Inquilab Logo Happiest Places to Work

شکر: تمام انسانی فضائلِ اخلاق اور صحیح اعمال وعقائد کا سرچشمہ ہے

Updated: February 02, 2024, 2:33 PM IST | Dawood Akbar Islahi | Mumbai

یہ بابِ آخرت بھی ہے اور کلید ِ دنیا بھی۔ خلاصۂ قرآن بھی ہے اور مقصود سنت نبویؐ بھی۔ پس جو شخص اس جذبے سے محروم ہے وہ گویا ہر چیز سے محروم ہے۔

For a Muslim, gratitude is the source of life and avoiding it is a prelude to loss and destruction. Photo: INN
مسلمان کیلئے شکر سراسر باعث ِ حیات ہے اور اس سے گریز نقصان اور تباہی کا پیش خیمہ۔ تصویر : آئی این این

 شکر ہر صحیح فطرت میں ودیعت ہے۔ کوئی متنفس اس جذبہ سے خالی نہیں ہے۔ ہر دل کی یہ صدا ہے اس لئے اس کی صداؤں سے اعراض کرنا دراصل اپنی فطرت سے جنگ کرنا ہے۔ ہمارے باطن کی تمام کائنات اسی چراغ سے روشن ہے اور پھر اسی کا پرتو ہے جو ہماری اس مادی زندگی کی ظلمتوں کو دور کرتا ہے۔ اگر انسان کے اندر یہ جذبہ نہ ہو تو وہ بھی ایک حقیر جانور ہے۔ اسی سے انسان کی وہ اصلی خصوصیتیں ظہور میں آتی ہیں جن کی بدولت وہ دنیا و آخرت کی تمام سرفرازیاں حاصل کرتا ہے۔ قرآن کریم میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام انسانی فضائلِ اخلاق اور تمام صحیح اعمال و عقائد کا سرچشمہ یہی ہے۔ یہ بابِ آخرت بھی ہے اور کلید ِ دنیا بھی۔ روحِ اخلاق بھی ہے اور روحِ سیاست بھی۔ خلاصۂ قرآن بھی ہے اور مقصود سنت نبویؐ بھی۔ پس جو شخص اس جذبے سے محروم ہے وہ گویا ہر چیز سے محروم ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس ایک چیز کھوکر وہ ہر چیز گنوا بیٹھتا ہے۔ 
شکر کا مفہوم
 شکر نام ہے اس جذبۂ محبت کا جو خدا کی صفاتِ ربوبیت و رحمت میں غور کرنے سے پیدا ہوتا ہے، یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ شکر نام ہے اس کیفیت کا جو مظاہر ِ قدرت ربانی کے مشاہدہ سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت کا پہلا ثمرہ ایمان ہے۔ اگر یہ کیفیت نہ ہو تو دل کا تمام عالم یکسر ظلمات ہے اور قرآن مجید نے اس حالت کی تعبیر کفر کے لفظ سے کی ہے۔ 
شکر مبادیٔ دین کا سرچشمہ ہے
 شکر تمام مبادیٔ د ین کا سرچشمہ ہے۔ اسی سے توحید و معاد کے اعتقاد کی راہ کھلتی ہے اور اسی سے آدمی کو ایمان بالرسالت کیلئے دلیل ہاتھ آتی ہے۔ ذیل میں ہم اس دعوے کی بعض دلیلیں اجمالاً بیان کرنا چاہتے ہیں۔ سورہ نساء، آیت نمبر ۱۴۷؍ میں رب العالمین کا اِرشاد ہے:
  ’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے، (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہے۔ ‘‘ 
 مذکورہ بالا آیت میں فرمایا ’’اگر تم نے شکر کیا اور ایماان لائے‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کی اصل شکر ہے۔ آدمی میں جب یہ جذبہ زندہ ہوتا ہے تب ہی اس پر ایمان کی راہ کھلتی ہے۔ 
  قرآن پاک کی موجودہ ترتیب سے بھی ہمارے دعوے کیلئے ایک دلیل ہاتھ آتی ہے۔ قرآن مجید میں سورہ فاتحہ تمام سورتوں سے پہلے ہے اور اس کے متعلق یہ بالاتفاق تسلیم ہے کہ وہ سورۂ شکر ہے۔ اس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ دین کی تمام تعلیمات کا سنگ بنیاد شکر ہے۔ اسی سے اس کے تمام مبادی پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شاید اسی وجہ سےسورہ فاتحہ کا نام ام القرآن بھی ہوا۔ 
 تفصیل بالا سے شکر کی مرکزیت ثابت ہوگئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دینی و دنیاوی ترقیوں میں اس کا کہاں تک دخل ہے؟
شکر دینی و دنیاوی ترقیوں کی اساس ہے
  قرآن پاک کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر اسلامی زندگی کیلئے سراسر باعث ِ حیات ہے اور اس کا فقدان اس کیلئے ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ صدر اول کے مسلمانوں نے اسی حقیقت کو پا کر ایسی درخشاں ترقی کی کہ اس قسم کا عروج چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا۔ لیکن جس وقت سے مسلمانوں نے اس عظیم الشان اصل کو چھوڑا، ان کی رفعتوں کا قصردیکھتے ہی دیکھتے ڈھہ گیا۔ نہ تو ان کے پاس تخت و تاج رہا اور نہ اخلاقی طاقت ہی کے وہ مالک رہ گئے۔ اسی پر معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ اقوامِ عالم کی فہرست میں ان کا نام پست ترین قوموں کے سلسلے میں آنے لگا۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا محض ایک سبب ہے۔ وہ اسی حقیقت کا (جسے شکر سے تعبیر کرتے ہیں ) فقدان ہے۔ یہ شاعری نہیں بلکہ حقیقت ثابتہ ہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے:
 ’’اگر تم شکر ادا کرو گے تو مَیں تم پر (نعمتوں میں ) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے۔ ‘‘ (ابراہیم:۷)
 اس آیت میں تصریح ہے کہ یہ سنت ِ الٰہی ہے کہ ہر وہ جماعت جس میں شکر کا جذبہ ہوگا وہی انعامات ِ الٰہی سے متمتع ہوگی اور جو لوگ اس دولت سے محروم ہوں گے ان کے لئے دنیا میں بھی محرومی ہے اور آخرت میں بھی۔ خدا کا یہ اٹل قانون ہے، اس میں تبدیلی ناممکن ہے۔ امت مسلمہ پر بھی خدا کی یہ سنت جاری ہوئی چنانچہ فرمایا گیا:
 ’’اور آپ اﷲ کے دستور میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ ‘‘ (فتح:۲۳)
  یہی موضوع ایک اور مقام پر یوں مذکور ہے:
 ’’اگر تم کفر کرو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے کفر (و ناشکری) پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں اُن کاموں سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے، بے شک وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو (بھی) خوب جاننے والا ہے۔ ‘‘ (زمر:۷)
 مذکورہ بالا آیت سے یہ ہویدا ہے کہ رضوانِ الٰہی کے حصول کا ذریعہ محض شکر ہے۔ اس کے بغیر نہ تو کسی کی آئندہ زندگی ہی کی تعمیر ممکن ہے اور نہ دنیا ہی میں کوئی نمایاں درجہ حاصل ہوسکتا ہے، اس لئے کہ ہر قسم کے امتیاز کی کلید خدا ہی کے ہاتھ میں ہے، وہی جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل و رسوا کردیتا ہے۔ اور یہ معلوم ہے کہ اس کے تمام امور حکمت پر مبنی ہیں۔ اس لئے انعامات سے وہی لوگ لطف اندوز ہوں گے جو شکر کی دولت سے مالامال ہوں گے۔ مذکورہ بالا آیت اس بارے میں حجۃ قاطعہ ہے۔ 
  اوپر کی تشریح سے یہ حقیقت ذہن نشین ہوگئی ہوگی کہ دینی و دنیاوی ترقیوں کا حصول یکسر شکر پر مبنی ہے۔ اس کے بعد ہم بتانا چاہتے ہیں کہ انسان ہی کیلئے شکر کی صفت مخصوص نہیں ہے بلکہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول ہے۔   قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ان کی نغمہ ریزی مذکور ہے:
 ’’اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ‘‘ (حدید:۱)
 ’’ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ اسی کی ساری بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر بڑا قادر ہے۔ ‘‘ (تغابن:۱)
 ’’(ہر چیز) جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے (جو حقیقی) بادشاہ ہے، (ہر نقص و عیب سے) پاک ہے، عزت و غلبہ والا ہے بڑی حکمت والا ہے۔ ‘‘ (جمعہ:۱)
 ’’اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اسی کا ہے، سب اسی کے اطاعت گزار ہیں۔ ‘‘ (روم:۲۶)
 مذکورہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ خدا کی حمد و تسبیح انسانوں ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی بے پناہ قدرت و جلال کا کلمہ پڑھ رہا ہے، کسی کو اس کی عبدیت سے انکار کی تاب نہیں ہے، سب کے سب اس کی حمد میں نغمہ ریز ہیں اور غافل انسان کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ بھی اپنا ساز چھیڑے تاکہ دونوں کے نغموں سے آسمان و زمین گونج اٹھیں۔ سورہ نور، آیت نمبر ۴۱؍ میں ہے:
 ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے وہ (سب) اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں اور پرندے (بھی فضاؤں میں ) پر پھیلائے ہوئے (اسی کی تسبیح کرتے ہیں )، ہر ایک (اللہ کے حضور) اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے، اور اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔ ‘‘
  ایک دوسری جگہ یوں مذکور ہے:
 ’’اور جو کوئی (بھی) آسمانوں اور زمین میں ہے وہ تو اﷲ ہی کے لئے سجدہ کرتا ہے (بعض) خوشی سے اور (بعض) مجبوراً اور ان کے سائے (بھی) صبح و شام (اسی کو سجدہ کرتے ہیں )۔ ‘‘ (رعد:۱۵)
 مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر ایسا فریضہ ہے جس سے کائنات کا کوئی ذرہ بھی مستثنیٰ نہیں ہے، ہر ایک طوعاً و کرہاً اس کی عظمت و جلال کے سامنے جبین نیاز جھکانے پر مجبور ہے۔ 
  سورہ رحمٰن کی آیت نمبر ۵؍ میں فرمایا گیا ہے: 
  ’’سورج اور چاند (اسی کے) مقررّہ حساب سے چل رہے ہیں۔ ‘‘
  مذکورہ بالا آیت پر غور کیجئے، شمس و قمر کا ایک خاص مقدار سے اپنے حدود میں چکر لگانا کیا ہے؟ بخدا، یہی ان کی نماز ہے۔ 
  ایک اور مقام پر اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
 ’’وہ پاک ہے اور ان باتوں سے جو وہ کہتے رہتے ہیں بہت ہی بلند و برتر ہے۔ ساتوں آسمان اور زمین اور وہ سارے موجودات جو ان میں ہیں، اﷲ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اور (جملہ کائنات میں ) کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے، بیشک وہ بڑا بُردبار بڑا بخشنے والا ہے۔ ‘‘ 
(بنی اسرائیل: ۴۳۔ ۴۴)
 الغرض قرآن پاک میں بے شمار ایسی آیات مذکور ہیں جن سے شکر کی ہمہ گیری اور فطرت کائنات ہونا معلوم ہوتا ہے۔ ان آیات پر غور کرتے ہوئے ہمیں ان سے سیکھنا چاہئے کہ شکر ہر حال میں ضروری ہے۔

قرآنِ پاک کے استقصاء سے معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار مقامات پر خداوندتعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے شکر کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔ سورۂ نحل میں ہے، ترجمہ:
 ’’اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے، اُس نے تمہیں کان دیئے، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیئے، اس لئے کہ تم شکر گزار بنو۔ کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کسی طرح مسخر ہیں ؟ اللہ کے سوا کس نے اِن کو تھام رکھا ہے؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا، اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو، اُس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کر دیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو۔ اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے محمدؐ، تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور اِن میں بیشتر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ‘‘ (آیات ۷۸؍ تا ۸۳)
 مذکورہ بالا آیات سے وجوب شکر کے متعدد پہلو نکلتے ہیں :
 (۱) انسان اپنے وجود میں خدا کا محتاج ہے، اس نہج سے بھی اگر غور کیا جائے تو اس میں وجوب شکر کی بہت بڑی دلیل ہے۔ 
 (۲) خداوندتعالیٰ ہی نے انسان کو قوائے مدرکہ سے آراستہ کیا ہے اسلئے ان قویٰ کا استعمال ایسا ہونا چاہئے جس سے خدا کی خوشنودی حاصل ہو۔ اس میں بھی شکر کے وجود کی دلیل ہے۔ 
 (۳) دنیا میں جتنی مخلوقات ہیں ان میں سے ہر ایک کی پیدائش میں کوئی نہ کوئی غرض ہے۔ کوئی پانی برسانے پر مامور ہے تو کسی کے ذمہ موسم کا خوشگوار بنانا ہے، کسی میں حرارت کا مادہ ہے تو کسی میں برودت کا۔ تو ضرور ہے کہ انسان جو خلاصۂ کائنات ہے، اس کی پیدائش کا بھی کوئی اہم مقصد ہو۔ قرآن مجید نے ان کی زندگی کا نصب العین شکر قرار دیا ہے اور یہی انسان کی فطرت بھی ہے، اس لئے کہ ہر انسان جس میں فکر و نظر کا مادہ ہے، جب وہ اپنے آپ کا اور نظام عالم کا مطالعہ کرے گا تو بے اختیار ہوکر خلاق عالم کے سامنے اپنی جبین نیاز ڈال دے گا۔ 
 ایک اور مقام پر انعاماتِ الٰہی سے شکر پر یوں استدلال کیا گیا ہے:
 ’’اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو تمہارے قابو میں کر دیا تاکہ اس کے حکم سے اُس میں جہاز اور کشتیاں چلیں اور تاکہ تم (بحری راستوں سے بھی) اُس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کر سکو، اور اس لئے کہ تم شکر گزار ہو جاؤ۔ ‘‘  (جاثیہ:۱۲)
 سورہ نحل کی آیات ۱۰؍ تا ۱۴؍ میں بھی نہایت تفصیل سے اللہ نے اپنی نعمتیں یاددلا کر شکر پر ابھارا ہے، شکر کی ترغیب دی ہے:
 ’’وہی ہے جس نے تمہارے لئے آسمان کی جانب سے پانی اتارا، اس میں سے (کچھ) پینے کا ہے اور اسی میں سے (کچھ) شجر کاری کا ہےجن میں تم (اپنے مویشی) چراتے ہو، اُسی پانی سے تمہارے لئے کھیت اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل (اور میوے) اگاتا ہے، بیشک اِس میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے، اور اُسی نے تمہارے لئے رات اور دن کو اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا، اور تمام ستارے بھی اُسی کی تدبیر (سے نظام) کے پابند ہیں، بیشک اس میں عقل رکھنے والے لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں، اور (حیوانات، نباتات اور معدنیات وغیرہ میں سے بقیہ) جو کچھ بھی اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا فرمایا ہے جن کے رنگ (یعنی جنسیں، نوعیں، قسمیں، خواص اور منافع) الگ الگ ہیں (سب تمہارے لئے مسخر ہیں )، بیشک اس میں نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے نشانی ہے، اور وہی ہے جس نے بحر (یعنی دریاؤں اور سمندروں ) کو بھی مسخر فرما دیا تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور تم اس میں سے موتی (وغیرہ) نکالو جنہیں تم زیبائش کے لئے پہنتے ہو، اور (اے انسان!) تُو کشتیوں (اور جہازوں ) کو دیکھتا ہے جو (دریاؤں اور سمندروں کا) پانی چیرتے ہوئے اس میں چلے جاتے ہیں، اور (یہ سب کچھ اس لئے کیا) تاکہ تم (دور دور تک) اس کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرو اور یہ کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔ ‘‘
 دیکھئے مذکورہ بالا آیات میں جو چیزیں مذکور ہیں کیا ان میں سے کسی ایک پر بھی انسان کا تصرف ہے ؟ کیا انسان کے حکم سے پانی برس سکتا ہے اور کیا زمین اس کی خواہش پر اس کے لئے اپنے خزانے اگل سکتی ہے؟ کیا درخت میں اس کے اشارے سے پھل آسکتا ہے اور کیا اختلاف لیل و نہار میں اسے ذرا بھی دخل حاصل ہے؟ غالباً ہر شخص بلاتردد ان سوالات کا جواب ان الفاظ میں دے گا کہ ’’یہ ضرور ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہماری ہی فائدہ رسانی کے لئے ہے اس لحاظ سے یہ پورا کارخانہ ہمارا خادم ہونے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس پورے کارخانے کی باگ کسی اور ہی طاقت کے ہاتھ میں ہے جس کے حکم کے بغیر آسمان و زمین میں کوئی انقلاب نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ پس انسان کی بے بسی کا جب یہ عالم ہے تو پھر اسی کا شکر بھی ہونا چاہئے جس نے یہ سب کچھ اسے عطا کیا ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ شکر کا متلاشی ہے بلکہ اس لئے کہ ہم اس کی نوازشوں کے زیادہ سے زیادہ مستحق ہوسکیں۔ 
شاکروں کے ساتھ خدا کی تائید دنیا و آخرت میں 
  قرآن پاک کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں ان کی تائید دنیا میں بھی ہوتی ہے اور آخرت میں بھی وہی (لوگ) نعمائے الٰہی سے محفوظ ہوں گے۔ سورہ قمر میں ہے:
 ’’قومِ لُوط نے بھی ڈرسنانے والوں کو جھٹلایا، بیشک ہم نے اُن پر کنکریاں برسانے والی آندھی بھیجی سوائے اولادِ لُوط ؑ کے، ہم نے انہیں پچھلی رات (عذاب سے) بچا لیا، اپنی طرف سے خاص انعام کے ساتھ، اسی طرح ہم اس شخص کو جزا دیا کرتے ہیں جو شکر گزار ہوتا ہے۔ ‘‘ (قمر:۳۳؍تا ۳۵)
 مذکورہ بالات آیات میں تصریح ہے کہ حضرت لوطؑ کی قوم ناشکری کے جرم میں ہلاک کردی گئی اور لوطؑ اور ان کے اتباع پر محض ان کی شکرگزاری کی برکت سے آنچ تک نہ آئی بلکہ یہ انہیں کی طرف سے خدا نے پرستارانِ باطل سے انتقام لیا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو جماعت جذبۂ شکر سے معمور ہوگی اس کے دشمنوں کا خدا بھی دشمن ہوگا اور اس کے دوستوں کا بھی خدا دوست ہوتا ہے۔  ایک اور جگہ یوں مذکور ہے:
 ’’اور ہم نے اُن کو (یعنی نوح علیہ السلام کو) تختوں اور میخوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا، جو ہماری نگاہوں کے سامنے (ہماری حفاظت میں ) چلتی تھی، (یہ سب کچھ) اس (ایک) شخص (نوح علیہ السلام) کا بدلہ لینے کی خاطر تھا جس کا انکار کیا گیا تھا۔ ‘‘ (قمر:۱۳۔ ۱۴)
 ان آیات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کی تباہی بھی اسی لئے عمل میں آئی کہ وہ کفرانِ نعمت کے جرم کی مرتکب ہوئی۔ 
  جس طرح دنیا میں شاکروں کے ساتھ خدا کی عنایت شامل ِحال ہوتی ہے اسی طرح آخرت میں بھی اُنہیں سرخروئی حاصل ہوگی۔ 
 سورہ آل عمران میں ہے:
 ’’اور کوئی شخص اللہ کے حکم کے بغیر نہیں مر سکتا (اس کا) وقت لکھا ہوا ہے، اور جو شخص دنیا کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور جو آخرت کا انعام چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے دے دیتے ہیں، اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو (خوب) صلہ دیں گے۔ ‘‘ (آل عمران:۱۴۵)
 دیکھئے مذکورہ بالا آیت میں تصریح ہے کہ شاکر بندوں کے لئے خدا کے حضور میں بڑے بڑے انعامات ہیں۔ ذیل کی آیات اس بارے میں حجۃ قاطعہ ہیں، ملاحظہ ہوں :
 ’’بیشک ابراہیم (علیہ السلام تنہا ذات میں ) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے، اس (اللہ) کی نعمتوں پر شاکر تھے، اللہ نے انہیں چن (کر اپنی بارگاہ میں خاص برگزیدہ بنا) لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت فرما دی، اور ہم نے انہیں دنیا میں (بھی) بھلائی عطا فرمائی، اور بیشک وہ آخرت میں (بھی) صالحین میں سے ہوں گے۔ ‘‘ (نحل: ۱۲۰؍تا۱۲۲)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK