رمضان المبارک اور قرآن کریم کے اس تعلق اور مناسبت کی وجہ سے ہی رمضان میں تلاوتِ قرآن کی بہت فضیلت ہے۔
EPAPER
Updated: March 12, 2026, 3:14 PM IST | Saadiya Karim | Mumbai
رمضان المبارک اور قرآن کریم کے اس تعلق اور مناسبت کی وجہ سے ہی رمضان میں تلاوتِ قرآن کی بہت فضیلت ہے۔
اسلامی تقویم کانواں مبارک مہینہ رمضان المبارک کا ہے جس کے روزے امت محمدیہ ؐ پر فرض کیے گئے ہیں۔ یہ صبر و شکر اور عبادت کا مہینہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رحمت، برکت اور مغفرت کا مہینہ بھی ہے۔ ابن جوزی بستان الواعظین میں بیان کرتے ہیں کہ’’جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں سے حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد ماجد کو زیادہ محبوب تھے اسی طرح سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان شریف خدائے لم یزل کو زیادہ محبوب ہے اور اس مہینے کی برکت سے اللہ تعالیٰ بندوں کے گیارہ مہینوں کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔‘‘ اس مبارک مہینے کی فضیلت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس میں قرآن کریم نازل ہوا۔ جس مبارک رات میں یہ کتابِ عزیز نازل ہوئی اسے شب قدر یا لیلۃ القدر کہتے ہیں۔ اس مبارک رات کا ذکر سورہ قدر میں آیا ہے:
’’بے شک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل فرمایا ہے۔‘‘ (القدر:۱)
یہ بھی پڑھئے: اعتکاف شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور اس کے ارتقا کا بہترین ذریعہ
رمضان المبارک اور قرآن کریم کے اس تعلق اور مناسبت کی وجہ سے ہی رمضان میں تلاوتِ قرآن کی بہت فضیلت ہے۔ ترمذی اور مستدرک الحاکم میں حضرت ابوذر غفاریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا:
’’بے شک تم اللہ تعالیٰ کا تقرب کسی چیز کے ساتھ اس سے زیادہ حاصل نہیں کرسکتے ہو جتنا اس چیز کے ساتھ جو خود اس سے نکلا ہوا ہے یعنی قرآن کریم۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ کا جتنا تقرب تلاوتِ قرآن کریم کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے وہ کسی اور نیک عمل کے ساتھ انسان کو حاصل نہیں ہوتا اور بالخصوص رمضان المبارک میں تو تلاوت قرآن کریم حد درجہ افضل ہے۔
لیلۃ القدر کی وجہ تسمیہ
تفسیر عزیزی میں ہے کہ جب اللہ کے رسولؐ نے سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی امتوں کی طویل عمروں اور اپنی امت کی قلیل عمروں کو ملاحظہ فرمایا تو تاجدار رسالت ؐ کا دل بھر آیا اور آپؐ رنجیدہ ہوگئے کہ اگر میرے امتی بہت زیادہ نیکیاں بھی کریں تب بھی ان کی برابری نہیں کرسکیں گے کیونکہ ان کے پاس زیادہ نیکیاں کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبیبؐ کو تسلی و تشفی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپؐ کی امت کو چند ایسی راتیں عطا کی جائیں گی جن کی عبادت کا ثواب ایک ہزار سال کی عبادت سے زیادہ ہوگا۔ لیلۃ القدر ایک ایسی ہی رات ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’ لیلۃ القدر ایک ہزار سال سے افضل اور بہتر ہے۔‘‘ (القدر: ۳)۔ یعنی کوئی انسان اگر اس رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اسے ایک ہزار سال کی عبادت کا ثواب عطا کیا جائے گا۔
لیلۃ القدر یا شب قدر کے تعین میں اختلاف ہے لیکن اکثریت کا اجماع اسی بات پر ہے کہ ماہِ رمضان کی ۲۷؍ ویں رات کو ہی لیلۃ القدر ہوتی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
یہ بھی پڑھئے: سنئے،جب زمین اپنے رَب کے نور سے روشن ہوجائیگی اور اعمال نامہ رکھ دیا جائیگا!
شب قدر کی علامات
امام شعرانیؒ لیلۃ القدر کی علامات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’یہ رات چمکدار اور صاف و شفاف ہوگی۔ نہ زیادہ گرم، نہ زیادہ ٹھنڈی ہوگی بلکہ معتدل ہوگی۔ اس رات بارش نہ ہوگی۔ ستارے نہیں ٹوٹتے جو شیطانوں کو مارے جاتے ہیں۔ اس رات صبح سورج بغیر چمک کے نکلے گا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس رات میں سمندروں کا پانی میٹھا ہوجاتاہے اور انسانوں اور جنوں کے سوا تمام چیزیں سجدہ میں گرجاتی ہیں مگر ان باتوں کا علم صرف صاحب کشف کو ہوتا ہے۔
لیلۃ القدر کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
lحضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: جس نے لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔
lحضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رمضان آیا تو رسول اکرمؐ نے فرمایا یہ جو مہینہ تم پر آیا ہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس سعادت کو حاصل کرنے سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا۔‘‘(رواہ بخاری و مسلم)
لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنا چاہئے
’’حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ رسولؐ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔‘‘ (رواہ بخاری) رمضان المبارک میں اپنے اہل و عیال کو بھی عبادت کی ترغیب دلانے کا حکم ہےکیونکہ یہ ہمارے پیارے نبیؐ کی سنت ہے۔ ایک روایت میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب رمضان کے آخری دس دن شروع ہوتے تو آپؐ عبادت کیلئے کمر بستہ ہوجاتے راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل و عیال کو بھی جگاتے۔‘‘ ( بخاری و مسلم)
یہ بھی پڑھئے: ۲۰؍ رمضان ، ۸؍ہجری اور فتح مکہ جب ’عفو ِ نبویؐ‘ ہر خوف پر غالب تھا
لیلۃ القدر کی مسنون دعا
’’حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ اگر میں شب قدر پالوں تو کون سی دعا پڑھوں؟ آپؐ نے فرمایا کہو: یا اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنا پسند کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما۔‘‘ (رواہ ترمذی)
حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو جو بے شمار انعامات و احسانات عطا فرمائے ہیں ان میں سے ایک لیلۃ القدر ہے۔ اس رات کا عطاکیا جانا امت مسلمہ کی فضیلت و برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ امت کے گناہوں سے مغفرت کا ایک ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا باعث ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا ظہور ہوتا ہے، فرشتوں کی نیک اور مومن لوگوں سے ملاقات کروائی جاتی ہے، بندوں کے گناہ معاف اور درجات بلند کیے جاتے ہیں اور ایک ہزار مہینوں سے زیادہ عبادت کا ثواب صرف ایک رات میں عطاکردیا جاتاہے۔ لیلۃ القدر کی اس فضیلت کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام اہل ایمان کو چاہئے کہ اس رات میں خشوع و خضوع کے ساتھ جس قدر ممکن ہو، عبادت کریں اور اپنے رب سے اُمت کے حالات بدلنے کی دُعا کریں۔