گلزار دہلوی اُس تہذیب کے نمائندہ تھے جو جامع مسجد کی سیڑھیوں سے دِل میں اُترا کرتی تھی

Updated: June 15, 2020, 12:17 PM IST | Mubasshir Akbar | Mumbai

ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے علمبرداراور داغ اسکول کے آخری چراغ گلزاردہلوی کےسانحہ ارتحال پر ان شعراء و ادباء کا خراج عقیدت جنہوں نے انہیں نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ان کے ساتھ مشاعرے بھی پڑھے

Gulzar Dehlavi - Pic : INN
گلزار دہلوی ۔ تصویر : آئی این این

 پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی  ہندوستان کی سیکولر روایات  کے امین، گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار اور اردو تہذیب و ثقافت کا مجسم پیکر تھے۔ ان کی زبان اور لفظیات کا ذخیرہ، لہجے کی کھنک، ان کے رکھ رکھائو کا انداز اور برتائو کا سلیقہ، انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتا تھا۔ ان کے جانے سے وہ ایک روایت ختم ہوتی محسوس ہورہی ہے جس کا سرا فراق گورکھپوری، تلوک چند محروم، برج نرائن چکبست  اور ان سے آگے کے اکابرین تک پہنچتا ہے۔ یہ وہ شخصیات تھیں جن کی مادری زبان اردو تھی اور جنہوں نے اس زبان کو ثروت مند بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک سرتاپا اردو بن کر زندگی گزارنے والے گلزار دہلوی گزشتہ دنوں اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ۔ ان کا نام اردو ادب اور دہلوی تہذیب کا استعارہ بن گیا تھا۔ ان دونوں  چیزوں کو  ان کی ذات سے الگ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ان کے سانحہ ارتحال پرہم نے ان شعراء سے گفتگو کی جنہیں ان کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا تھا ۔
 ممتاز شاعر و ادیب عرفان جعفری نے گلزار دہلوی کے انتقال کو اردو زبان و ادب اور تہذیب کا عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اردو، اردو تہذیب اور وہ شخصیات جو مرصع کہلاتی ہیں اب خال خال ہی نظر آتی ہیں بلکہ مفقود ہوتی جا رہی ہیں۔انہی روشن ستاروں میں سے ایک ستارہ اور ٹوٹ گیا۔ گلزار دہلوی کا انتقال ،دہلی کی اس  تہذیب کا نقصان عظیم ہے جو جامع مسجد کی سیڑھیوں سے دل میں اُترا کرتی تھی۔‘‘ عرفان جعفری کے مطابق ہم ان نصیب والوں میں ہیں جنہوں نے شیروانی ، چوڑے پاجامے اور ٹوپی میں ملبوس اس شخص کو دیکھا تھا جو گلاب کا پھول اپنے جیب میں لگاتا تھا۔ان کی ٹکسالی زبان سے دلی کی روداد سنی تھی۔ اردو سے مثالی محبت سے جس کا چہرہ منور رہتا تھا۔ گلزار دہلوی کو میں نے اول اول کبھی ٹی وی اور پھر نہرو سینٹر کے مشاعروں میں دیکھا اور سنا ۔اردو کے لفظ ان کے لبوں سے پھول کی طرح برستے تھے۔داغ دہلوی کی وراثت کا پاس اور لحاظ اور ساتھ ہی اس لہجے میں ڈھلی اور دھلی ہوئی شاعری بھی سنی اور پھر وہ دن بھی آیاجب ان کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ۔ عرفان جعفری نے ایک واقعہ بتایا کہ ایک بار جب بطور ناظم مشاعرہ ان کو دعوت سخن دینی تھی تو الفاظ گم ہو گئے تھے۔ وہ محفل میں زوال پذیر تہذیب و تمدن کی آخری شمع کی طرح جلوہ افروز رہتے تھے جو اب خموش ہو گئی۔جو شخص اپنی گفتگو سے یہ ثابت کیا کرتا تھا کہ اردو کسی ایک مذہب اور فرقے کی زبان نہیں ہے  اس کا جانا شخصی نقصان تو ہے ہی ، اردو زبان اور معاشرے کا بھی زیاں ہے اور یہ نقصان ناقابل تلافی ہے۔
  مشہور شاعر ساگر ترپاٹھی جو خود گنگا جمنی تہذیب کے پروردہ ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں ، نے گلزار دہلوی کے انتقال کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیتے ہوئے بتایا کہ’’ ہمارا گلزار دہلوی صاحب سے صرف ادبی رشتہ نہیں تھا  بلکہ وہ ہمارے دادا حضور کے بہت قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے ۔  یہ میری خوش قسمتی رہی کہ میں نے ان کے ساتھ کئی مشاعروں میں شرکت کی ۔ ‘‘ ساگر ترپاٹھی کے مطابق گلزار صاحب نہ صرف گنگا جمنی تہذیب کی علامت تھے بلکہ وہ اس تہذیب کو جیتے تھے اور میرا خیال ہے کہ موجودہ وقت میں وہی تنہا ایسی شخصیت تھے جنہیں ملک کی مشترکہ وراثت کا امین قرار دیا جاسکتا ہے۔  ان کا اُٹھ جانا صرف اردو زبان و ادب کا ہی نہیں بلکہ تہذیب و آداب کا بھی نقصان ہے اور مجھے یقین ہے کہ اب یہ خلاء کبھی پُر نہ ہوسکےگا۔ساگر ترپاٹھی، جو حمد اور نعتؐ گوئی میں بھی  ید طولیٰ رکھتے ہیں،   نے بتایا کہ گلزار دہلوی  میں جینے کی بہت چاہت تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی طویل عمر کا راز اردو زبان و ادب سے ان کے عشق میں پوشیدہ تھا ۔  وہ نہ صرف اردو کو جیتے تھے بلکہ اس تہذیب کی نمائندگی کرنے میں بھی کبھی پیچھے نہیں رہتے تھے۔ہم نے ان کے زیر سایہ سخنوری اور شعر گوئی کا ذوق حاصل کیا ہے۔ ان کا انتقال اس بات کا اشارہ ہے کہ اب کوئی دوسرا گلزار دہلوی نہیں آئے گا۔
 سینئر شاعر فہیم صدیقی  نے گلزار دہلوی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ گلزار صاحب  شعری دبستان  داغ دہلوی کے نمائندہ شاعر تھے۔ تمام عمرانہوں نے غزل کی آبیاری کی ۔ شعر پڑھتے وقت وہ سراپا شعر ہو جاتے تھے۔  میرے لئے بہت اعزاز کی بات ہے کہ شولاپور میں منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے مشاعرے میں ان کے ساتھ شعر کہنے کا موقع ملا ۔‘‘ فہیم صدیقی کے مطابق گلزار دہلوی نے کئی شعراء کی نہ صرف تربیت کی بلکہ مشاعروں میں اپنی نشست و برخاست کے انداز اور شعر گوئی کے طریقے سے بھی انہوں نے کئی اذہان کو متاثر کیا ۔
 معروف شاعروادیب عبید اعظم اعظمی کے مطابق گلزار دہلوی  اردو تہذیب کی آخری متحرک تصویر تھے۔ان کی زبان انتہائی شستہ و شائستہ اور شاعری خالصتاً داغ اسکول کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ان کے شعر سنانے میں بھی بڑی دل آویزی تھی۔ مشاعروں میں وہ چھا جاتے تھے۔اپنے خوبصورت کلام اور فن تقریر کے ذریعے تقریباً اسّی پچاسی  برس تک سامعین و قارئین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ مولانا حسین احمد مدنی، مولانا حفظ الرحمٰن اور پنڈت جواہرلال نہرو جیسی قدآور شخصیات کے چہیتے رہے۔ عبید اعظم کے مطابق ایک بار دوران گفتگو گلزار صاحب  نے ناچیز کو یہ راز کی بات بتائی تھی کہ ان کے اصرار پر شاہ سعود نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں خانۂ کعبہ کی زیارت کروائی تھی۔ ادبی جلسوں میں ان کی تقریر سننے سے تعلق رکھتی تھی۔ممبئی کے مشاعروں اور ادبی تقاریب میں بھی تواتر کے ساتھ شرکت فرماتے تھے۔ مجھے کم وبیش پچیس برس ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے کا شرف حاصل رہا ہے۔  ان سے آخری ملاقات  ۱۶؍ اگست   ۲۰۱۹ ءکو دہلی اردو اکادمی کے مشاعرے میں ایوان غالب میں ہوئی تھی۔ کمزوری کے سبب ان کی آواز میں نقاہت ضرور تھی مگر شوخی و  بانکپن میں غالب کے شعر کی تصویر بنے ہوئے تھے  ۔گلزار صاحب کی اس جہان  فانی سے رخصتی اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب کا بھی ناقابل تلافی نقصان ہے۔
  معروف شاعرہ  دپتی مشرا نے گلزار دہلوی کو پنڈت نہرو سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح پنڈت نہرو گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ تھے اسی طرح گلزار دہلوی بھی تھے۔ وہ نہ صرف شعر گوئی اور سخنوری میں راہیں متعین کرتے تھے بلکہ ہم جیسے شعراء کے لئے تو وہ ایک اسکول کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ کافی رکھ رکھائو والی شخصیت تھے ۔ ان کے ساتھ مشاعرہ پڑھنے  یا اس مشاعرہ میں شرکت کرنے کا جو لطف تھا وہ ہم ہی جانتے ہیں۔ دپتی مشرا کے مطابق ہم نے ان کا نام بہت سنا تھا لیکن جب انہیں پہلی مرتبہ مشاعرہ پڑھتے ہوئے سنا تو مبہوت  ہو گئے تھے۔ وہ شخصیت ہی ایسی تھے کہ ان کا مقابل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا ۔ ان کی ایک خاص بات جو میں قارئین کو بتانا چاہوں گی وہ یہ کہ انہیں اپنے ہم عصر شعراء کے ساتھ ساتھ جونیئر شعراء کا بھی بیشتر کلام ازبر تھا اور اکثر و بیشتر گفتگو کے دوران وہ ہمیں ہمارے ہی اشعار  سے مخاطب کرکے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا کرتے تھے۔
 معروف شاعر منظر خیامی نے بتایا کہ گلزار دہلوی اردو کے شاعر کی حیثیت سے عالم گیر شہرت یافتہ قلم کار تھے ۔وطن سے محبت ،بلا تفریق ذات و مذہب اخوت کے رشتہ کے قدرداں اور ہندوستان کو انسانیت ، انسانیت کو ہندوستان کا درجہ دیا کرتے ۔ان کی شاعری سے  اس بات کا صاف انکشاف ہوا کرتا کہ دیر و حرم کی سوچ میں بھی نوع انسان ایک قوم ہے۔کسی کے لہو کا رنگ الگ الگ نہیں ۔شاعر ہونا بڑی بات نہیں مگر بلند اخلاقیات کے ساتھ قلم قرطاس پہ چلانا عظیم مرتبت شاعروں کے ہی بس کی بات ہے  اورگلزار دہلوی اس فن میں طاق تھے۔انسانی فلاح اور فن کی جِلا کیلئے وہ اپنے لفظوں کے توسط سے ہمیشہ پیغام یگانگت دیتے رہے ۔ان کی تقریر میں بھی تاثیر ہوا کرتی تھی ،زندگی اور فن کی اہمیت  پہ ان کی عمیق نگاہ رہی۔  وہ محض شعر کہنے کے لئے نہیں کہتے تھے بلکہ فن اور فن کار کی ذمہ داری سمجھتے تھے اسی لئے ان کے اشعار میں بے مقصدیت نہیں ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK