Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت علیؓ کا یومِ شہادت (۲۱؍ رمضان المبارک)

Updated: March 11, 2026, 2:50 PM IST | Mohammed Shamim Akhtar qasmi | Mumbai

نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ”جو علیؓ کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علیؓ کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے‘‘ ”علیؓ، کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ مقام اور درجہ ہو جو ہارونؑ کا موسیٰؑ کے نزدیک تھا‘‘

The Ali bin Abi Talib Mosque is one of the historical mosques of Medina. Photo: INN
مسجد علیؓ بن ابی طالب کا شمار مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد میں ہوتاہے ۔ تصویر: آئی این این

حضرت علی کرم اللہ وجہہ بن ابی طالب، فاطمہ بنت اسد کے بطن سے اندرون خانہ کعبہ چھٹی صدی عیسوی میں پیدا ہوئے۔ صغرسنی میں بعض وجوہ کی بنا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں آئے اور دربار نبوت سے آخر تک وابستہ رہے۔ دس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ خود فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بتوں کی پوجا کبھی نہیں کی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجھ سے پہلے کسی نے خدا کی عبادت نہیں کی۔ ابتدائی عمر سے ہی حضورؐ سے  حد درجہ محبت کرتے تھے۔ جب کوہ صفا پر چڑھ کر حضورؐ  نے اعلانِ نبوت کیاتو آپؐکے پیغام (دعوت) پر کسی نے بھی کان نہیں دھرا، مگر حضرت علیؓ نے، جو اس وقت عمر میں صرف ۱۵؍ سال کے تھے، فرمایا: ”گوکہ میں عمر میں چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے، اورمیری ٹانگیں پتلی ہیں، تاہم آپؐ کا باور دست و بازو بنوں گا۔‘‘ جب آپ کی عمر ۲۲؍ سال کو پہنچی تب آپ اپنی جان کی بازی لگاکر حضور ؐ کے بستر پر پوری رات لیٹے رہے۔ تبھی آپؐ  ہجرت کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس کے تین دن بعد خود بھی حضورؐ کے پاس تشریف لے گئے۔
 مدینہ پہنچنے کے بعد حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ نے  جو کارہائے نمایاں انجام دئیے وہ آپؓ کی زندگی کا اہم باب ہے۔ سوائے ایک جنگ کے، آپؓ نے ہر جنگ میں شرکت کی اور داد شجاعت دی۔ غزوئہ تبوک کے موقع پر حضور ؐنے آپؓ کو جنگ میں شرکت سے روک دیا اور اہل بیت کی حفاظت و نگرانی کے لئے مدینہ ہی میں رہنے کا حکم دیا تو اس کا آپ کو بہت قلق ہوا، مگر آپؐ  نے یہ کہہ کر ان کا اقبال بلند کیا کہ ”علیؓ، کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ مقام اور درجہ ہو جو ہارونؑکا موسیٰؑکے نزدیک تھا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: قدرتی نشانیاں، فرشتوں کی اقسام، ابراہیمؑ کی دُعا، اسماعیلؑ کی قربانی کا ذکر سنئے

حضرت علیؓ کی اہمیت حضور ؐکے نزدیک کتنی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپؐ  بالعموم اہم اور مشکل ترین امور کی انجام دہی کے لئے حضرت علیؓ کو مامور فرماتے تھے۔ حضورؐ سے آپؓ کی   محبت، اطاعت اور جاں نثاری  کا نتیجہ تھا کہ حضورؐ نے غدیر خم کے خطبہ میں فرمایا کہ: ”جو علیؓ کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے اور جو علیؓ کا دوست ہے وہ میرا بھی دوست ہے۔ ‘‘
حضور ؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد خلیفۂ سوم  حضرت عثمانؓ کے زمانے تک میں بھی حضرت علیؓ نے اہم کارنامے اور خدمات انجام دیں اور جنگی معرکے سرکیے۔ جب خود خلیفہ بنے تو باوجود پورے ملک میں بدامنی اور خلفشاری کے حالات پر قابو پایا مگر دشمنوں نے آپؓ کو زیادہ دن حکومت کرنے نہیں دیا اور آپ کوشہید کردیا۔

نبیؐ کے اخلاق کا اثر
حضور اکرم ؐ کی بعثت کے مقاصد میں ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ آپؐ  خلق خدا کو ادب و احترام اور اخلاقی اقدار و تہذیب کی تعلیم دیں۔ چنانچہ آپ ؐ  کا ارشاد عالی ہے کہ ’’میں اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہوں‘‘۔  اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپؐ کی اس خوبی کو قرآن کریم میں اس انداز میں بیان کیا ہے: ’’اے نبی ! آپؐ اخلاق کے اعلیٰ  ترین مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘ جب حضورؐ اس دارفانی سے رخصت فرماگئے، تو کچھ لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ معلوم کرنا چاہا کہ آپؐ  کا اخلاق کیساتھا، تو آپؓ  نے جواب دیا : ’’کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟‘‘ یعنی جو کچھ قرآن میں بیان کیاگیا ہے وہی آپؐکا اخلاق تھا۔ اسی پس منظر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اخلاق و کردار اور آپؓ کی تعلیمات کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔ چونکہ آپؓ درِ رسالت سے ابتدائی عمر سے آخر تک وابستہ رہے، اس لئے آپؓ  کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو طرز عمل اور اخلاق و کردار حضور ؐ  کا تھا اسی کو حضرت علیؓ نے اپنی زندگی میں نافذ کیا۔ چنانچہ علامہ سید ابوالحسن ندویؒ اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ:
”رسولؐ اللہ  سے خاندانی اورنسبی تعلق، ایک عمر کی رفاقت اور روز مرہ کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کی وجہ سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو آپؐ کے مزاج، افتاد طبع  اور ذات نبویؐ کی خاص صفات و کمالات سے گہری مناسبت ہوگئی تھی، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق ؐ کو نوازا تھا۔وہ آپؐ کے میلان طبع اور مزاج کے رخ کو بہت باریک بینی اور چھوٹی بڑی باتوں کی نزاکتوں کو سمجھتے تھے، جن کا آپؓ کے رجحان پر اثر پڑا، یہی نہیں بلکہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو ان کے بیان کرنے اور ایک ایک گوشہ کواجاگر کرکے بتانے میں مہارت تھی، آپؓ نے رسول ؐ اللہ کے اخلاق و رجحان اور طریق تامّل کو بہت ہی بلیغ پیرایہ میں بیان کیا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور اس کے ارتقا کا بہترین ذریعہ

اشاعت دین میں اخلاقی تعلیمات کی جلوہ گری
حضرت علی شیر خدا،  خلیفۃ المسلمین ہیں، رعایا کی خبرگیری اور ان کی راحت رسانی میں ہمہ وقت مصروف ہیں، مگر ان کا دل ہر وقت اس کے لئے مضطرب ہے کہ کسی طرح سے ان تعلیمات پر عمل ہوسکے۔ وہ تعلیمات یہ ہیں: ’’آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے‘‘(النحل:۱۲۵)) اور ’’تم بہترین اُمّت ہو جو سب لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے ظاہر کی گئی ہے، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو۔ ‘‘ (سورہ آل عمران: ۱۱۰)۔
 آپؐ نے اس فریضہ کی انجام دہی میں تلوار اور قتل و خوں ریزی کو جائز و بہتر نہیں سمجھا بلکہ آپؓ  نے اپنے اخلاق اور مواعظ حسنہ کو ہی اولیت کا مقام دیا، جس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ آپؓ  کے اس عمل کی وضاحت کرتے ہوئے علی میاں ندوی لکھتے ہیں کہ:
’’آپؓ مسلمانوں کے حقیقی معنوں میں ولی الامر، معلم، مربی اور عملی مثال قائم کرنے والے اخلاقی و دینی امور کی نگرانی اور احتساب کرنے والے تھے، لوگوں کے رجحانات و خیالات و تصرفات پر نظر رکھتے کہ وہ کس حد تک اسلامی تعلیمات اور اللہ کے رسولؐ  کے اسوہ کے مطابق ہیں،اور کہاں تک اس اسوہ سے دور اور منحرف اور کس حد تک انہوں نے مغلوب اقوام اور مفتوحہ علاقوں کی تہذیب و تمدن کا اثر قبول کیا ہے۔ آپؓ لوگوں کو نماز پڑھاتے، ان کو نصیحتیں فرماتے، دین کے مسائل بتاتے اور دین کا فہم ان کے اندر پیدا کرتے۔ ان کو بتاتے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے کیا چاہتا ہے، اور کن باتوں کو پسند فرماتا ہے۔ آپؓ مسجد میں بیٹھتے، لوگ آپؓ کے پاس آیا کرتے، اپنے معاملات میں مشورہ لیتے ، کوئی دینی مسئلہ پوچھتا تو اس کو بتاتے، دنیاوی امور میں صلاح و مشورہ دیتے، بازاروں میں چلتے پھرتے کاروباری لوگوں کی نگرانی کرتے کہ کس طرح خرید و فروخت کرتے ہیں، ان کو نصیحت فرماتے اور کہتے: اللہ سے ڈرو اور ناپ تول کا پورا لحاظ رکھو، لوگوں کا حق نہ مارو۔“

یہ بھی پڑھئے: ۲۰؍ رمضان ، ۸؍ہجری اور فتح مکہ جب ’عفو ِ نبویؐ‘ ہر خوف پر غالب تھا

قاتل کے ساتھ اخلاق عالیہ کا مظاہرہ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ دشمن کی  زد سے محفوظ نہ رہ سکے، یہاں تک کہ ۱۷؍ رمضان المبارک ۴۰ھ کو ابن ملجم  نامی  خارجی نے زہرپلائی ہوئی تلوار سے آپؓ پر  حملہ کردیا۔  وار بہت شدید تھا، اور زہر جسم میں سرایت کرگیا  تھا ۔ کئی دن اسی حالت میں رہنے کے بعد ۲۱؍رمضان المبارک کو آپؓ نے داعی ٔ اجل کو لبیک کہا۔ حملے کے بعد ہی ملجم کو گرفتار کرلیاگیا  اور آپؓ کے سامنے حاضر کیا گیا،  اس کی شکل و صورت کو دیکھتے ہی آپؓ نے حکم دیا کہ مقتول سے پہلے قاتل کی پیاس بجھائی جائے۔ اس جملے میں کتنی معنویت اور اخلاقی تعلیمات مضمر ہیں۔ یعنی کہ آپ کو بھی پیاس کی شدت تڑپا رہی ہے مگر حکم دیتے ہیں کہ پہلے میرے قاتل کی پیاس بجھائی جائے۔ اس کے بعد ابن ملجم کے حق میں اپنے بیٹے کو جو وصیت کی وہ حضرت علیؓ کے اخلاق کی اعلیٰ سے اعلیٰ مثال ہے اور یہ صرف ان ہی کے لیے زیب دیتا ہے کہ آپ اپنے فرزند کو وصیت کرتے ہیں کہ:
”اے عبدالمطلب کے فرزندو! مسلمانوں کا بے تکلف خون نہ بہانا، تم کہوگے کہ امیرالمومنین قتل کردئیے گئے، مگر خبردار سوائے میرے قاتل کے کسی کو قتل نہ کرنا، دیکھو اگر میں اس وار سے مرجاتاہوں تواس پر بھی ایک ہی وار کرنا، اس کا مثلہ نہ کرنا،اس کے ساتھ حسن سلوک کرنا، اگر زندہ رہاتو سوچوں گا، معاف کروں یا قصاص لوں!‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK