Inquilab Logo Happiest Places to Work

گرودت نے لازوال مزاحیہ اور بے مثال سنجیدہ فلمیں بنائیں

Updated: July 09, 2026, 12:09 PM IST | Agency | Mumbai

بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار، ہدایت کاراور فلمساز گرو دت کا اصل نام وسنت کمار شیو شنکرپڈوکون تھا۔وہ ہندی سنیما کی تاریخ کی سب سے بااثر اور تخلیقی شخصیتوں میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش۹؍جولائی ۱۹۲۵ءکو بنگلور میں ہوئی تھی تاہم تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔

Guru Dutt.Photo:INN
گرو دت۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار، ہدایت کاراور فلمساز گرو دت کا اصل نام وسنت کمار شیو شنکرپڈوکون تھا۔وہ ہندی سنیما کی تاریخ کی سب سے بااثر اور تخلیقی شخصیتوں میں سے ایک مانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش۹؍جولائی ۱۹۲۵ءکو بنگلور میں ہوئی تھی تاہم تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔گرودت ۲۰؍برس کی عمر میں ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹرکے طور پر فلمی دنیا میں داخل ہو چکے تھے۔ جہاں انہیںگیان مکرجی اور امیہ چکروتی جیسے ہدایتکاروں کےساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔انھیں دنوں ان کی ملاقات گورنمنٹ کالج لاہور سےتعلیم مکمل کرنے والے ایک خوبرو نوجوان دیو آنند سے ہوئی جو فلموںمیں اداکارکےطور پرقسمت آزما رہے تھے۔ دونوں میں خاصی دوستی ہوگئی اور پھر دونوں میں ایک دوستانہ معاہدہ ہوا۔طے یہ پایا کہ اگر گرُو دت پہلے ہدایتکار بن جاتے ہیںتو وہ اپنی پہلی فلم میں دیوآنند کو کام کرنے کا موقع دیںگے اور اگر دیوآنند نے پہلے فلمسازی کی تو وہ گرو دت کا انتخاب ڈائرکٹرکے طور پر کریں گے۔ اس واقعے کےڈھائی تین برس بعد دیو آنند کے بڑے بھائی نے اپنی فلم کمپنی شروع کرکے پہلی فلم ’بازی‘کا اعلان کیا۔ دیوآنند اس فلم میں ہیرو تھے۔ انھوں نے وعدے کے مطابق ہدایتکاری کے فرائض گرُو دت کے حوالے کر دیئے اوریوں دونوں وعدے ایک ساتھ پورے ہوگئے۔اکثرلوگ فلم ’بازی‘کوگرو دت کی پہلی فلم سمجھتے ہیں لیکن گرو دت ’بازی‘ سے پہلے ۳؍فلموں سے وابستہ رہے۔یہ فلمیں ’لاکھا رانی‘ (۱۹۴۵ء)، ’ہم ایک ہیں‘ (۱۹۴۶ء)اور’گرلز اسکول‘ (۱۹۴۹ء) تھیں۔
 
 
فلموںمیںاپنے کریئرمیں اُنہوں نے بطور اداکار کُل ۱۷؍فلموں میں کام کیا اور اُن میں سے۸؍ فلمیں انہوں نے خود ڈائریکٹ کیں اور یہی فلمیں اُن کی سب سے بہترین فلمیں بھی ثابت ہوئیں۔ ان کی مشہور فلموں میں ’صاحب، بیوی اور غلام‘ اور ’چودہویں کا چاند‘شامل ہیں جو انہوں نے خود ڈائریکٹ نہیں کیں۔ اگر گرو دت کی ۴؍فلموں کو بے مثال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان میں۲؍مزاحیہ اور۲؍سنجیدہ فلمیں شامل ہیں۔ گرو دت کے کام کرنے کا طریقہ کچھ ایسا تھا کہ وہ پہلے ایک کامیڈی بناتے اور اُس کے فوراً بعد ایک سنجیدہ فلم بنانا شروع کر دیتے۔’آرپار‘اور ’مسٹر اینڈ مسز ففٹی فائیو‘ کا شمار ہندوستان کی یادگار مزاحیہ فلموں میں کیا جاتا ہے جبکہ ’پیاسا‘اور’کاغذ کے پھول‘نہ صرف ہندوستانی بلکہ عالمی سنیماکی دو نہایت ہی اہم فلمیں مانی جاتی ہیں۔ اِن دو فلموںمیں سے’پیاسا‘ ایک بہترین فلم تھی جو کافی مقبول ہوئی۔
 
 
۱۹۵۶ءمیںگرودت کی فلم سی آئی ڈی منظر عام پر آئی،بازی اور آرپار کی طرح یہ بھی جرم و سزا کی ایک کہانی تھی لیکن اس میں گرُو دت نے وحیدہ رحمان کو متعارف کرایا اور ہدایتکار کی ذاتی زندگی میں یہ واقع ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوا۔گُرو دت کو اُردو سے محبت تھی۔ اُن کی فِلموں میں ایسی اردو شاعری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جس کا جنم بمبئی کی فلم انڈسٹری میں ہوا اِور جس کا اثر آج بھی فلم انڈسٹری پر صاف نظرآتاہے۔ ۱۰؍اکتوبر ۱۹۶۴ءکا دِن، گرودت کے چاہنے والوں کے لئے بڑا مایوس کن تھا۔ جب گیتا دت کے اصرار پر بیڈروم کا دروازہ توڑا گیا تو اندر بستر پر گرُو دت ابدی نیند سو رہے تھے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK