Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان ڈائری (۲۱): ہوٹلوں میں ہجوم دیکھ کر لگا کہ لوگ گھریلو کھانوں سے اکتا گئے

Updated: March 12, 2026, 3:04 PM IST | Zameer Ahmed Khan | Mumbai

چند سال پہلے تک لوگ ہاتھ سے بنی ہوئی ٹوپیاں بہت شوق سے خریدتے تھے لیکن اب حالات اور فیشن بدل گئے ہیں۔ اب زیادہ تر جدید طرز کی ایمبرائیڈری والی ٹوپیاں خریدی جا رہی ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

پچھلے ایک ہفتے سے گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے، اس لئے دن میں گھر سے باہر نکلنے کے لئے ایک اچھی دستی خریدنے کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اسی ضرورت کے تحت مَیں گھر سے نکل کر سیدھا دیگلور ناکہ کی طرف روانہ ہوا۔ یہ ناندیڑ کا ایسا علاقہ ہے جہاں کثیر مسلم آبادی  ہے۔ رمضان کے دوران یہاں چاروں طرف بھیڑ رہتی  ہے۔ سڑک کے دونوں جانب ہر قسم کی ہوٹلیں موجود ہیں اور ان ہوٹلوں میں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاید لوگ گھریلو کھانوں سے اکتا گئے ہیں اور اپنی پسند کے ذائقہ دار کھانوں کیلئے ہوٹلوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ہوٹل مالکان بھی گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے ایک دوسرے سے بڑھ کر کوشش کرتے ہیں۔اسی دوران ایک کپڑوں کی دکان دکھائی دی جس کے سامنے ایک بائیک رکھی ہوئی تھی۔ معلوم ہوا کہ دکاندار نے ایک مخصوص رقم کے کپڑوں کی خریداری پر گاہکوں کو ایک ٹوکن دینا شروع کیا ہے اور عید کے بعد اس کی قرعہ اندازی کی جائے گی۔ جس خوش نصیب کے نام کا ٹوکن نکلے گا اسے وہ بائیک بطور انعام دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے: سنئے،جب زمین اپنے رَب کے نور سے روشن ہوجائیگی اور اعمال نامہ رکھ دیا جائیگا!

رمضان میں عموماً  ملبوسات کی خریداری کا ماحول رہتا ہے اور دکانداروں کی جانب سے اسپیشل آفر اور سیل لگائے جاتے ہیں لیکن اس طرح بائیک کو انعام کے طور پر پیش کرنا کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بازار میں دکانوں کی تعداد بڑھ گئی ہے جبکہ کاروبار نسبتاً کم ہو گیا ہے۔ ایسے میں کاروبار بڑھانے اور گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لئے دکاندار مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ بائیک کو انعام میں دینا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
مسجد قبا کے سامنے میں نے اپنی گاڑی اسی مقام پر روک دی جہاں سڑک کے کنارے ٹوپیوں اور دستیوں کی دکان لگی ہوئی تھی۔ دکاندار سے اپنے لئے دستی طلب کی تو اس نے دو تین نمونے دکھائے جن کی قیمتیں دو سو روپے سے لے کر چار سو روپے تک تھیں۔ میں نے دو سو روپے والی دستی خریدنے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہ ایسی شے ہے جو کہیں نہ کہیں بھول کر اکثر نقصان ہی اُٹھاتا ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے: حضرت علیؓ کا یومِ شہادت (۲۱؍ رمضان المبارک)

دکان پر کثیر تعداد میں نوجوان آ رہے تھے اور اپنے لئے رنگ برنگی ٹوپیاں خرید رہے تھے۔ چند سال پہلے لوگ ہاتھ سے بنی ہوئی ٹوپیاں بہت شوق سے خریدتے تھے اور ان کی قیمت بھی کپڑے سے سلی ہوئی ٹوپیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی تھی لیکن اب حالات اور فیشن بدل گئے ہیں۔ اب زیادہ تر جدید طرز کی ایمبرائیڈری والی ٹوپیاں پسند کی جارہی ہیں۔میں نے دکاندار سے پوچھا کہ سب سے زیادہ کس طرح کی ٹوپیاں فروخت ہو رہی ہیں تو اس نے بتایا کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد افغانی ٹوپیاں خرید رہی ہے۔
اسی دوران میرے ایک دوست علیم خان سے ملاقات ہو گئی۔ سلام کلام کے بعد رمضان کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ آخری عشرہ شروع ہو رہا ہے اور حسب ِ معمول اس مرتبہ بھی وہ اپنی بستی کی مسجد میں اعتکاف کریں گے۔ میں نے اُن کے ارادے کی ستائش کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ رمضان میں اعتکاف کے دوران عبادت کا  بہت اچھا موقع مل جاتا ہے۔ اعتکاف میں بیٹھنے کے حوالے سے عام طور پر بزرگ افراد ہی پیش پیش رہتے ہیں، لیکن علیم خان جیسے کئی نوجوان بھی ناندیڑ کی متعدد مساجد میں اعتکاف کیلئے بیٹھتے ہیں، جو یقیناً ایک مسرت افزا تبدیلی ہے۔میری اطلاع کے مطابق یہ صرف ناندیڑ میں نہیں ہورہا ہے بلکہ دیگر شہروں میں بھی نوجوان طبقہ اعتکاف سے سرفراز ہورہا ہے جس سے اس طبقے کی دین پسندی ظاہر ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اعتکاف شخصیت کو نکھارنے، سنوارنے اور اس کے ارتقا کا بہترین ذریعہ

رات کے ۱۱؍ بج رہے تھے۔ ابھی ہماری گفتگو جاری ہی تھی کہ اچانک پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم وہاں پہنچ گئی۔ اس نے دکانیں بند کروانا شروع کر دیا۔ پولیس اہلکاروں کی آمد کے بعد ٹوپی والے صاحب اپنی دکان سمیٹنے لگے اور مَیں بھی وہاں سے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا جہاں مجھے کانگریس کے شہر صدر اور سابق میئر عبدالستار کی عیادت کرنی تھی۔ اُن سے ملاقات ہوئی اوراُن کی طبیعت سے متعلق گفتگو رہی۔ مَیں نے ان کی جلد صحت یابی  کیلئے اللہ سے دعا کی اور  اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا مگر راستے بھر سوچتا رہا کہ رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں ہر پہر عجیب سے تقدس کا احساس ہوتا ہے۔ خدا کرے ہم سب کو آئندہ بھی یہ ماہ نصیب ہوتا رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK