Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایندھن کی منجمد قیمتیں ریفائنریز کو متاثر کر سکتی ہیں: رپورٹ

Updated: March 16, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں مبینہ طور پر ریفائنری ٹرانسفر پرائس (آر ٹی پی ) میں رعایت یا اسے منجمد کرنے کے آپشن پر غور کر رہی ہیں تاکہ ریٹیل ایندھن کی قیمتوں کے جمود کی وجہ سے بڑھتے ہوئے نقصانات کو کم کیا جا سکے، جس سے آزاد ریفائنریوں کے منافع کے مارجن پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

Crude Oil.Photo:INN
خام تیل۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیاں مبینہ طور پر آر ٹی پی  میں رعایت یا فریز کے آپشن پر غور کر رہی ہیں تاکہ ریٹیل ایندھن کی قیمتوں میں استحکام کی وجہ سے ہونے والے بڑھتے ہوئے نقصانات کو قابو میں رکھا جا سکے، جس سے اسٹینڈ الون ریفائنریوں کے منافع پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ہندوستان کی تیل سپلائی چین میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، سرکاری ملکیت والی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مبینہ طور پر ریفائنریز کو ایسی قیمت ادا کرنے پر غور کر رہی ہیں جو پیٹرول اور ڈیزل کی درآمدی قیمتوں سے بھی کم ہو سکتی ہے، تاکہ ریٹیل ایندھن کی قیمتوں کو منجمد رکھنے سے ہونے والے بڑھتے ہوئے نقصانات کو محدود کیا جا سکے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، اس اقدام سے زیادہ تر اسٹینڈ الون ریفائنریاں متاثر ہوں گی، جیسے ایم آر پی ایل، سی پی سی ایل اور ایچ ایم ای ایل  وغیرہ۔ 
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مغربی ایشیا میں تنازع سے پہلے بین الاقوامی تیل کی قیمتیں تقریباً ۷۰؍ ڈالر فی بیرل تھیں، جو خلیج میں جنگ کے پھیلنے کے بعد بڑھ کر ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستان  میں ریٹیل پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تقریباً وہی رہی ہیں، جس کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیوں(او ایم سیز) کو اس کا مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ اس تنازع کے جلد ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے، اس لیے او ایم سی  ایندھن کی فروخت پر ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سنر نے پہلی بار انڈین ویلز کا خطاب اپنے نام کر لیا


رپورٹ کے مطابق او ایم سی  کے زیر غور ایک آپشن یہ ہے کہ ریفائنری ٹرانسفر پرائس   کو یا تو منجمد کر دیا جائے یا اس پر ایک مقررہ رعایت طے کر دی جائے۔آر ٹی پی   اس اندرونی قیمت کو کہا جاتا ہے جس پر ریفائنریز اپنے مارکیٹنگ ونگز کو ایندھن فروخت کرتی ہیں، جو عموماً پیٹرول اور ڈیزل کی درآمدی برابری کی قیمت سے کم ہوتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدام سے ریفائنریز خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مکمل بوجھ آر ٹی پی  کے ذریعے منتقل نہیں کر سکیں گی اور انہیں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کا کچھ حصہ خود برداشت کرنا پڑے گا، جس کا زیادہ تر بوجھ اب تک  او ایم سی ہی اٹھا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:قطر میں شیڈول اسپین اور ارجنٹائنا کا فائنليسيما میچ منسوخ

پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمپنیوں میں منگلور ریفائنری اور پیٹرو کیمکلزلمیٹڈ، چنئی پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ اور ایچ پی سی ایل متل انرجی لمیٹڈ جیسی اسٹینڈ الون ریفائنریاں شامل ہیں۔ بڑی او ایم سیز کے برعکس، ان ریفائنریوں کی ریٹیل مارکیٹ میں موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ اپنی زیادہ تر پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار براہ راست تین سرکاری او ایم سیز کو فروخت کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK