Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کے حالات کا کیسے اور کن الفاظ میں تجزیہ کیا جائے؟

Updated: October 22, 2023, 1:03 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai

امریکہ دومرتبہ غزہ کے خلاف جنگ کے خاتمہ کی قرارداد کو ویٹو کرچکا ہے اور وہ بھی صرف اس ضد کی وجہ سے کہ قرار داد کے متن میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی،یعنی امریکہ کیلئے حماس کی مذمت اہمیت رکھتی ہے ،انسانی جانیں نہیں۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

 ۱۹۰۰ءکے بعد سے اگر تاریخ ا نسانی کا جائزہ لیاجائے تو دوعظیم جنگوں کے نتائج دیگر تمام واقعات پر غالب نظر آتے ہیں ، پھر ان نتائج کی بنیاد پر حالات میں جو تبدیلیا ں رونما ہوئیں انہوں نے پورا عالمی نقشہ ہی بدل کررکھ دیا۔ ان جنگوں کے بعد مغربی طاقتوں نے یہ بھی سبق سیکھ لیا تھا کہ امن دنیا کی اولین ضرورت ہے اور اسی ضرورت کے پیش نظرعالمی طاقتوں کو ایک قانون کا پابند بنانے اورایک دوسرے کے خلاف فوج کشی سے روکنے کیلئے اقوام متحدہ کے نام سے ایک ادارہ ۱۹۴۵ء میں قائم کیاگیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کےبعد کامعاملہ تھا۔ اس سے قبل پہلی عالمی جنگ کے خاتمہ کے موقع پر بھی دنیا کے نقشے پر ممالک کی حدودکا تعین کرنے کے مقصدسے متعدد معاہدے ہوئے تھے جن میں سے ایک معاہدہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان ۱۹۱۶ ءمیں ہوا تھا۔اس معاہدہ کے نتیجے میں فلسطین سمیت مشرق وسطیٰ اورترکی کے کئی علاقے برطانیہ کے زیر تسلط آگئےتھے۔پہلی عالمی جنگ میں یہودیوں نے برطانیہ کی حمایت کی تھی اور اسی حمایت کی بنیاد پربرطانیہ نے انہیں ایک علاحدہ ملک دینے کا وعدہ کیا تھا جو ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کی شکل میں پورا ہوا۔
ان دہائیوں میں اسرائیل جو کچھ فلسطین کے ساتھ کرتا رہا ہے وہ امن کے عالمی معاہدوں اور انسانی اصولوں کی پوری طرح خلاف ورزی ہے۔بالائی سطور میں جو تاریخ بیان کی گئی وہ ایک معلوم تاریخ ہے۔ عالمی واقعات میں دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ عالمی طاقتوں کے درمیان لڑائی تھی جس میں کبھی ایک طاقت غالب آتی تھی تو کبھی دوسری ۔ اس پوری تاریخ کا تجزیہ ایک توازن اورتقابل کے طورپرکیاجاتا ہے لیکن اسرائیلی مظالم کیخلاف فلسطینیوں کی جدوجہد کی داستانیں جو آج ہم سن رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں وہ اب تجزیے سے بالاتر ہوچکی ہیں ۔الاہلی عر ب اور دیگر اسپتالوں پر بمباری اگرنام نہاد مغربی طاقتیں دیکھتی ہیں اور اس کے باوجوداسرائیل کی حمایت پر قائم رہتی ہیں تو بتائیے کہ اس کا کیسے اور کیا تجزیہ کیا جائے ؟اس حملے سے پہلے اسرائیل نے ٹویٹ کیا تھا کہ اسپتال میں حماس کے جنگجو پناہ لے سکتے ہیں ، اسلئے اسے خالی کردیاجائے۔ بعد ازاں اسپتال پر بمباری کردی گئی ۔چونکہ یہ صریح انسانیت سوز اقدام تھا اسلئے الزام سے بچنے کیلئےاسرائیل نے اس کا ذمہ دار حماس کو قراردے دیا،لیکن مختلف ذرائع سے یہ بات اب دنیا پر واضح ہوچکی ہےکہ حملہ ا سرائیل نے ہی کیا ہے۔
 یہ اس اسپتال پر حملہ تھا جہاں زخمیوں کا علاج کیاجارہا تھااور اسپتال کی حالت بھی ایسی تھی کہ جنگ کی وجہ سے بنیادی سہولیات برائے نام رہ گئی تھیں۔ سننے میں آیا ہےکہ غزہ کے اسپتالوں میں ایسا بحران ہےکہ بے ہوشی کی دوا کے بغیرزخمیوں کی سرجری کی جارہی ہے۔یہ صورتحال بم ، میزائلوں اورراکٹوں کی ایجادات کے ساتھ ساتھ میڈیکل سائنس کی ترقی پر ناز کرنے والی جدید اور مہذب دنیا میں پیدا ہوئی ہے،بتائیےکہ اس کا کیا اور کن الفاظ میں تجزیہ کیا جائے ؟اقوام متحدہ نے الاہلی اسپتال پر حملے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا اعلان کیا ہے جس کے زیادہ نتیجہ خیز ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی ۔اگر اس کے نتائج سامنے آ بھی گئے نیز اسرائیل کا قصور ثابت ہو بھی گیا تب بھی کسی ایسے ملک کوعالمی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرناآسان نہیں جسے امریکہ جیسی عالمی طاقت کی حمایت اورپشت پناہی حاصل ہو۔ کیا غزہ پرحملے کیلئے تنہا اسرائیل ذمہ دار ہے؟اسے پہلے دن سے امریکہ کی پوری حمایت حاصل رہی ہے۔ اول روز سے امریکہ ،اسرائیل کی اس طرح حمایت کررہا ہے گویا وہ چاہتا ہی تھاغزہ پر حملہ کیاجائے۔ بعید نہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی میں بھی وہ شامل رہا ہو!یہ ایک عالمی طاقت کا رویہ ہےاور وہ عالمی طاقت جو افغانستان اور عراق میں تباہی کی تن تنہا ذمہ دار رہی ہو، اس سے امن پسندی یا جنگ بندی کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ دومرتبہ غزہ کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے خاتمہ کی قرارداد کواقوام متحدہ میں ویٹو کرچکا ہے اور وہ بھی صرف اس ضد کی وجہ سے کہ قرار داد کے متن میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی۔یعنی امریکہ کیلئے حماس کی مذمت اہمیت رکھتی ہے ،انسانی جانیں نہیں ۔بتائیے کہ اس صورتحال کا کیا اور کن الفاظ میں تجزیہ کیاجائے؟ 
اسرائیل حماس جنگ کو ۱۵؍ دن گزرچکے ہیں ۔کتنی ہلاکتیں ہوئیں ، کتنے بچے شہید ہوئے، کتنے زخمی ہوئے، کتنے بے گھر ہوئے ، کتنی عمارتیں ملبے میں بدل گئیں اور کتنی بستیاں اجڑ گئیں ،بقول معروف صحافی رویش کمار،ان کے اعداد و شمار ظاہر کردینے سے کیاہوگا،کیا غزہ کے حالات بدل جائیں گے؟بتایا جارہا ہےکہ اسرائیلی حملوں میں ۹۰؍ فیصد غزہ تبا ہ ہوچکا ہے۔ جو حالات کے مارے وہاں سے نقل مکانی کیلئےنکلے ہیں ،وہ مصر کی رفح گزرگاہ کھلنے کے منتظر ہیں ۔ ان کامستقبل میں کیاٹھکانہ ہوگا ،پتہ نہیں ۔اس سوال کا بھی کوئی جواب نہیں ہےکہ کیا غزہ کو پھر سے بسایاجا سکے گااور بسایاجائے گا تو اسرائیل سے اس کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا ،عالمی طاقتیں ، یا مسلم ممالک ؟مسلم ممالک کا ذکر آہی گیا ہے تویاد دلادیں کہ ان کی جانب سےبھی اس معاملے پر اب تک کوئی قابل ذکر اورٹھوس اقدام نہیں کیا گیاہے۔او آئی سی اورعرب لیگ جیسے اداروں کی میٹنگوں میں کارروائی صرف اسرائیل کی مذمت تک محدود رہی ہے۔سعودی عرب کی جانب سے قدرے سخت ناراضگی کا اظہاراس وقت کیا گیا جب اس معاملے پرامریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کیلئے آئے تو انہیں کافی وقت تک انتظارکرایا گیا ۔ اس کے علاوہ کچھ سفارتی دباؤ بھی بڑھایاگیاہے لیکن یہ اقدامات اور اظہار ناراضگی ہماری نظر میں صرف علامتی ہیں اوریہ کر بھی بس اتنا ہی سکتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ وہ اظہار ناراضگی اور تیل کی فروخت بند کر دینے کا انتباہ دینے کے علاوہ کوئی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔کسی کارروائی کیلئے بھی انہیں عالمی طاقتوں کا ہی سہارا لینا ہوگا۔اب یہاں بھی لکھنے والوں کی مجبوری دیکھیں کہ جب مغرب کا ذکر ہوتا ہے توقلم سے ’ مغربی اتحاد‘ یا ’عالمی طاقتوں ‘ جیسے الفاظ نکلتے ہیں لیکن عالم اسلام کیلئے مسلم دنیا یا مسلم ممالک جیسے الفاظ ۔کبھی وہ وقت بھی تو آئے کہ ہم لکھنے بیٹھیں تو ’اسلامی طاقتیں ‘ یا ’مسلم اتحاد‘ جیسے ا لفاظ لکھتے جائیں ۔جب یہ ہوگا تب اسرائیل جیسا کوئی ملک فلسطین کیلئےمسئلہ بن سکے گانہ خطرہ!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK