پونے کے۷۵؍سالہ لائق علی عبدالرزاق مجاورنے اپنے کریئر کا آغاز فزیکل انسٹرکٹر اور کرکٹ کوچ کےطورپر کیااور ۴۵؍سال تک نوجوانوں کو تربیت دی۔ ان کےتربیت یافتہ متعدد کھلاڑیوں نے رنجی ٹرافی اورمہاراشٹر کی ٹیم تک پہنچنےمیں کامیابی حاصل کی ہے۔
EPAPER
Updated: August 03, 2025, 12:52 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
پونے کے۷۵؍سالہ لائق علی عبدالرزاق مجاورنے اپنے کریئر کا آغاز فزیکل انسٹرکٹر اور کرکٹ کوچ کےطورپر کیااور ۴۵؍سال تک نوجوانوں کو تربیت دی۔ ان کےتربیت یافتہ متعدد کھلاڑیوں نے رنجی ٹرافی اورمہاراشٹر کی ٹیم تک پہنچنےمیں کامیابی حاصل کی ہے۔
پونے، کونڈوا کےمٹھانگر میں واقع درانی کمپلیکس میں رہائش پزیر لائق علی عبدالرزاق مجاورکی پیدائش یکم جون ۱۹۵۱ءکوضلع عثمان آباد، تعلقہ واسی میں ہوئی تھی۔ آزادی اور پھر ملک کی تقسیم کےبعد کئی جگہ فسادات ہوئے۔ انہی حالات کےپیش نظر ذریعہ معاش کی تلاش میں عبدالرزاق مجاور مع اہل وعیال عثمان آبا دسے پونے منتقل ہوئے اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ لائق مجاور نے پونے کے اینگلواُردو بوائز ہائی اسکول سے دسویں تک تعلیم حاصل کی، بعدازیں فیزیکل ٹریننگ ( پی ٹی ) کاسرٹیفکیٹ کورس کرکے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس (بنگلور ) سے کرکٹ کوچنگ کی تربیت حاصل کی۔ کرکٹ کےساتھ انہیں فٹ بال اور والی بال میں بھی بڑی دلچسپی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہیں شعر و شاعری سے بھی خاصا شغف رہا ہے۔
عملی زندگی کاآغازپونے کی چلڈرنس اکیڈمی ہائی اسکول سے، ۱۹۷۴ءمیں بحیثیت فیزیکل انسٹرکٹر اور کرکٹ کوچ کی ملازمت اختیار کر کے کی۔ یہاں ۱۹۸۳ء تک خدمات پیش کیں۔ اس دوران انہوں نے سیکڑوں کھلاڑیوں کو کرکٹ کی تربیت دی، جن میں، شری کانت کلیانی، یوراج کدم، جیری فرنانڈیز، سنیل کلیانی اور آنجہانی سنیل گڈگے نے مہاراشٹر کی رنجی ٹرافی کی ٹیم تک پہنچنےمیں کامیابی حاصل کی۔ ۱۹۸۴ءمیں اسی اینگلو اُرود بوائزہائی اسکول میں خدمات پیش کرنے کاموقع ملا، جہاں سے انہوں نےاپنی ابتدائی تعلیم کاآغاز کیاتھا۔ یہاں ۲۰۰۹ء تک فیزیکل انسٹرکٹر اور کرکٹ کوچ کےفرائض انجام دیئے۔ یہاں ان کی رہنمائی میں کرکٹ کی تربیت حاصل کرنےوالے الطاف خان، خالدشیخ، شعیب خان، ظہیر عطاراور مرحوم امتیازشیخ وغیرہ کاصوبائی ٹیم کیلئے انتخاب ہوا۔ مہاراشٹر کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کےطورپر انہوں نے پٹیالہ، اندور اور ممبئی کیلئے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ ہندستانی قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑیوں ، مثلاً کپل دیو، سنیل گائوسکر، محمد اظہرالدین، ظہیر خان اورعرفان پٹھان سے ملاقات اورگفتگو کرنے کابھی انہیں شرف حاصل رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’کرکٹ کی کوچنگ کے ساتھ ہی مجھے لانگ چمپ میں بھی خاصی دلچسپی رہی ہے۔ اس کھیل میں عمدہ کارکردگی پیش کرنے کی وجہ سے مجھے ۵؍گولڈمیڈل مل چکےہیں۔ ‘‘
لائق علی مجاور کوکھیل کود میں حد درجہ دلچسپی ضرور تھیلیکن جہاں تک طلبہ کی تعلیم کامعاملہ ہے، انہوں نے اپنے طلبہ کو ہمیشہ کھیل سے زیادہ تعلیم پرتوجہ دینےکی تاکیدکی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ان سےتربیت حاصل کرنےوالے متعدد طلبہ نےاگر قومی سطح پر کرکٹ میں نام کمایاتو ایسے طلبہ کی بھی کمی نہیں، جنہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے کامیاب کریئر اختیار کیا ہے۔ ان کا خیال ہےکہ تعلیم کے بغیر ہمارا مستقبل تاریک ہے۔
لائق علی کاکھیل کودکی جانب زیادہ رجحان ہونے کا بھی ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ وہ۹؍ویں جماعت میں زیر تعلیم تھے۔ ایک مقابلے میں ان کےاسکول کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی۔ فائنل میچ پونےکےایک معروف اسکول گرائونڈ میں تھالیکن ان کی ٹیم کو اس گرائونڈ کے بجائے، دوسرے گرائونڈمیں میچ ہونےکی غلط اطلاع دی گئی۔ جب ان کی ٹیم اس گرائونڈ پرپہنچی تومعلوم ہواکہ میچ کسی اور گرائونڈ پر ہے۔ وہاں سےان کی ٹیم جب اس گرائونڈ پر پہنچی، تو تاخیر ہونے کی وجہ سے ان کی ٹیم کو میچ سے باہر کردیاگیا۔ اس طرح ا ن کی ٹیم میچ کھیلے بغیر باہر ہوگئی۔ اس سےانہیں شدید صدمہ پہنچاتھا۔ اسی وقت انہوں نے کرکٹ کے شعبے میں کچھ الگ اورمنفردکرنےکافیصلہ کیاتھا۔ اسی جنون نےانہیں پونے کاایک کامیاب اورمقبول کرکٹ کوچ بنادیا۔ اثر و رسوخ کم ہونےکی وجہ سے ان کاانتخاب مہاراشٹر کی انڈر ۱۹؍ٹیم میں نہیں ہوسکاتھا، اس کابھی انہیں بہت افسوس ہے۔ یہی وجہ ہےانہوں نے اپنے۴۵؍سالہ کوچنگ کےدوران کبھی کسی اُمیدوارسے فیس نہیں لی، سب کومفت میں تربیت دی۔
لائق علی اسکول کےزمانے سےفلم اداکاردلیپ کمار کےزبردست مداح ہیں۔ ویسے توانہوں نے دیگر فلم اداکاروں کی فلمیں بھی دیکھی ہیں لیکن ان سےدلیپ صاحب کی شاید ہی کوئی فلم چھوٹی ہو۔ وہ دلیپ کمارکی اداکاری اور مکالمہ کی ادائیگی کے شیدائی ہیں۔ اپنی حد درجہ مصروفیت کے باوجود وقت نکال کر دلیپ کمار کی فلمیں دیکھ ہی لیتے تھے۔ مغل اعظم ان کی سب سے پسندیدہ فلم ہے۔ دوران طالب علمی بھی انہوں نےاس فلم کو متعدد مرتبہ دیکھاتھا۔ اس کے بعد بھی، جب کبھی مغل اعظم سنیما گھر میں لگتی، وہ اسے ضرور دیکھتے تھے۔ پونےکے نٹراج، وکٹوریہ اور دیگر سنیما گھروں میں سوا روپےکا ٹکٹ خرید کر دلیپ کمار کی فلمیں دیکھنےکاموقع نہیں چھوڑتےتھے۔
لائق علی اپنی زندگی کاایک خوفناک واقعہ کبھی نہیں بھولتےہیں۔ پونے کی سیزنس اکیڈمی اسکول انتظامیہ نے انہیں بطور نگراں طلبہ کےہمراہ پکنک پرلوناولہ بھیجاتھا۔ وہاں ایک پوائنٹ پرسب طلبہ کھیل کود رہے تھے، اس دوران نندنی نامی ساتویں جماعت کی ایک طالبہ دوڑتے ہوئےپوائنٹ کے آخری سرے پر پہنچ گئی تھی۔ وہاں سے بس وہ گرنے ہی والی تھی، اسی لمحہ بھاگ کر لائق علینے اس کاڈوپٹہ پکڑکر بڑی طاقت سے اپنی جانب کھینچا، اس طرح وہ بال بال بچی ۔ اسے کھینچنےکےبعد تقریباً آدھےگھنٹے تک وہ حواس باختہ رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہاتھاکہ یہ کیسے ہوا اورکیاہوا؟
پونےکے ریس کورس میں ایک مرتبہ اندرا گاندھی ایک سیاسی جلسے میں شرکت کرنےآئی تھیں۔ اس کی وجہ سے پوراریس کورس بھراہواتھا۔ لوگ اندراگاندھی کی ایک جھلک دیکھنےکیلئے ان کےآنے سے کئی گھنٹے پہلے ہی ریس کورس میں جمع ہوگئے تھے، جن میں لائق علی بھی تھے۔ انہوں نےاس موقع پر انتہائی پُرمغز اورپُرجوش تقریر کی تھی۔ لائق علی کےمطابق ایسی تقریر انہوں نے اس سےپہلے کبھی نہیں سنی تھی۔
جولائی ۱۹۶۱ءمیں پونےکےاطراف کے ۲؍بندوں کےٹوٹ جانے سےآنےوالے بھیانک سیلاب کے تباہ کن مناظر لائق علیکےدل و دماغ پر اب بھی طاری ہیں، حالانکہ اس وقت ان کی عمر ۱۰؍سال تھی لیکن پورے علاقےمیں پانی بھر جانے، مکانات کےمنہدم ہونے، جھوپڑوں کے بہہ جانے اورفصل کےبربادہونےسےلوگوں کوبڑی دقت کا سامنا کرناپڑاتھا۔ پانی بھرجانے سےلوگوں نے اپنے گھر بارچھوڑکرمحفوظ مقامات پرپناہ لی تھی۔ سیلابی کیفیت۳؍دنوں تک برقرار رہی تھی۔ چوتھے دن اچانک پھر سیلاب آنے کی افواہ گشت کرنے لگی۔ اس وقت لائق علیمومن پورہ میں رہتےتھے۔ افواہ سے پریشان ہوکر، ان کے والد بچوں کولےکر مومن پورہ سےکافی دور چلےگئے تھے۔ چندگھنٹے بعد پولیس کی جانب سےمیگافون کےذریعے افواہ پھیلانےکی تصدیق کی گئی۔ اس کے بعد وہ سب لوگ گھر لوٹ آئے تھے۔
لائق علی ۲۰۱۸ءمیں پونےکےمعروف سپرٹائر شوروم کےمالک امین شیخ کے ہمراہ عمرہ پر گئےتھے۔ وہ کئی برسوں سے عمرہ پر جانے کا منصوبہ بنارہےتھے لیکن معلومات اورپیسوں کی کمی کی وجہ سےنہیں جا سکے تھے۔ اس کاعلم ہونےپر امین شیخ نےلائق علی سےکہا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیں، عمرہ کےمراحل میں آپ کےساتھ شروع سےآخر تک رہوں گا۔ ان کےحوصلہ دلانے پر لئیق احمد عمرہ پرگئے۔ لائق علیکامانناہےکہ اس اہم سفر کی تکمیل، امین شیخ کی مرہون منت ہے، ورنہ میرےلئےتنہا عمرہ پرجانادشوار کن تھا۔
موجودہ اور قدیم پونےمیں زمین آسمان کافرق ہے۔ یہاں کی آبادی کئی گنابڑھ گئی ہے۔ جس زمانےمیں لائق علیکے والد پونے منتقل ہوئے تھے، وہ انتہائی سستائی کادورتھا۔ ان کےوالد نے پھل فروش کی حیثیت سے عملی زندگی کاآغاز کیاتھا۔ اس دورمیں وہ گھر کےاخراجات کیلئے ۵۰۰؍ روپےماہانہ دیتےتھے، جس میں ان کے والدین کے علاوہ ۶؍ بھائی اور ۳؍بہنوں کی کفالت بڑی آسانی سے ہوجاتی تھی۔ اس میں گھر کاکرایہ بھی شامل تھا۔ یہ اُس دور کی بات ہے جب پونے جیسے شہر میں بجلی نہیں تھی، لوگ گھروں میں قندیل جلاکرگزراکرتےتھے۔ اُن دنوں رات جلدی ہو جاتی تھی۔ لوگ مغرب بعد ہی اپنے گھروں میں داخل ہوجاتے تھے۔