Updated: June 09, 2026, 10:05 PM IST
| Geneva
ہندوستان نے ۲۰۲۵ء میں ایٹمی ہتھیاروں پر ۸ء۲ ارب ڈالر خرچ کئے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں ہندوستان کے ایٹمی اخراجات میں ۱۲ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اخراجات ۵ء۱ ارب ڈالر رہے جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے ۱۸ فیصد کے اضافے کے ساتھ ۹ ممالک کے درمیان سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔
۲۰۱۷ء میں امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے والی تنظیم ’انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابولش نیوکلئیر ویپنز‘ (ICAN) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، جوہری طاقت سے لیس ممالک نے ۲۰۲۵ء میں جوہری ہتھیاروں پر مجموعی طور پر ریکارڈ ۱۱۹ ارب ڈالر خرچ کئے۔ ۲۰۲۴ء کے مقابلے ان مجموعی اخراجات میں تقریباً ۲۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جوہری طاقت سے لیس ۹ ممالک نے صرف ایک سال میں اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے اخراجات میں مشترکہ طور پر ۱۷ ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔ جوہری طاقتیں گزشتہ پانچ برسوں میں مجموعی طور پر ایٹمی ہتھیاروں پر ۴۷۰ ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرچکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیا امریکہ اب بھی عظیم ہے؟ ایک چوتھائی شہریوں نے اسے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا
امریکہ دیگر تمام ممالک کے مجموعی اخراجات سے زیادہ خرچ کرتا ہے
امریکہ، بہت بڑے فرق کے ساتھ، جوہری ہتھیاروں پر سب سے زیادہ رقم بہانے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔ اس نے ۲۰۲۵ء میں جوہری ہتھیاروں پر ۲ء۶۹ ارب ڈالر خرچ کئے۔ گزشتہ سال کے مقابلے ان اخراجات میں ۴ء۱۲ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ جوہری ہتھیاروں پر امریکی اخراجات، باقی ۸ جوہری ریاستوں کے مجموعی خرچ سے بھی زیادہ ہے۔
چین ۵ء۱۳ ارب ڈالر کے جوہری اخراجات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد برطانیہ ۶ء۱۲ ارب ڈالر اور روس ۵ء۹ ارب ڈالر کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر رہے۔ فرانس نے ایٹمی ہتھیاروں کیلئے ۷ء۷ ارب ڈالر مختص کئے جو اس کے ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۸ فیصد اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں غربت و عدم مساوات پر تحقیق کے اعتراف میں جین ڈریز کو گلوبل ایوارڈ
ہندوستان نے جوہری ہتھیاروں پر کتنا خرچ کیا؟
ہندوستان نے ۲۰۲۵ء میں جوہری ہتھیاروں پر ۸ء۲ ارب ڈالر خرچ کئے۔ ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ہندوستان کے ایٹمی اخراجات میں ۱۲ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی اخراجات ۵ء۱ ارب ڈالر رہے جو ۲۰۲۴ء کے مقابلے ۱۸ فیصد کے اضافے کے ساتھ ۹ ممالک کے درمیان سب سے تیز رفتار اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ۲ء۱ بلین ڈالر جوہری ہتھیاروں کیلئے مختص کئے۔ ۲۰۲۴ء کے مقابلے اسرائیل کے ایٹمی اخراجات میں ۲ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق، ۲۰۲۵ء میں شمالی کوریا کے ایٹمی اخراجات ۶۵۶ ملین ڈالر رہے جس میں ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں ۴ فیصد کا اِضافہ ہوا ہے۔
یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس تمام ۹ ممالک (برطانیہ، چین، فرانس، ہندوستان، اسرائیل، شمالی کوریا، پاکستان، روس، اور امریکہ) نے گزشتہ سال ایٹمی ہتھیاروں پر اپنے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں امداد کی ترسیل معطل کرنے پر اقوام متحدہ کے سربراہ کا گہری تشویش کا اظہار
’ہم ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا سامنا کر رہے ہیں‘
جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں قائم تنظیم آئی سی اے این (ICAN) کے محققین نے انتباہ کیا کہ عالمی سطح پر فلاحی فنڈنگ میں بھاری کٹوتیوں کے پیشِ نظر ایٹمی ہتھیاروں پر اس سطح کے اخراجات انتہائی تشویشناک ہیں۔ آئی سی اے این کی ڈائریکٹر آف پروگرامز اور اس رپورٹ کی شریک مصنفہ سوزی اسنائیڈر نے کہا کہ ”ان ممالک نے ۲۰۲۵ء میں جو رقم خرچ کی، وہ اقوامِ متحدہ (یو این) کے آپریٹنگ بجٹ کیلئے ۳۲ سال تک کیلئے کافی ہوسکتی تھی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ۲۰۲۵ء میں ایٹمی ہتھیاروں پر ہونے والے صرف ایک دن کے اخراجات سے ۲۰ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کیا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں بچے منصوبہ بندی کے تحت بھوکے رکھے جارہے ہیں: عالمی انسانی تنظیم کی مذمت
اسنائیڈر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے خطرے کی طرف بھی اشارہ کیا جو حادثاتی طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے اے ایف پی (AFP) نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے اس ضمن میں اپنے خوف کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”ہم ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا سامنا کر رہے ہیں۔“