مالیگاؤں کے ۸۲؍ سالہ محمد یوسف بقریدی اسی وجہ سے اپنے شہر میں ’اچانک سیٹھ‘ کے نام سے مشہور ہوگئے ، طویل عرصے تک پاور لوم کارخانے میں مزدوری کی، پھر کرائے پر اپنا پاور لوم کا کارخانہ قائم کیا اورپھر کافی جدوجہد کے بعد اب خود اپنے کارخانے قائم کئے۔
محمد یوسف بقریدی عرف ’اچانک سیٹھ‘۔ تصویر:آئی این این
مالیگاؤں، رسول پورہ کے ۸۲؍سالہ محمد یوسف بقریدی عرف ’اچانک سیٹھ‘ کی پیدائش ۱۹۴۳ء میںہوئی تھی۔ان کے آباواجداد کا تعلق بھی مالیگائوں سے رہا۔ان کے والد لوم کے کارخانے میں مزدوری کرتے تھے ۔ مالی مشکلات اور بنیادی ضروریات پوری نہ ہونے سے والد انہیں زیادہ نہیں پڑھا سکے۔بچپن سے لوم کے کام سے وابستہ رہے۔ تقریباً ۳۰؍ سال کی عمر تک مزدوری کرکے اس دورمیں اپنالوم لگانےکیلئے ساڑھے چار ہزار روپے بڑی محنت سے جمع کی۔اس رقم کو جب ماں کے ہاتھوں میں دیا تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ ایک لوم سے اپناذاتی کاروبار شروع کیا۔ بعد ازیں یکے بعد دیگر ے متعدد لوم لگانےمیں کامیابی حاصل کی۔ لوم کے کاروبار کے علاوہ کچھ زمین بھی خرید رکھی ہے ،جس سے ہونےوالی آمدنی سے اس عمر میں بھی امن وسکون کی زندگی بسر کررہےہیں۔گزشتہ ۱۵؍سال سے ان کے۳؍بیٹوں نے لوم کے کاروبار کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے۔ اب محمدیوسف کی ایک ہی خواہش ہے ، جس طرح اللہ نے دنیا میں کامیابی عطا کی ہے اسی طرح آخرت میں بھی کامیابی سےنوازے۔ نماز ،روزہ اور عبادت ان کی مشغولیات ہیں ۔
محمدیوسف سے’ اچانک سیٹھ ‘کا لقب ملنے کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ دراصل کاروباری عملی زندگی کے ابتدائی دور میں وہ کئی لوم کے کارخانوں کو کرایہ پر لے کراپنا کاروبار کرتے تھے ۔ ان کی کامیابی دیکھ کر کارخانوں کے مالکان نے سمجھا کہ اگر زیادہ دنوں تک انہیں رکھا گیا تو جگہ پر قبضہ ہوجانے کا خدشہ ہے،چنانچہ ان مالکان نے جگہ خالی کرنے کیلئے ان پر دبائو ڈالنا شروع کر دیا۔ ایسے میں ان تمام مالکان سے انہوں نے ایک مقررہ مدت طلب کر کے ،ان کارخانوں میں جاری کاموںکو جلد ازجلد مکمل کیااور سبھی کارخانوں میں تیارہونےوالےمال کوفروخت کرکے پوری رقم جمع کی، جو ۱۴؍ہزار روپے پر مشتمل تھی۔اس رقم سےانہوںنے لوم لگانے کیلئے ایک جگہ خریدی۔ اس جگہ پر کارخانہ تعمیرکرنےکیلئے بنیاد ڈالی گئی لیکن بنیاد کیلئے مختص جگہ کی چوڑائی زیادہ ہونے سے، اچانک ہونےوالی بارش کا پانی اس جگہ میں جمع ہو گیا جس سے دیوار ٹیڑھی ہوگئی ۔ جس کی وجہ سے دیوار کے گرنے کا خدشہ تھا۔بنیاد ڈالنے والے مستری نے محمد یوسف کو اس خطرہ سے آگاہ کرکے دیوار گرانےکا مشورہ دیا۔ محمد یوسف کی اجازت سے دیوارمنہدم کردی گئی۔ اس واقعہ سے متعلق پورے شہر میں افواہ اُڑا دی گئی کہ محمد یوسف کی جگہ پر خزانہ نکلا ہےاورمحمد یوسف مالدار ہوگئے ہیں ۔اسی افواہ سے انہیں ’اچانک سیٹھ ‘ کاخطاب ملا ،جو آج بھی رائج ہے۔
محمد یوسف کی نوجوانی میں مالیگائوں میں کبڈی کا کھیل عروج پر تھا ۔ نوجوان جنون اور دیوانگی سے کبڈی کھیلتے تھے۔ محمد یوسف کو بھی کبڈی کھیلنے کابہت شوق تھا۔ وہ حسرت کبڈی کلب سے وابستہ تھے۔ تقریباً ۲۵؍سال تک تک کبڈی کھیلا۔ اس دوران مالیگائوں کے علاوہ منماڑ اور ناسک وغیرہ میںہونے والے مقابلوںمیں حصہ لیا۔ حسرت کبڈی کلب کیلئے متعدد اعزاز حاصل کئے۔ کبڈی کھیلنےکے دوران کئی مرتبہ ہاتھ اور پیروںمیں چوٹیںآئیںلیکن کبڈی کھیلنا جاری رکھا۔ جب کبڈی کے سبب کھلاڑیوں میں لڑائی جھگڑاہونےکے واقعات میں اضافہ ہونے لگاتو مالیگائوں کے باشعور شہریوں نے اس کھیل کو بند کر دیا ۔کبڈی کے علاوہ والی بال اور دوڑ میں حصہ لینے کا بھی انہیں بہت شوق تھا۔
تقریباً ۷۵؍ سال تک لوم کے کاروبار سے منسلک رہنےوالے محمد یوسف کا کہنا ہےکہ اہالیانِ مالیگائوں انتہائی مہمان نوازہیں۔یہاں کے لوگ مہمانوں کی عزت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں ۔ یہی وجہ ہےکہ مالیگائوں کی سڑکوں اور محلوں میں ہوٹل اور چائے خانوں کے علاوہ پان کی دکانوں پر ہمیشہ رونق رہتی ہے۔ لوگ ان دکانوں کے باہر چائے پان سے محظوظ ہونے کے ساتھ ہی گپ شپ میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتاہےکہ دن رات لوم میں کام کرنے والے مزدور تھکن دور کرنے اور تازگی کیلئے چائے خانوں پربڑی تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔ چائے پی کر پان کھاتےہیں پھر تازہ دم ہوکر کام میں جٹ جاتے ہیں۔
محمد یوسف نے اپنی نوجوانی میں جواہرلال نہرو کو قریب سے دیکھا ہے۔ وہ ایک جلسے میں شرکت کیلئے مالیگائوں کیمپ آئے تھے۔ شہر میں ان کی آمد کا بڑاچرچہ تھا۔ ہر طرف ان کے آنے کی اطلاع تھی ۔ ایسےمیں جس روز وہ آنے والے تھے ، محمد یوسف اپنے دوستوں کے ہمراہ رسول پورہ سے ۲؍ کلو میٹر پیدل چل کر کیمپ پہنچے تھے۔ وہاں پہنچ کر جس راستے سے جواہر لال نہرو کا قافلہ گزرنے والا تھا ، وہاں قطار میں کھڑے ہوگئے تھے۔ جواہر لال نہرو کی موٹر کار یہاں سے گزری، وہ لوگوںکو ہاتھ دکھا رہے تھے ۔ محمد یوسف نے اس وقت قریب سے نہر وجی کو دیکھا تھا۔
منیٰ میں جس سال آگ لگی تھی، محمد یوسف اپنی بیمار اہلیہ کو حج کرانے کیلئے لے کر گئے تھے۔ آگ کے دلخراش منظر کو انہوںنے اپنی آنکھوں سےدیکھاتھا۔ لوگ ایک دوسرے کو روند کر اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ نفسانفسی کا عالم تھا۔ افراتفری کے ماحول میں کوئی کسی کی مدد نہیں کر پارہا تھا۔ سب کو اپنی جان پیاری تھی۔ بھاگ دوڑ میں جو گرگیا، لوگ اس کی لاش پرسے دوڑ کر گزر رہےتھے ۔ محمد یو سف اپنی اہلیہ کو مضبوطی سے تھامے یہاں سےبھاگ رہے تھے لیکن محفوظ مقام تک پہنچنا مشکل دکھائی دے رہا تھا۔ ایسے میںانہوںنے ایک پترے کی باڑھ نما دیوار چیرکر پہاڑ کی طرف جانےکی کوشش کی، پترے کو چیرکر جیسے ہی وہ دوسری جانب پہنچے وہاں ۲؍فٹ اُونچی مزید ایک دیوار کو کسی طرح پار کیا، یہاں پر ان کی اہلیہ کی حالت غیر ہوگئی۔ انہوںنے ان سے کہا کہ اب مجھ سے نہیںچلاجا رہا ہے ،تم اپنی جان بچالو ، مجھے یہیں چھوڑ دو ،میں دیکھتی ہوں میرا کیا ہوتا ہے۔جس پر محمد یوسف نے کہا ، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ان کے چہرے پر پانی مارا ، کسی طرح انہیں وہاں سے لے کر آگے بڑھے، پہاڑ ان کےسامنے تھا لیکن پہاڑ پر جانے کیلئے انہیں ایک اور ۸؍فٹ کی دیوار عبورکرنی تھی۔ بڑی جدوجہد اور مشکلوں سے اس دیوار کو بھی پارکرکے وہ اہلیہ کے ہمراہ پہاڑ پر پہنچے۔ اس طرح وہ اپنی اوراہلیہ کی جان بچانےمیں کامیاب ہوئے۔ انہوںنے اس دوران اپنی جان بچانےکیلئےایک ماںسے بیٹے کوجدا ہوتے بھی دیکھاتھا۔ لوگ صرف اپنی جان بچانےکی کوشش کر رہےتھے۔ وہ حادثہ آج بھی انہیں رلا دیتا ہے۔
محمد یوسف کو فلم دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جو فلمیں مالیگائوںمیں تاخیر سے ریلیز ہوتی تھیں، ان فلموں کو دیکھنےکیلئے وہ مالیگائوں سے ممبئی آجاتے تھے اور اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے تھے۔ ان کے دوست امین انصاری آگری پاڑہ،مومن پورہ کے غفور منزل میں رہتے تھے۔ ممبئی آنے سے قبل محمدیوسف انہیں خط کے ذریعے اطلاع دیتے تھے کہ وہ فلم دیکھنے ممبئی آ رہے ہیں ۔ محمدامین ٹکٹ وغیرہ کا انتظام کر کے رکھتے تھے۔ محمد یوسف ۷؍روپے لے کر مالیگائوں سے جمعرات کی رات کونکلتے تھے اور جمعہ کی صبح صبح ممبئی پہنچ جاتے تھے۔ دن بھر یہاں گزارتے اور جمعہ کی رات کو دوبارہ مالیگائوں روانہ ہوجاتے۔ اس دور میں مالیگائوں میں لوم کے کارخانے جمعہ کو بند رہتے تھے۔