادہ پرست بنا دیا ہے کہ اس کے لئے وہ جائز اور اور ناجائز میں تمیز بھول بیٹھا ہے اور اسی خودغرضانہ ذہنیت نے موسمی تبدیلی اور عالمی حدت جیسا خطرناک عفریت پیدا کیا   ہے۔اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اعتدال کا راستہ ہی فلاح کا راستہ ہے۔ اسلام نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں درمیانی راستہ اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ اعتدال اور میانہ روی اسلام کی ایسی صفات ہیں جو اس کے ہر معاملے اور حکم میں جلوہ گر نظر آتی ہیں جس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ توانائی جو ختم ہوسکتی ہے اُس کے استعمال میں کس قدر ذمہ دارانہ طرز عمل اور احتیاط ضروری ہے۔ قرآن کریم میں جو رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے، کم و بیش ۲۰۰؍ آیتیں ماحول سے متعلق ہیں جو بتاتی ہیں کہ قدرتی ماحول کس طرح ہمارے لئے بیش بہا عطیہ خداوندی ہے اور یہ تمام وسائل ہمارے لئے مسخر کئے گئے ہیں ، ہم ان کے استعمال کے لئے آزاد ہیں نہ کہ استحصال کیلئے۔  قرآن کریم میں جا بجا ارشاد ہوا ہے’’حد سے تجاوز نہ کرو‘‘ جو واضح اشارہ ہے کہ ہمیں وسائل کے استعمال میں ایک حد قائم رکھنا ہے۔
  درختوں کی کٹائی جو گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے، کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ اگر قیامت برپا ہو جائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں کوئی پودا ہو اور وہ اسے لگا سکتا ہو تو اسے لگا دینا چاہئے۔یہ فرمان ظاہر کرتا ہے کہ درختوں کی کیا اہمیت ہے اور کیسے درخت لگانا انسان کے لئے صدقۂ جاریہ بن سکتاہے۔ اسلام ہمیں وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال سِکھاتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے وضو کرتے وقت پانی کے بے جا اسراف پر تنبیہ فرمائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں وسائل کو کس قدر احتیاط سے زیر استعمال لانا ہے۔اسلام اپنے پیروکاروں میں جواب دہی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے کہ انسان اپنے ہر عمل کیلئے  بروز آخرت اس عظیم ہستی کے آگے جوابدہ ہے جس نے یہ تمام نعمتیں اسے عطا کی ہیں۔ جب یہ احساس کسی انسان میں پیدا ہو جاتا ہے تو وہ ازخود ذمہ دار بن جاتا ہے۔ القصہ مختصر اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ عالمی حدت پر قابو پانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم وسائل کا ذمہ داری کے ساتھ ،احتیاط سے استعمال کریں ختم ہوجانے والے وسائل کے متبادل ذرائع استعمال کریں۔ اپنی ساری معاشی سرگرمیاں چاہے وہ صنعتیں ہوں، زراعت ہو، نقل وحمل ہو یا کان کنی اس طرح قابو میں کریں کہ گرین ہاؤس گیسیں کم سے کم خارج ہوں، ہمیں اپنے ماحولیاتی نقش پا  (Ecological foot print) کو کم کرنے کی ضرورت ہے دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اپنی ترقی کی رفتار کوکم کرنے کی ضرورت ہے۔اور ہمیں ترقی کے تصور کو پائیدار ترقی کی بنیادوں پر از سر نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ یقین کیجئے اس راہ پر گامزن ہونے میں ہی ساری انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔  (مضمون نگار رئیس ہائی اسکول و جونیئر کالج میں ماحولیات کی لیکچرار ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK