• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال میں عیسائی مخالف تشددکا بڑھتا رجحان

Updated: November 08, 2026, 12:42 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

ایک واقعے میں، ایک پادری پر اس کے اپنے گھر میں حملہ کیا گیا، لیکن بعد میں اسی پادری کو ایک ماہ سے زیادہ جیل میں رکھا گیا کیونکہ پولیس نے حملہ آور شکایت کنندگان کی زیادہ سنی، پادری کی نہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مغربی بنگال بی جے پی کی جیت کے بعد بنگالی عیسائیوں اور ان کے گرجا گھروں پر حملے کئے گئے۔ گزشتہ ہفتے، ’کاروانِ محبت‘ (سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر کی تنظیم) کی قیادت میں ہمارے ایک گروپ نے ریاست بھر کے عیسائیوں کے بیانات سنے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ایک نئی صورتحال ہے۔ حکومت بھلے ہی اس کی حوصلہ افزائی نہ کررہی ہو مگر اس کی خاموش حمایت ظاہر ہے۔  وقت کے ساتھ ان واقعات میں تیزی آسکتی ہے۔
ہمارے گروپ میں شامل سابق ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ جواہر سرکار نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ حملے اس لئے ہو رہے ہیں کیونکہ کچھ غنڈہ عناصر خود کو پارٹی لیڈروں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ چونکہ ریاستی سطح پر بی جے پی کا تنظیمی ڈھانچہ نسبتاً کمزور ہے، اس لئے اس خلا کو پُر کرنے والے تشدد کے ذریعے اپنا اُلو سیدھا کر رہے ہیں۔ متاثرین کے تجربات سننے کے بعد یہ خدشہ بڑھ گیا کہ آنے والے وقت میں ایسے حملوں میں مزید اضافہ ہی ہوگا۔
یہ واقعات اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ جیسی بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں پیش آتے رہے ہیں۔ ان میں عبادت کیلئے جمع ہونے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے خواہ وہ گرجا گھر ہوں یا کسی کے ذاتی مکان میں۔ وہاں مشتعل ہجوم کو لا کر حملہ کروایا جاتا ہے۔ گرجا گھروں کی بے حرمتی کی جاتی ہے (ایک واقعے میں صلیب کو توڑا گیا)، وہاں جمع ہوئے لوگوں کو گالیاں دی جاتی ہیں اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خواتین کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ بعض اوقات انہیں جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسیحی بچوں کو طمانچے مارے جاتے ہیں۔ پادریوں کے ساتھ بُرا سلوک کیا جاتا ہے۔ املاک لوٹی جاتی ہیں، اور الٹا متاثرین کے خلاف ہی مقدمات درج کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق، مئی میں بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک اس نوعیت کے ۴۸؍ حملے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے  ۳۳؍ واقعات ایسے ہیں جن میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
ایک واقعے میں، ایک پادری پر اس کے اپنے گھر میں حملہ کیا گیا، لیکن بعد میں اسی پادری کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک جیل میں رکھا گیا۔ ایسا اس لئے ہوا کیونکہ حملہ آوروں کی شکایت کو، خود پادری پر کئے گئے حملے اور اس کے گھر میں جبراً گھسنے کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی گئی۔ پولیس کا رویہ کیا رہا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں کہ اس معاملے میں بی جے پی کا موقف جگ ظاہر ہے۔
حملہ آوروں کو کچھ عقیدتمندوں کے چوڑیاں پہننے اور سندور لگانے پر اعتراض ہے۔ کیا اس ملک میں، جہاں عقیدہ لچکدار ہے، کسی شخص کا مندر، گردوارے اور درگاہ، تینوں جگہوں پر جانا اور ہر عقیدہ کا احترام کرنا قابلِ قبول نہیں رہ گیا ہے؟
یہاں کچھ اور باتیں بھی قابلِ غور ہیں۔ ایک یہ کہ، کم از کم اب تک، مرکزی دھارے کے گرجا گھروں پر حملے نہیں ہوئے ہیں یعنی کولکاتہ اور دیگر شہروں میں رومن کیتھولک گروہ اور دیگر مستند گرجا گھروں کو ہجوم نے نشانہ نہیں بنایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرپسندوں کے گروہ اگر مدر ٹریسا کی مشنریز آف چیریٹی جیسی جگہوں پر توڑ پھوڑ کریں تو بات محدود نہیں رہ جائیگی، ردعمل پوری دُنیا میں ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ بنگالیوں کو یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنی روایات اور روشن خیالی کی بدولت اس قسم کی نفرت سے محفوظ ہیں۔ کئی مقامات پر ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح حالات بدلتے ہیں اور لوگ آسانی سے سخت گیر ہندوتوا کو قبول کرلیتے ہیں نیز اس کے خلاف حکومتی کارروائیاں کتنی کم ہوتی ہیں۔ اعلیٰ پولیس افسران اور اعلیٰ سرکاری افسران میں، حکومت کی منشا کے مطابق کام کرنے کے بجائے ’’درست‘‘ کام کرنے کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجھے صرف دو آئی اے ایس افسران فی الوقت یاد آتے ہیں جنہوں نے مبینہ سرکاری سرپرستی میں فرقہ وارانہ تعصب کے معاملے پر، اصولی بنیادوں پر استعفیٰ دیا۔ ایک ہرش مندر جنہوں نے گجرات فساد کے بعد استعفیٰ دیا، اور دوسرے کنن گوپی ناتھن جو  ۲۰۱۹ء میں دفعہ ۳۷۰؍ کے خاتمے کے بعد مستعفی ہوئے۔ اس کے علاوہ، راجیہ سبھا کی اپنی مدت ختم ہونے میں دو سال باقی رہتے ہوئے جواہر سرکار نے ۲۰۲۴ءآر جی کر اسپتال عصمت دری سانحہ پر استعفیٰ دیا۔ جیسا کہ کہا گیا، ممکن ہے اور بھی لوگ ہوں مگر وہ ہیں اکا دکا ہی۔ 
معمول یہ ہے کہ جو لوگ دہائیوں تک بظاہر نارمل دکھائی دیتے رہے ہوں، وہ اچانک رنگ بدل سکتے ہیں اور پورے جوش و خروش کے ساتھ ’اکثریت پسند‘ بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمارے وزیر خارجہ ہی کو دیکھ لیجیے۔ سر پینڈرل مون نے ہندوستان پر برطانوی فتح اور تسلط کے بارے میں اپنی دو جلدوں پر مشتمل تصنیف میں یہ سوال اٹھایا تھاکہ ’’یہ کیسے ممکن ہوا کہ دور دراز سرزمین سے آئے ہوئے مٹھی بھر غیر ملکی، ایک ایسے وسیع برصغیر کے مالک بن بیٹھے جس کے باشندوں کی تعداد کروڑوں میں تھی؟“ 
ان کا جواب یہ تھا کہ انگریزوں نے خود ہندوستانیوں کی مدد اور ملی بھگت سے اس ملک کو فتح کیا، اور پھر انہی کے تعاون سے ایک صدی تک یہاں حکومت کی۔ آج بھی بالکل یہی ہو رہا ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ایک سیکولر (غیر مذہبی) آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا اب محض عہدہ اور دیگر مفاد کیلئے سمجھوتے کر رہے ہیں۔
تیسری بات یہ ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے ملک کے آئین کو بے اثر کیا جارہا ہے۔ آرٹیکل ۱۹؍ کے تحت پرامن جلسہ (عوام کا یکجا ہونا) روکا جاچکا ہے، یہاں تک کہ جنتر منتر جیسے نامزد مقام کو اب ڈی نوٹیفائی کردیا گیا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل ۲۵؍ کوئی حقیقی بنیادی حق نہیں ہے مگر یہ ہم سب کو ’’آزادانہ طور پر مذہب کا دعویٰ کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق عطا کرتا ہے۔‘‘ایسے حق محدود کئے جارہے ہیں مگر یہ باقی ہیں تاکہ دُنیا کو بتایا جاسکے کہ ہم جمہوریت ہیں اور بلا تفریق ہر مذہب اور طبقے کے لوگوں کو یکساں مواقع دیتے ہیں۔ فرقہ پرستی اور سیاسی اکثریت پرستی کو ملک کے مسلمانوں نے کافی جھیلا ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ تبدیلیٔ حکومت کے بعد مغربی بنگال کے اب عیسائی عوام بھی اس کے نشانے پر ہیں اور ان کے خلاف تسلسل کے ساتھ واقعات ہورہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK