• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گزشتہ دس دنوں میں چار ممالک میں انتخابات کےبعد اسرائیل کو سفارتی دھچکوں اور واشنگٹن کے دباؤ کا سامنا

Updated: November 05, 2026, 10:02 PM IST | Tel Aviv

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر لکھا کہ ۲۰۲۴ء میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ووٹرز جنہوں نے (حالیہ الیکشن میں) ڈیموکریٹس کی حمایت کی، وہ اسرائیل کے ساتھ بدلتے ہوئے امریکی تعلقات سے متاثر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہماری شکست کی وجہ (ایران) جنگ ہے۔“ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن سال کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد بند کر دے گا۔ نیتن یاہو کے ساتھ ایک سابقہ معاہدے کے تحت یہ امداد کم ہو کر تقریباً ۴ بلین ڈالر سالانہ رہ جائے گی۔

Benjamin Netanyahu. Picture: X
بنجامن نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس

گزشتہ ۱۰ دنوں کے اندر بیرونِ ملک تین اور اندرونِ ملک ایک الیکشن نے اسرائیل کی سفارتی پوزیشن کو کمزور کر دیا ہے، واشنگٹن میں اس کی جانچ پڑتال بڑھا دی ہے اور اسرائیلی پارٹیوں کو حکومت سازی کیلئے مشکلات میں ڈال دیا ہے۔  ان دھچکوں کا آغاز ۲۵ اکتوبر کو سربیا میں ہوا۔ اسرائیل کے مضبوط اتحادی، الیگزینڈر ووچک کی قیادت والے اتحاد کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی حمایت یافتہ اینٹی کرپشن لسٹ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سربیا اسرائیل کو اہم گولہ بارود فراہم کرتا رہا ہے۔ اگست ۲۰۲۵ء میں اس نے اسرائیلی ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز خریدنے کیلئے ۶ء۱ بلین ڈالر کے معاہدے پر بھی دستخط کئے تھے۔ انتخابات میں فتح حاصل کرنے والی ’اسٹوڈنٹ لسٹ‘ نے تنازعات والے علاقوں کو ہتھیاروں کی برآمد روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کو ختم کرنے کی مبینہ کوشش میں ”شراکت دار“ نہیں بنے گی۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے اسرائیل کی عرب جوائنٹ لسٹ اور ڈیموکریٹس متحد

برازیل میں، صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے فلاویو بولسونارو کے خلاف دوبارہ انتخاب جیت لیا۔ لولا دا سلوا کی واپسی نے برازیل کے ساتھ قریبی تعلقات کی اسرائیلی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ لولا کے دور میں، برازیل نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جنوبی افریقہ کے نسل کشی کے مقدمے کی باضابطہ حمایت کی تھی۔

۲۷ اکتوبر کو خود اسرائیل کے انتخابات میں کسی بھی بڑے اتحاد کو حکومت بنانے کیلئے درکار نشستیں نہیں مل سکیں۔ بنجامین نیتن یاہو کے بلاک نے ۱۲۰ رکنی کنیسیٹ (پارلیمنٹ) میں سے ۵۳ نشستیں حاصل کیں، جو اکثریت سے آٹھ نشستیں کم ہیں۔ صدر اسحاق ہرزوگ نے بدھ کے روز پارٹیوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ اگلی حکومت کسے بنانی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: نائب صدر ٹرمپ کے ناراض حامیوں کے ساتھ ایک نیا سیاسی اتحاد بنانے کے خواہاں: رپورٹ

واشنگٹن کا دباؤ

امریکہ میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔ دی یروشلم پوسٹ نے مشی گن سے نو منتخب سینیٹر عبدل السید جیسی شخصیات کی طرف اشارہ کیا اور سوال اٹھایا کہ ہتھیاروں کی منتقلی پر بحث کے دوران اسرائیل کے حوالے سے تنقیدی نظریات کس حد تک زور پکڑیں گے۔ نئی کانگریس کا اجلاس ۳ جنوری کو ہوگا۔ اخبار نے متنبہ کیا کہ واشنگٹن اس دوران تعلقات کے مستقبل پر بحث کر سکتا ہے جب اسرائیلی جماعتیں تاحال مخلوط حکومت کے مذاکرات میں الجھی ہوئی ہوں گی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایکس پر لکھا کہ ۲۰۲۴ء میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ووٹرز جنہوں نے (حالیہ الیکشن میں) ڈیموکریٹس کی حمایت کی، وہ اسرائیل کے ساتھ بدلتے ہوئے امریکی تعلقات سے متاثر تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہماری شکست کی وجہ (ایران) جنگ ہے۔“ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ واشنگٹن سال کے اختتام تک اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد بند کر دے گا۔ نیتن یاہو کے ساتھ ایک سابقہ معاہدے کے تحت یہ امداد کم ہو کر تقریباً ۴ بلین ڈالر سالانہ رہ جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK