Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی ڈانٹ کا نیتن یاہو‘ پر اثر کیوں نہیں؟

Updated: June 09, 2026, 1:52 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

نیتن یاہو اور ٹرمپ کھٹے میٹھے رشتوں کی دلچسپ کہانی کے کردار ہیں۔ نیتن یاہو وہ قفل ہے جو بار بار چابی گھمانے کے باوجود کھلے گا نہیں۔ ٹرمپ چابی گھما گھما کر پریشان ہیں۔

Netanyahu And Donald Trump.Photo:INN
نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
نیتن یاہو اور ٹرمپ کھٹے میٹھے رشتوں کی دلچسپ کہانی کے کردار ہیں۔ نیتن یاہو وہ قفل ہے جو بار بار چابی گھمانے کے باوجود کھلے گا نہیں۔ ٹرمپ چابی گھما گھما کر پریشان ہیں۔ چابی گھومتی ہے اور آسانی سے گھومتی ہے مگر تالہ کھلتا نہیں ہے۔ جب وہ تھک ہار جاتے ہیں تو اپنے دل کی تسکین کیلئے یہ خبر جاری کروا دیتے ہیں کہ اُنہوں نے نیتن یاہو کو بہت ڈانٹا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایسی خبروں میں کبھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ جب ٹرمپ ڈانٹ رہے تھے تب نیتن یاہو بال نوچ رہے تھے، کھسیانی بلی بنے ہوئے تھے، رونی صورت بنائے ہوئے تھے، غصے میں تھے، پلٹ کر جواب دے رہے تھے، ایپسٹین فائلز کا حوالہ دے کر ڈرا رہے تھے، امریکہ میں موجود صہیونی لابی کو ٹرمپ کے خلاف ورغلانے کی دھمکی دے رہے تھے یا اور کچھ کررہے تھے۔ یہ عقدہ خبروں سے نہیں کھلتا۔ جس طرح چابی سے تالہ نہیں کھلتا، اسی طرح خبروں سے یہ عقدہ بھی نہیں کھلتا۔ ’’کیوں نہیں کھلتا؟‘‘ پر غور کیجئے تو ایسا لگتا ہے کہ ’’نیتن یاہو کیا کررہے تھے؟‘‘ کا جواب نہ ہونے کی وجہ سے خبر ادھوری نہیں ہے۔ وہ تب بھی مکمل ہے کیونکہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ جب ٹرمپ ڈانتے ہوں گے تو نیتن یاہو مسکراتے ہونگے۔ مشہور شاعر نظام الدین نظام نے کہا تھا: ’’ایک مینڈک تجربے کی میز پر=مشتعل کتنا بھی ہو بیکار ہے‘‘۔ دراصل مشتعل ہونے والا جانتا ہے کہ وہ تجربے کی میز پر ہے۔ ٹرمپ کا نام ایپسٹین فائلز میں بار بار آیا ہے۔ ہوسکتا ہے ویڈیوز بھی ہوں۔ تصویریں تو بے شمار ہیں۔ پھرصہیونی لابی ہے جو ٹرمپ کے تمام راستوں پر نو انٹری کا بورڈ لگاسکتی ہے۔نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہیں۔ ٹیریف پالیسی بے اثر ہو رہی ہے۔ تارکین وطن کے خلاف مہم ڈھاک کے تین پات ثابت ہوچکی ہے۔ چین کا بڑھتا اثر و رسوخ امریکہ کو دن میں تارے دکھا رہا ہے۔ اس دوران ٹرمپ کو وہ اعزاز بھی مل چکا ہے جو کسی امریکی صدر کو نہیں ملا۔ انہوں نے ایران پر حملے کی اسرائیلی ضد کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور یہ سوچ کر حملہ کردیا کہ چند روز میں اُسے وینزوئیلا بنا دینگے۔ ایران نے وینزوئیلا بننے سے انکار کردیا۔ اس نے واشنگٹن کی ناک کے ساتھ آبنائے ہرمز کی سپلائی لائن بھی کاٹ دی۔یہ سب ہوچکا۔ اب چاہے جتنی بار خبر آئے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ڈانٹا ہے تو ممکن ہے ڈانٹا ہو مگر اس کا فائدہ؟
 
 
ٹرمپ سمجھ رہے ہیں کہ ایران کو ہرایا نہیں جاسکتا مگر نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رہے جو اُن کی سیاسی بقاء کیلئے ضروری ہے۔انہیں الیکشن کروانے ہیں اور اُن کا ارادہ اکتوبر کا ہے جب (۵؍ اکتوبر کو) حماس کے غضبناک حملوں کی تیسری برسی ہوگی۔ اُن کیلئے الیکشن جیتنا ضروری ہے اور جیتنے کیلئے عوام کے دلوں میں خوف بٹھانا ضروری ہے کہ ہم نہیں ہونگے تو حماس جیسی طاقتیں ۵؍ اکتوبر جیسے حملوں کے ذریعہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا سکتی ہیں۔ ٹرمپ کا مئی میں اسرائیل کے دورہ کا ارادہ کیا تھا مگر نیتن یاہو نے اُنہیں ستمبر میں آنے کی صلاح دی تاکہ اکتوبر الیکشن کیلئے اُن کی آمد کا فائدہ اُٹھایا جائے۔ اسرائیلی پارلیمان خود کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے تاکہ ۸؍ ستمبر تا  ۲۰؍ اکتوبر الیکشن ہو۔ ا س سے ازخود واضح ہوجاتا ہے کہ اکتوبر تک نیتن یاہو کسی بھی قیمت پر جنگ روکنا نہیں چاہیں گے۔ اگر ایران نہیں تو لبنان کے خلاف اُن کی فوج کے حملے جاری رہیں گے اور ممکن ہے لبنان کے مزید علاقوں پر اُن کا قبضہ ہوجائے۔ نیتن یاہو کو اپنی ’’جنگی کارکردگی‘‘ کی بنیاد پر ہی الیکشن جیتنا ہے۔ اس پر ٹرمپ ڈانٹیں تو کیا؟ وہ جانتے ہیں ٹرمپ ڈانٹ کر دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ مقصد ڈانٹنا نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK