الفاظ دراصل انسان کے اندر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں وہ نرمی، شائستگی اور محبت سے بات کرتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کسی کیلئے بغض و عناد نہیں پالتے اور اپنے خیال کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔
دوسروں کو معاف کرنے سے سکون میسر آتا ہے-تصویر:آئی این این
الفاظ دراصل انسان کے اندر کا آئینہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں وہ نرمی، شائستگی اور محبت سے بات کرتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کسی کیلئے بغض و عناد نہیں پالتے اور اپنے خیال کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس تلخ اور ترش لہجے میں بات کرنے والا انسان اندر سے کمزور، عدم برداشت، اور محدود ذہنیت والا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو درگزر کیجئے۔ درگزر کرنا کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ یہ وہ وصف ہے جو انسان کو ذہنی سکون عطا کرتا ہے اور اس کی شخصیت کو وقار بخشتا ہے۔ اس خیال کو عملی زندگی میں لانے کیلئے صرف سمجھ کافی نہیں بلکہ ہمیں اپنے اندر واضح اور شعوری تبدیلیاں لانا چاہئے۔ یہ تبدیلیاں مندرجہ ذیل ہیں:
ذاتی شعور پیدا کریں: سب سے پہلے ہم خود کو سمجھنا سیکھیں۔ ذاتی شعور یہ ہے کہ آپ خود آگاہ ہوں کون سی بات آپ کو تکلیف دیتی ہے؟ آپ کن باتوں سے متاثر ہوتے ہیں؟ اپنے جذبات کو پہچانیں۔
درگزر کی عادت اپنائیں: اگر کوئی آپ کے بارے میں غلط کہہ رہا ہے تو اِسے نظرانداز کریں۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ کا پلٹ کر جواب نہ دینا اسے خاموش کرا دیگا یہ ضروری نہیں۔ درگزر کرنے سے آپ کا سکون برقرار رہتا ہے اور آپ غیر ضروری تنازعات سے بچے رہتے ہیں۔
حدود مقرر کریں: درگزر کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی عزت نفس کو مجروح کریں۔ اگر کوئی بار بار یہ کر رہا ہے تو آپ اپنی حد مقرر کریں اور ایسے لوگ سے دوری اختیار کریں۔
خود اعتماد بنیں: جب آپ اپنی قدر خود کرتے ہیں تو دوسروں کے الفاظ آپ کو کم متاثر کرتے ہیں۔ اور آپ کے اندر خود اعتمادی خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ خود اعتماد بنیں تاکہ کوئی آپ کو توڑ نہ سکے۔
ردعمل کے بجائے جواب دینا سیکھیں: ردعمل جذباتی ہوتا ہے جبکہ جواب سوچا سمجھا اور متوازن عمل ہے۔ اس لئے کسی کے تلخ رویے کے جواب میں فوری ردّعمل ظاہر نہ کریں بلکہ تھوڑا ٹھہر کر سوچ کر جواب دیں۔
اچھے اخلاق کو اپنا شعار بنائیں: آپ اپنے اخلاق کو سنوار لیں تو دوسروں کی باتیں آپ کیلئے باعث تکلیف نہیں ہوں گی کیونکہ دوسروں کے رویے ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے لیکن ہمارا اپنا کردار اور اخلاق ہمارے اختیار میں ہے۔
حقیقت میں ہمارے معاشرے کی خوبصورتی باہمی احترام، برداشت اور رواداری سے قائم رہتی ہے۔ اگر ہم دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنا اور درگزر کرنا سیکھ لیں تو بہت سے اختلافات اور تنازعات سے بچ سکتے ہیں۔ معاف کرنا سیکھیں اور پُرسکون رہیں۔