Updated: November 07, 2026, 5:02 PM IST
| New York
امریکی ریپر میکلمور نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے ۹؍ بڑے ایریناز (کنسرٹ ہالز) نے فلسطین کی حمایت میں کنسرٹس کے انعقاد کے ان کے منصوبوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے جن مقامات کے نام لئے ان میں میڈیسن اسکوائر گارڈن، پروڈینشل سینٹر، بارکلیز سینٹر، یو بی ایس ایرینا، انٹیوٹ ڈوم، کیا فورم، کرپٹو ڈاٹ کام ایرینا، چیس سینٹر اور کلائمیٹ پلیج ایرینا شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر کے وسط تک ان کی ٹیم کو سال کے اختتام تک ان مقامات پر دستیاب تاریخوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن جیسے ہی منتظمین کو پتہ چلا کہ ان کنسرٹس سے ہونے والی آمدنی فلسطینی عوام کیلئے وقف کی جائے گی، وہ تمام پیشکشیں غائب ہوگئیں۔
امریکی ریپر میکلمور نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے ۹؍ بڑے ایریناز (کنسرٹ ہالز) نے فلسطین کی حمایت میں کنسرٹس کے انعقاد کے ان کے منصوبوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ان مقامات کی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ کنسرٹس ان کے ’فری فلسطین‘ امدادی ٹور کا حصہ ہیں، تو انہوں نے ان تقاریب کو روک دیا۔
جمعہ کے روز انسٹاگرام پر ایک تفصیلی بیان میں، گریمی ایوارڈ یافتہ فنکار نے کہا کہ وہ ڈبلن، پیرس اور لندن میں کامیاب شوز کے بعد اس ٹور کو امریکہ لانا چاہتے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ ”ہفتوں رابطے کرنے کے بعد، امریکہ کے ۹؍ بڑے ایریناز نے ہمیں انکار کر دیا ہے۔“ میکلمور نے جن مقامات کے نام لئے ان میں میڈیسن اسکوائر گارڈن، پروڈینشل سینٹر، بارکلیز سینٹر، یو بی ایس ایرینا، انٹیوٹ ڈوم، کیا فورم، کرپٹو ڈاٹ کام ایرینا، چیس سینٹر اور کلائمیٹ پلیج ایرینا شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ستمبر کے وسط تک ان کی ٹیم کو سال کے اختتام تک ان مقامات پر دستیاب تاریخوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، جیسے ہی منتظمین کو پتہ چلا کہ ان کنسرٹس سے ہونے والی آمدنی فلسطینی عوام کیلئے وقف کی جائے گی، وہ تمام پیشکشیں غائب ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں۶۸؍ ملین ٹن ملبہ ماحولیاتی، انسانی تباہی کا باعث ہے: فلسطینی اتھاریٹی
اپنے بیان میں میکلمور نے مزید کہا کہ کنسرٹ ٹورز کرتے ہوئے دو دہائیوں سے زائد عرصہ میں انہیں کبھی اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے تفریحی صنعت کی بااثر شخصیات پر فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے فنکاروں کو خاموش کرانے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تجارتی مفادات کو اظہارِ رائے کی آزادی پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ”ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جو آزادیِ اظہار پر فخر کرتا ہے۔“ انہوں نے سوال کیا کہ دولت مند افراد کو یہ فیصلہ کرنے کا حق کیوں ہونا چاہئے کہ فنکار کن مقاصد کی حمایت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے فلسطین کے حامیوں کی آوازوں کو ڈرانے دھمکانے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ انہوں نے اسی طرح کے سابقہ تجربات پر پہلے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسکولوں پرشکنجہ، اسرائیلی نصاب پڑھانے پر زور
”ہم اپنے اسٹیج خود بنائیں گے“
میکلمور نے ٹور کے یورپی مرحلے کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ مکمل طور پر بک تین شوز نے دسیوں ہزار افراد اور فلسطینی حقوق کی حمایت کرنے والے ۴۰ سے زائد فنکاروں اور مقررین کو یکجا کیا۔ انہوں نے امدادی کنسرٹس کا سلسلہ جاری رکھنے کا وعدہ کیا، جو ممکنہ طور پر امریکہ سے باہر منعقد کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”فنڈز جمع کرنے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہمارا عزم بدستور قائم ہے۔ ہم اپنے اسٹیج خود بنائیں گے۔“