اپوزیشن کے اتحاد کا کتنا امکان؟

Updated: May 10, 2022, 11:07 AM IST | Mumbai

کئی ریاستی انتخابات سے گزرنے کے بعد ۲۰۲۴ء کا پارلیمانی انتخاب ہونا ہے۔ اگر سب نہیں تو کچھ پارٹیاں ریاستی انتخابات کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں اور اُن کی نگاہ و توجہ کا مرکز ۲۰۲۴ء کا پارلیمانی انتخاب بھی ہے۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 کئی ریاستی انتخابات سے گزرنے کے بعد ۲۰۲۴ء کا پارلیمانی انتخاب ہونا ہے۔ اگر سب نہیں تو کچھ پارٹیاں ریاستی انتخابات کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں اور اُن کی نگاہ و توجہ کا مرکز  ۲۰۲۴ء کا پارلیمانی انتخاب بھی ہے۔ ان تیاریوں کے بیچ وقفے وقفے سے اپوزیشن کا اتحاد بھی موضوع بحث بنتا رہتا ہے۔ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر اپنی فتح کے پرچم لہرانے کے بعد اپوزیشن کے اتحاد کی جانب قدم بڑھایا اوراپنی پارٹی کی توسیع کیلئے بھی سرگرداں رہیں مگر اب ایسا لگتا ہے کہ وہ اس پر کوئی خاص اصرار نہیں کررہی ہیں۔  سب جانتے ہیں کہ وہ کانگریس کے بغیر کسی اتحاد کا تانہ بانہ بن رہی تھیں مگر شاید ان کی توقع کے برخلاف، ایک سے زائد علاقائی جماعتوں نے واضح کردیا کہ کانگریس کے بغیر کوئی اتحاد قائم نہیں ہوسکتا، اگر ہوا تو اس میں اتنا دم خم نہیں ہوگا جتنا کہ بی جے پی کو چیلنج کرنے کیلئے ہونا چاہئے۔ یہ بات درست بھی ہے مگر کسی بڑے اتحاد کا حصہ بننے یا اس کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے کانگریس کو داخلی اتحاد کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہے۔  یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ملک کی ایسی قدیم جماعت، جس نے جدوجہد آزادی میں بھی ملک کی قیادت کی، نوآزاد ملک کی تشکیل و تعمیر میں بھی کلیدی کردار ادا کیا اور کم و بیش ۵۰؍ سال حکومت بھی کی، اسے آج اپنی بقاء کی جنگ لڑنی پڑرہی ہے چنانچہ جہاں یہ بات سوفیصد درست ہے کہ کانگریس کے بغیر اپوزیشن کا اتحاد بے روح اور بے معنی ہوگا، وہیں یہ بھی سو فیصد درست ہے کہ فی الحال کانگریس نہ تو مختلف علاقائی پارٹیوں کے وسیع تر اتحاد کا خاکہ اور منصوبہ بنانے کی پوزیشن میں ہے نہ ہی اس جانب اُس کے قدم بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ یقینی طور پر، یہ پارٹی نہ صرف اپنے احیاء بلکہ بی جے پی مخالف پلیٹ فارم کی قیادت پر بھی غوروخوض کررہی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اسے، اِس پوزیشن میں آنے کے لئے بھی وقت لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہوش رُبا مہنگائی اور پچاس سال کی سب سے زیادہ بے روزگاری جیسے سنگین مسائل اور ان مسائل کے تئیں عوامی بے چینی کےماحول میں بھی وہ کچھ نہیں کرپارہی ہے جبکہ ایسا ماحول حزب اختلاف کی کسی بھی بڑی پارٹی کیلئے نہایت سازگار ہوتا ہے۔ اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا  ۲۰۲۴ء کیلئے عنقریب کوئی اتحاد قائم ہوگا جو ۲۰۲۲ء کی دوسری ششماہی سے سرگرم ہوجائے تاکہ اسے عوام تک پہنچنے اور اُنہیں اعتماد میں لینے کیلئے دو سال کا وقت ملے؟  ہم نہیں جانتے کہ سونیا، راہل اور پرینکا گاندھی سے لے کر ایم کے اسٹالن تک، شرد پوار سے لے کر کے سی آر تک اور ممتا بنرجی سے لے کر پنیاری وجین تک کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے مگر ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اگر غیر بی جے پی پارٹیوں کا اتحاد قائم ہونا ہے تو اسے آئندہ دو مہینوں میں لازمی طور پر تشکیل پاجانا چاہئے۔ اس میں جتنی تاخیر ہوگی، اس اتحاد کے امکانات اُتنا ہی محدود ہوتے چلے جائینگے۔ یہ سمجھنا کہ کئی محاذوں پر مرکزی حکومت کی ناکامی ممکنہ اتحاد کے حق میں سازگار فضا تیار کررہی ہے خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ اپوزیشن اتحاد کی تشکیل اگر وقت کی ضرورت ہے تو اس پر کام بھی بلاتاخیر شروع ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اسے متشکل ہونے سے پہلے بھی کئی مراحل سے گزرنا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK