تم لوگ اللہ کی زمین پر کہیں چلے جاؤ، یقین رکھو اللہ تعالیٰ تم سب کو عنقریب جمع کریگا

Updated: May 29, 2020, 12:40 PM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

گزشتہ ہفتے ان کالموں میں مسلمانوں پر قریش کے مظالم کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ آج کی قسط میں پڑھئے کہ جب مسلمانوں پر حد سے زیادہ ظلم و ستم بڑھ گیا تو نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو ہجرت کی اجازت دی۔ صحابہؓ کے دریافت کرنے پر کہ کہاں جائیں، آپ ﷺ نے حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) کی طرف اشارہ فرمایا اور وہاں کے بادشاہ اصمحہ نجاشی کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ اہل مکہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر ، اس کا پس منظر اور وہ واقعہ بھی ملاحظہ کیجئے جب آپ ﷺ تلاوت کرتے ہوئے پہلی آیت ِ سجدہ پر سجدہ میں چلے گئے تو نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ مشرکین مکہ بھی سجدہ ریز ہوگئے تھے

Ethopian Mosque - Pic : Daily Saba
ایتھوپین مسجد ۔ تصویر : ڈیلی صبا

مکہ مکرمہ کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے تھے۔ ان حالات میں مسلمانوں کا وہاں رہنا مشکل ہورہا تھا، شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو جب مسلمان کفار ومشرکین مکہ کے ظلم وستم کا نشانہ نہ بنتے ہوں، ایک دن خبر ملی کہ بنی مخزوم کے لوگ ولیدؓ بن الولید، مسلمہؓ بن ہشام اور عیاشؓ بن ابی ربیعہ کو قتل کرنے کا پروگرام بنا رہے ہیں، اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ جو مسلمان اپنا ایمان اور اپنی جان بچا کر یہاں سے جاسکتے ہوں وہ چلے جائیں۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ کہاں جائیں، چاروں طرف عیسائی حکومتیں ہیں، وہ مسلمانوں کو کیسے پناہ دے سکتی ہیں؟ یمن کی سرحد حجاز سے ملی ہوئی تھی اور وہ ملک فاصلے کے لحاظ سے قریب بھی تھا، وہاں کچھ صحابہؓ بھی تھے جو اسلام قبول کرکے واپس چلے گئے تھے، جیسے حضرت ابو موسیٰ اشعریؒ، یمن کے رہنے والے تھے، مکہ مکرمہ حاضر ہوئے اسلام قبول کرکے اور دین سیکھ کر اپنے وطن واپس چلے گئے تھے، (الاصابہ فی تمییز الصحابہ: ۲/۳۵۹) مگر چونکہ وہاں کے حکمراں عیسائی تھے اور رسول اللہ  ﷺ  کی پیدائش کے سال وہاں کے ایک حاکم نے جس کا نام ابرہہ تھا خانۂ کعبہ پر حملہ بھی کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے تمام لشکر کو ابابیل جیسے معمولی پرندے کے ذریعے ہلاک کر ڈالا تھا، خود ابرہہ بھی گل سڑ کر یمن جاکر مر گیاتھا، اس صورت میں اس کا امکان موجود تھا کہ وہاں مکہ سے جانے والے مہاجر مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا جاتا، پھر مکہ کے تجار یمن آتے جاتے رہتے تھے جس کی وجہ سے یمن کے عوام اور حکومتی ارکان سے ان کے تعلقات ہوگئے تھے، مشرکین مکہ اپنے تعلقات استعمال کرکے مہاجر مسلمانوں کی واپسی کا مطالبہ کرسکتے تھے اور انہیں واپس بھی لا سکتے تھے، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بہتر سمجھا کہ ایسے تمام مسلمان مرد وزن جو آسانی کے ساتھ ہجرت کرسکتے ہوں وہ حبشہ چلے جائیں۔ اگرچہ حبشہ مکہ مکرمہ سے کافی دور تھا اور بیچ میں سمندر بھی حائل تھا، مگر چونکہ وہ ایک پر امن ملک تھا اور وہاں کا بادشاہ اصحمہ نجاشی نرم دل، انصاف پرور اور وسیع القلب انسان تھا، اس لئے مسلمان وہاں جاکر سکون و اطمینان سے زندگی گزار سکتے تھے۔ ہزاروں میل کی دوری اور سمندری مسافت کی وجہ سے یہ بھی مشکل تھا کہ قریش مکہ مہاجرین کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچتے اور انہیں زبردستی واپس لے آتے۔ ایک روز نبی اکرم ﷺ نے ایسے تمام صحابہؓ و صحابیاتؓ سے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ کی زمین پر کہیں چلے جاؤ، یقین رکھو اللہ تعالیٰ تم سب کو عنقریب جمع کرے گا۔ 
انہوں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کہاں جائیں، آپؐ نے حبشہ کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ وہاں کا بادشاہ ایسا انصاف پرور ہے کہ اس کی قلم رو میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، وہ سچائی کی سرزمین ہے، تم وہاں جاکر رہو تاوقتیکہ اللہ تعالیٰ تم کو ان حالات سے نکال لے جن میں تم آج گھرے ہوئے ہو۔ (عیون الاثر: ۱/۱۱۵) 
lکچھ حبشہ اور شاہِ حبشہ کے بارے میں:
حبشہ موجودہ ایتھو پیا کو کہتے ہیں۔ حجاز اور ایتھوپیا کے درمیان بحر احمر حائل ہے، مکہ مکرمہ سے اس کا فاصلہ چار ہزار پانچ سو تہتر کلو میٹر ہے۔ جس زمانے کا یہ ذکر ہے اس وقت حبشہ کا بادشاہ اصحمہ نجاشی تھا۔ نجاشی کسی خاص شخص کا نام نہیں ہے بلکہ وہاں کے بادشاہوں کا لقب ہے، ان کے والد کا نام ابحر نجاشی تھا، اصحمہ کے معنی ہیں داد ودہش اور عطیہ، چنانچہ وہ عطیہ کے نام سے بھی مشہور تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامۂ مبارک سے سرفراز ہونے اور حضرت جعفر طیارؓ کی تقریر سننے کے بعد کہا تھا:  ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور وہی نبی ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے۔‘‘  (سنن ابی داؤد: ۳/۲۱۲، رقم الحدیث: ۳۲۰۵) مسلمانوں کے اس ہمدرد اور مونس وغم خوار اور مددگار نے ۹؍ ہجری میں وفات پائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی گئی۔ آپؐ نے بڑے رنج وغم کے ساتھ مدینے میں ان کی وفات کا اعلان فرمایا، مسلمانو! تمہارے نیک بھائی اصحمہؓ انتقال کرگئے ہیں، ان کے لئے دعا واستغفار کرو، پھر آپ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا فرمائی۔ (صحیح البخاری: ۲/۸۸،  رقم الحدیث:۱۳۲۷) 
lمہاجرین کی تعداد اور ان کے اسمائے گرامی:
یہ ہجرت جسے تاریخ اسلام کی پہلی ہجرت کہا جاتا ہے، ماہ رجب   ۵؍ نبوی میں ہوئی۔ کچھ مظلوم مسلمان رات کے وقت چھپتے چھپاتے مکہ مکرمہ سے نکلے، جدہ پہنچے اور وہاں سے شُعَیبہ کی بندرگاہ سے دو تجارتی کشتیوں کے ذریعے حبشہ روانہ ہوئے، جن لوگوں نے پہلی ہجرت کا شرف حاصل کیا اور اس ارشاد نبویؐ میں موجود بشارت کے حق دار بنے ان میں گیارہ مرد اور پانچ عورتیں شامل تھیں، ہجرت کرنا یعنی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنا وطن چھوڑنا اور دوسری جگہ کو اپنا وطن بنانے کے لئے گھر سے نکلنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے، اور اس مشکل کو وہی لوگ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ہجرت کا دکھ جھیلا ہو، تاہم ان کی تسلی کیلئےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد موجود ہے: ’’اسلام ماقبل کے سارے گناہ ختم کردیتا ہے اور ہجرت ماقبل کے سارے گناہ مٹا دیتی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم:۱/۱۱۲،رقم الحدیث:۱۲۱)
حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کرنے والوں کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
 (۱) حضرت عثمان بن عفانؓ (۲) ان کی بیوی حضرت رقیہؓ بنت رسولؐ اللہ  (۳) حضرت ابو حذیفہؓ بن عقبہ (۴) ان کی بیوی حضرت سہلہؓ بنت سہیل (۵) حضرت ابو سلمہؓ بن عبد الاسد۔ (۶) ان کی بیوی حضرت ام سلمہؓ جنہیں اپنے شوہر کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف حاصل ہوا۔ (۷) حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ (۸) حضرت عثمانؓ بن مظعون (۹) حضرت عامر بن ربیعہؓ (۱۰) ان کی بیوی حضرت لیلیٰؓ بنت ابی خیثمہ (۱۱) حضرت سہیلؓ بن بیضاء (۱۲) حضرت ابوسبرۃؓ بن رہم عامری (۱۳) ان کی بیوی حضرت ام کلثومؓ بنت سہیل بن عمر (۱۴) حضرت حاطب بن عمروؓ (۱۵) حضرت زبیرؓ بن عوام (۱۶) حضرت مُصْعَب بن عُمَیْر۔ یہ فہرست حافظ ابن سید الناسؒ نے بیان کی ہے۔ (عیون الاثر: ۱/۱۱۵) حافظ ابن اسحاق نے دس نام ذکر کئے ہیں اور ان کے قبیلوں کے نام بھی لکھ دیئے ہیں، ابن ہشام نے ان دس میں حضرت عثمانؓ بن مظعون کا نام بھی لیا ہے (سیرت ابن ہشام: ۱/۲۲۷) 
lحبشہ سے واپسی:
ماہ رجب میں یہ لوگ حبشہ پہنچے، شعبان، رمضان وہاں گزارا، شوال میں یہ افواہ پھیلی کہ تمام قریش مکہ مسلمان ہوگئے ہیں اور اب کوئی اختلاف مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان باقی نہیں رہا ہے، یہ خبر سن کر تمام مہاجرین کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے، حالانکہ یہ سب لوگ سکون واطمینان سے تھے، نجاشی نے ان کا خوشدلی کے ساتھ استقبال کیا تھا اور اپنی مملکت میں تمام سہولتوں سے نوازا تھا، مگر اپنا وطن اپنا ہی ہوتا ہے، ہجرت کرنے سے پہلے انہوں نے دس بار سوچا ہوگا، مشورے کئے ہوں گے، لیکن کفار قریش کے مسلمان ہونے کی خبر سنتے ہی انہوں نے نہ اس کی تصدیق کی ضرورت سمجھی نہ سوچا اور نہ کسی سے مشورہ کیا، بس واپسی کے ارادے سے چل پڑے، مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے تو آنے والوں سے صورت حال واضح ہوئی، معلوم ہوا کہ کفار قریش کے مسلمان ہونے کی خبر قطعاً غلط ہے، بلکہ حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں، مگر وطن کے قریب پہنچ چکے تھے، اب دوبارہ حبشہ جانے کا حوصلہ نہیں تھا، کچھ لوگوں نے مکہ کی بااثر شخصیتوں کی پناہ حاصل کی اور مکہ میں داخل ہوگئے، کچھ لوگ چھپ کر پہنچے۔ 
lقریش کے مسلمان ہونے کی خبر کیسے پھیلی؟ 
رمضان کا مہینہ تھا، رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم خانۂ کعبہ میں تشریف فرماتھے، کفار ومشرکین کی بھی بڑی تعداد وہاں موجود تھی، آپؐ نے بلند آواز سے سورۂ نجم کی تلاوت شروع فرمادی، قرآن کریم کے مؤثر اور خشیت طاری کرنے والے کلمات، بیت اللہ کا پس منظر، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پرسوز لہجہ، تمام لوگ جن میں مسلمان اور مشرکین سب تھے ہمہ تن گوش ہوگئے، آپ تلاوت کرتے کرتے آیت سجدہ تک پہنچے اس آیت پر سورہ کا اختتام بھی ہوتا ہے:’’کیا تم اس بات پر حیرت کرتے ہو اور ہنستے ہو، روتے نہیں ہو، جب کہ تم تکبر کے ساتھ کھیل کود میں پڑے ہوئے ہو، اب (بھی) جھک جاؤ اللہ کے سامنے اور اس کی بندگی کرلو۔‘‘ (النجم: ۵۹-۶۲) یہ پہلی سورہ ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد سجدہ ادا فرمایا، تمام مسلمان بھی آپؐ کے ساتھ سجدے میں چلے گئے، حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام مشرکین وکفار بھی سجدہ ریز ہوگئے، صرف ایک متکبر شخص ایسا تھا جس نے سجدہ نہیں کیا، البتہ اس نے زمین سے کچھ مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی پر مل لی اور کہنے لگا کہ بس اتنا ہی کافی ہے۔ اس کا نام امیہ بن خلف تھا۔  یہ عجیب منظر تھا، جو لوگ برسہا برس سے قرآن کریم کی مخالفت کررہے تھے آج اس سے اس قدر متاثر ہوئے کہ مسلمانوں کو سجدے میں دیکھ کر خود بھی سجدے میں چلے گئے، یہ اللہ کے کلام کا اثر تھا کہ ان کے دل خوف سے لرز اٹھے، اس سورہ کا اسلوب بیان بھی نرالا ہے، اور پورے نظمِ آیات سے قرآن کریم کی حقانیت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ (صحیح البخاری: ۲/۴۱، رقم الحدیث:۱۰۷۰، تفسیر ابن کثیر:۷/۴۶۸) 
ابتدائے بعثت سے لے کر   ۵؍ نبوی تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نجی صحبتوں اور مخصوص مجلسوں میں اللہ کا کلام سنایا کرتے تھے اور لوگوں کو دین کی دعوت دیا کرتے تھے، اس پورے عرصے میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مجمع عام میں قرآن کریم سنایا ہو، کیوں کہ کفار کی سخت مزاحمت اس میں مانع تھی، انہیں خوب اندازہ تھا کہ قرآن کریم کی آیات میں بلا کی تاثیر اور غضب کی کشش ہے اس لئے نہ وہ خود یہ کلام سننے کی کوشش کرتے تھے اور نہ کسی کو سننے دیتے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خلاف تمام قریش اسی لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے کہ وہ اپنے گھر کے بیرونی حصے میں بیٹھ کر زور زور سے قرآن پڑھا کرتے تھے، ان کی آواز سن کر پڑوسی بھی باہر نکل آتے اور راہ گیر بھی رُک جاتے، ابن الدغنہ کی ضمانت پر جب حضرت ابوبکرؓ ہجرت کا ارادہ ترک کرکے راستے سے مکہ واپس آئے تو کفار نے یہ شرط رکھی کہ وہ زور زور سے قرآن نہیں پڑھیں گے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں قرآن کریم کا کس قدر خوف تھا، ان کا مستقل طریقۂ کار یہ تھا کہ جب کہیں قرآن پڑھا جاتا تو زور زور سے چلانے لگتے، جیسے آج بھی سیٹیاں بجاکر سامعین کسی خطیب یا شاعر کو اپنی بات کہنے سے روک دیتے ہیں یا جو بات وہ کہتا ہے اسے دوسروں تک پہنچنے نہیں دیتے، لیکن سورۂ النجم کی شدتِ تاثیر کا حال یہ تھا کہ تمام کافروں نے اسے غور سے سنا، ان کو اس بات کا ہوش ہی نہیں رہا کہ وہ اس کلام کی مخالفت میں شور مچا کر آپؐ کی آواز دبانے کی کوشش کرتے، ان کے استغراق اور محویت کا عالم یہ تھا کہ ختم سورہ تک وہ بالکل خاموش بیٹھے رہے، جب  آپ سجدۂ تلاوت کرنے لگے تو انہوں نے بھی بے اختیار ہوکر اپنے سر زمین پر رکھ دیئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورے مکہ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے تھے وہ آج ان کے ہم نوا بن گئے ہیں، کیونکہ انہوں نے خاموشی کے ساتھ قرآن سنا اور آپؐ کے ساتھ سجدہ بھی کیا۔ یہ بالکل نئی اور انوکھی صورت حال تھی، خانۂ کعبہ میں کبھی یہ منظر نہیں دیکھا گیا تھا کہ مخالف اور موافق سب یکساں طور پر سر بہ سجود ہوں۔
 ظاہر ہے یہ بات پھیلنی تھی، اس لئے مکہ ہی میں نہیں پھیلی، بلکہ جانے والوں کے ذریعے دور دور تک چلی گئی، حبشہ تک بھی پہنچی، تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اور نہ اس کی ضرورت محسوس کی گئی، بس یقین کرلیا گیا کہ ایسا ہوا ہوگا، سب لوگ اختلاف بھلا کر شیر وشکر ہوگئے ہونگے۔ مہاجرین تو آس لگائے بیٹھے تھے، یقیناً دعا بھی مانگ رہے ہوں گے، ہوا کے خوشگوار جھونکے کی طرح یہ خبر ان تک پہنچی تو خوشی سے نہال ہوگئے، اپنا سامان سمیٹا، اور جس طرح آئے تھے اسی طرح واپس چل پڑے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK