Inquilab Logo Happiest Places to Work

حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ ملک کے خزانوں کی حفاظت میرے سپرد کردیجئے

Updated: April 13, 2022, 9:58 AM IST | Agency | Mumbai

حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ چل رہا تھا، عورتوں کے اعترافِ گناہ کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ سب کچھ میں نے اس لئے کیا تاکہ عزیز مصر کو یقین ہوجائے کہ میں نے ان کی غیرموجودگی میں خیانت نہیں کی تھی اور میں کچھ اپنے نفس کی برأ ت نہیں کررہا ہوں ، نفس تو بری بات پر اکساتا ہی ہے،

This (Qur`an) is a message for all human beings and that is why it should be used to warn..Picture:INN
یہ(قرآن) ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے اوراس لئے ہے کہ ان کو اس کے ذریعے خبر دار کردیا جائے۔۔ تصویر: آئی این این

حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ چل رہا تھا، عورتوں کے اعترافِ گناہ کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ سب کچھ میں نے اس لئے کیا تاکہ عزیز مصر کو یقین ہوجائے کہ میں نے ان کی غیرموجودگی میں خیانت نہیں کی تھی اور میں کچھ اپنے نفس کی برأ ت نہیں کررہا ہوں ، نفس تو بری بات پر اکساتا ہی ہے، الا یہ کہ میرا رب رحم فرمائے۔ بلاشبہ میرا رب مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ بادشاہ نے کہا کہ انہیں (یوسف کو) میرے پاس لاؤ میں انہیں اپنے لئے خاص کرلوں گا جب بادشاہ نے ان سے بات چیت کی تو کہنے لگا: آج سے آپ ہمارے یہاں انتہائی قابل احترام ہیں اور ہمیں آپ کی امانت داری پر پورا بھروسہ ہے۔ یوسف علیہ السلام نے کہا کہ ملک کے خزانوں کی حفاظت میرے سپرد کردیجئے، میں حفاظت کرنے والا اور نہایت با خبر ہوں۔اس طرح ہم نے یوسفؑ کو اس زمین میں قدرت دی اور اختیار دیا کہ وہ جہاں چاہیں رہیں۔ ہم اپنی رحمت سے جسے چاہتے ہیں نواز دیتے ہیں ۔  آگے  اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یوسف (علیہ السلام) کے بھائی (مصر)  آئے اور ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، یوسف ( علیہ السلام) نے انہیں پہچان لیا مگر وہ یوسف کو نہ پہچان سکے اور جب واپس ہونے لگے اور یوسف نے ان کا رخت سفر تیار کردیا تو فرمایا کہ تم (آئندہ) اپنے علاتی بھائی (جو یوسف کے حقیقی بھائی تھے) کو بھی ساتھ لانا، تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانے بھر دیتا ہوں (خوب دیتا ہوں) اور میں بہترین مہمان نواز ہوں اور اگر تم اس کو میرے پاس لے کر نہیں آئے تو نہ تمہارے لئے میرے پاس غلہ ہوگا اور نہ تم میرے قریب آنا۔ کہنے لگے کہ ہم والد صاحب کو اس بات پر آمادہ کریں گے کہ وہ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں سے کہا کہ جو سامان یہ لے کر آئے تھے وہ ان ہی کے سامان میں رکھ دو، شاید وہ اپنے گھر پہنچ کر واپس کیا ہوا مال پہچان جائیں، عجب نہیں کہ پھر واپس آئیں، جب وہ لوگ والد کی خدمت میں پہنچے تو کہنے لگے کہ ابا جان! ہمیں غلہ دینے سے منع کردیا گیا ہے، اس لئے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے، ہمیں غلہ مل جائے گا اور ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے، والد نے فرمایا :کیا اس کے سلسلے میں تم پر ایسا ہی اعتبار کروں جیسا اعتبار میں تم پر اس کے بھائی کے سلسلے میں  پہلےکرچکا ہوں، بہر حال اللہ حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو انہیں ان کا سامان مل گیا جو انہیں واپس کردیا گیا تھا ۔کہنے لگے: ابا جان اب ہمیں کیا چاہئے، یہ ہمارا سامان ہمیں واپس مل گیا ہے، اب ہم اپنے گھر والوں کے لئے غلہ لائیں گے اور بھائی کی بھی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا سامان زیادہ لے کر آئیں گے اور یہ اضافہ آسانی سے ہو جائے گا۔ والد نے کہا کہ میں اسے تمہارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے یہ وعدہ نہ کرو گے کہ تم اسے ضرور ساتھ لے کر آؤ گے، الا یہ کہ تم کہیں گھیر لئے جاؤ۔بہر حال انہوں نے پختہ وعدہ کیا ۔حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں نصیحت کی: اے بیٹو! تم ایک دروازے سے مت داخل ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا، جب یہ لوگ والد کے حکم کے مطابق شہر میں داخل ہوئے تو والد کی یہ احتیاطی تدبیر بھی ان کے کچھ کام نہ آئی، اگرچہ انہوں نے اپنے والد کے دل کی بات پوری کرنے کیلئے اپنی سی کوشش کرلی، بلاشبہ یعقوب (علیہ السلام) بڑے عالم تھے  ہماری دی ہوئی تعلیم کی وجہ سے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بلایا اور کہنے لگے :میں تیرا بھائی ہوں، یہ بھائی جو کچھ کرتے ہیں، اس سے آزردہ مت ہونا، جب (دوبارہ واپسی کا سفر شروع ہوا) اپنا سامان لادنے لگے تو انہوں  (حضرت یوسف علیہ السلام )نے اپنے بھائی کے سامان میں ایک (قیمتی) پیالہ رکھوا دیا ، اس کے بعد ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم چور ہو، انہوں نے پلٹ کر پوچھا :تمہاری کیا چیز گم ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے بادشاہ کا پیالہ گم ہوگیا ہے جو شخص وہ پیالہ لا کر دے گا، اس کو ایک اونٹ کے بوجھ کے بقدر انعام دیا جائے گا۔ بھائیوں نے کہا کہ بخدا تم جانتے ہو ہم زمین میں فساد پھیلانے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں۔ملازمین نے کہا :اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو چور کی سزا کیا ہوگی؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ ملے گا وہ خود ہی سزا کے طور پر رو ک لیا جائے گا، ہم اسی طرح ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں، تب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی سے پہلے دوسرے بھائیوں کے سامان سے ابتداء کی پھر اسے اپنے بھائی کے سامان سے برآمد کر لیا۔ کہنے لگے کہ اگر اس نے چوری کی تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ یوسف علیہ السلام نے یہ بات اپنے دل میں چھپالی اور ان پر ظاہر نہیں کی، بس اتنا کہا کہ بڑے بُرے ہو تم لوگ اور اللہ زیادہ جانتا ہے جو تم الزام لگا رہے ہو۔ بھائی کہنے لگے کہ اے عزیز مصر! اس کا ایک بوڑھا باپ ہے، آپ ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ روک لیں ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا:ـ خدا کی پناہ جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو پکڑیں تو بڑے ظالم ٹھہریں گے، جب وہ لوگ (ادھر سے) مایوس ہوگئے تو تنہائی میں مشورہ کرنے لگے، ان میں سے بڑے نے کہا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کے نام پر کیا عہد لیا تھا اور تم اس سے پہلے بھی یوسف کے معاملے میں زیادتی کر چکے ہو، میں تو اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک میرے والد اجازت نہ د ے دیں یا اللہ میرے لئے کوئی فیصلہ نہ فرمادے، تم واپس جاؤ اور کہو کہ ابا جان! تمہارے بیٹے نے چوری کرلی ہے، آپ اس بستی والوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم تھے یا اس قافلے والوں سے معلوم کرلیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ، ہم بالکل سچے ہیں، حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے ، میں تو صبر کروں گا۔ شاید اللہ ان سب کو مجھ سے ملا دے۔پھر یعقوب (علیہ السلام )ان سے منہ پھیر کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: ہائے یوسف! اور غم کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور وہ دل میں بھی بہت رنجیدہ تھے، لڑکے کہنے لگے کہ آپ تو بس یوسف کو ہی یاد کئے جاتے ہیں، آپ تو اس کے غم میں خود کو گُھلا دیں گے یا اپنے آپ کو ہلا ک کر ڈالیں گے۔ کہنے لگے کہ میں تو اپنے رنج وغم کی فریاد اللہ سے کرتا ہوں۔ اے بیٹو !جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی کھوج لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہونا۔ یہ لوگ پھر یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور عرض گزار ہوئے کہ اے بادشاہ ہم اور ہمارے اہل وعیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں۔ ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ آپ ہمیں پورا غلہ عنایت فرمادیں اور ہم پر صدقہ فرمادیں۔ یوسف ؑ نے پوچھا :کیا تم جانتے ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا؟ کہنے لگے: کیا تم ہی یوسف ہو۔ انہوں نے کہا: ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا: بخدا اللہ نے تم کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور ہم واقعی خطا کار تھے۔ یوسفؑ نے کہا کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ،اللہ تمہاری مغفرت کرے گا اور وہ تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے، میری یہ قمیص لے کر جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ان کی بینائی ٹھیک ہوجائے گی اور تم لوگ اپنے اہل وعیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ، جب یہ قافلہ چلا تو ان کے والد نے کہا کہ میں تو یوسف کی خوشبو پارہا ہوں، بہر حال خوشخبری لانے والا آیا، اس نے قمیص ان کے چہرے پر ڈالی اور ان کی بینائی واپس آگئی ۔یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو اپنے قریب بٹھا یا اور کہا: سب مصر چلیں ان شاء اللہ امن سے رہیں گے، اپنے والدین کو اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب کے سب ان کے سامنے سجدے میں جھک گئے، یوسف (علیہ السلام) کہنے لگے: ابا جان یہ ہے تعبیر میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا ہے، یہ سورت مکمل طور پر اسی قصے پرمشتمل ہے۔ اب سورۂ رعد کا آغاز ہوتا ہے۔سورۂ یوسف کے آخر میں توحید ورسالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلی، قرآن کریم کی حقانیت  اور وعدوعید کا بیان تھا ۔سورۂ رعد میں بھی یہی مضامین پھیلے ہوئے ہیں، فرق صرف اجمال وتفصیل کا ہے ، تین رکوع تک مضامین کا انداز بیان ایسا ہی ہے جیسے سورۂ یونس، سورۂ ہود اور اعراف کا ہے، بنیادی طور پر اس سورت میں بھی تین مضمون توحید، رسالت اور معاد مختلف طریقوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ ان مضامین کو محض ذہن نشیں کرانا مقصود نہیں بلکہ دلوں کو ایمان کی طرف لانا بھی منظور ہے اسی لئے انداز بیان خالص منطقی نہیں ہے بلکہ مشفقانہ بھی ہے، ساتھ میں ترغیب ، ترہیب اور تخویف بھی ہے۔ پوری سورت میں حق وباطل کی آویزش آنکھوں کے سامنے گردش کرتی نظر آتی ہے۔ درمیان میں مخالفین کے اعتراضات اور شبہات کا رد بھی ہے۔ اہل ایمان کو تسلی بھی دی جارہی ہے، جو دین کی محنت میں تھکے جارہے تھے اور ہر طرح کی تکلیف اٹھا رہے تھے، اس کے بعد سورۂ ابراہیم ہے۔ اس سورت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں انبیاء کی تشریف آور ی کے مقاصد اور ان کی دعوت کے نتائج کو عمومی طور پرپیش کیا گیا ہے اور خطاب کا رخ رؤسائے قریش کی طرف ہے جن کے ہاتھوں میں سیاست اور ریاست کی باگ ڈور تھی۔ سورۂ ابراہیم کی مناسبت سے اس پارے کے آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مختصر واقعہ ہے اور حرم اور اہل حرم کے لئے اور اپنی نسل کے لئے خیر وبرکت پر مشتمل دعائے ابراہیمی ہے۔ یہ سورت اس آیت پر ختم ہوتی ہے:’’ یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے اوراس لئے ہے کہ ان کو اس کے ذریعے خبر دار کردیا جائے اور وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ بس ایک ہی ہیں اور اہل عقل ہوش میں آجائیں۔‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK