• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

نئی تعلیمی پالیسی میں تاریخ، ثقافت اور مذہبی رواداری کا تحفظ کیسے کریں؟

Updated: November 26, 2023, 2:58 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

گزشتہ دنوں این سی ای آرٹی کے ذمہ داروںسے یہ انکشاف ہوا کہ اب ملک بھر میں تاریخ کے نام پر طلبہ کو رامائن اور مہابھارت پڑھائی جائے گی۔ ایسے میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟

Students consider two things as their role models from childhood. Teacher and textbook. They have a firm belief that these two never lie. And now the Sangh Parivar is targeting them in textbooks. Photo: INN
طلبہ بچپن ہی سے دو چیزوں کواپنا رول ماڈل مانتے ہیں۔ استاد اور درسی کتاب۔ ان کا پکّا عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں کبھی جھوٹ نہیں بولتے. اور اب سنگھ پریوار انہیں درسی کتابوں کو نشانہ بنارہا ہے۔ تصویر : آئی این این

نئی تعلیمی پالیسی کی آمد آمد ہے۔ اُس کے تکنیکی خد و خال پر تین چار برسوں سے گفتگو ہورہی ہے مگر صرف تکنیکی باتوں پر جن پر شاید ہی کسی کو اختلاف اور اعتراض ہو۔ مثلاً اب تعلیمی نظام ۱۰+۲+۳ کے بجائے ۵+۳+۳+۴ طرز کا ہوگا، کوئی حرج نہیں ۔ نرسری اور پری پرائمری اسکول کو بھی تعلیمی نظام کا باقاعدہ جُز بنایا جائے گا، کوئی اعتراض نہیں ۔ نویں سے بارہویں جماعت کو جونیئر کالج کہا جائے گا، کوئی مسئلہ نہیں ۔ ہمیں اعتراض اُن مضمرات پر ہے جن پر موجودہ حکومت اور اُس کے آقا بالکل خاموش ہیں اور وہ یقیناً طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے کیونکہ ہم یہ جاننے کیلئے مضطرب ہیں کہ (الف) اقدار کی تعلیم میں کیا پڑھایاجائے گا؟ اور کہاں سے؟ اور (ب) تاریخ میں کن کن ادوار کو پڑھایا جائے گا اور کیاکچھ حذف کیا جائے گا؟ اِن کا جائزہ لینا اسلئے ضروری ہے کہ۲۲؍نومبر کو این سی ای آرٹی کے ذمہ داروں سے یہ انکشاف ہوا کہ اب ملک بھر میں تاریخ میں رامائن و مہابھارت پڑھائی جائے گی۔آئیے ہم آنے والی پالیسی کے سارے پہلوئوں پر غور و فکر کریں اور یہ کہ اب ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے۔
 ہمارے ہاں یہ سمجھنے کی نادانی ہوتی رہی ہے کہ سنگھ کا پریوار کا ایجنڈا صرف بابری مسجد یا گیان واپی مسجد کی زمین تھی۔دراصل اُس کا ٹارگیٹ ایودھیاکی چند ایکڑ زمین نہیں بلکہ کئی کروڑ ایکڑ پھیلی ہوئی ’زمین‘ ہے اور وہ ہے : بچّوں کے معصوم ذہن۔ وہ یہ جانتا ہے کہ کئی ہزار کتا بیں ، کئی سورِ سالے حتّیٰ کہ الیکٹرانک میڈیا کے درجنوں ذرائع سے بھی ہندوتو کا وہ کام نہیں ہوسکتا جونئی نسل کے معصوم ذہنوں کواپنے قابو میں کر کے ہوسکتا ہے۔ لہٰذا موجودہ حکومت نے ملک کے ہر بچّے کے ذہن کے کروڑوں ایکڑ پھیلی ہوئی زمین کو ایکو ائر کر کے اس پر کارسیوا شروع کر چکی ہے۔
 نصابی کتابوں میں ’کارسیوا ‘کرنے کیلئے سنگھ پریوار نے جو ( خفیہ نہیں بلکہ ) واضح منصو بہ بنایا ہے وہ یہ ہے:
 ( الف ) تاریخ کو مکمل مسخ کرنا
 (ب) این سی ای آر ٹی کے سارے منصوبوں پر شکنجہ کسنا 
(ج) اقدار کی تعلیم پر زعفرانی رنگ چڑھانا اور
(د) آئین کی دفعہ ۳۰ ؍کو ختم کرنا۔
 آئیے دیکھتے ہیں کہ تعلیمی نظام کے اِن چاروں ستونوں پر سنگھ پریوار کس طرح حملہ کرتی جاری ہے اورملک کے سیکولر نظام کی عمارت کو گرانے میں کس طرح مصروف ہے؟
( الف ) تاریخ پر حملہ :
 سنگھ پریوار والے جان گئے ہیں ، ہم بھی جانتے ہیں مگر مانتے نہیں کہ تاریخ، انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے کیونکہ دُنیاوی تہذیب و تمدّن اور اُس کے ارتقا کا سب سے بڑا ریکارڈ تاریخ ہی ہے۔ انہی تاریخ کی کتابوں کومسخ کرنے کا انجام کیا ہوسکتا ہے سُن لیجئے۔ بچہ چاہے شریف ہو یا بدمعاش، اُس کا ذہن معصوم ہوتا ہے۔ اپنے بچپن میں وہ دو چیزوں کواپنا رول ماڈل مانتا ہے۔ایک ہے استاد اور دوسری ہے اُس کی درسی کتاب۔ اس کا پکّا عقیدہ ہوتاہے کہ دونوں کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ سنگھ پریوار نے اسے سمجھ لیا ہے کہ اس ملک کے چالیس کروڑطلبہ کو یہ یقین دلایاجائےکہ اُن کی تاریخ کی کتاب کا ہرلفظ سچا ہے۔ تاریخ کواپنے طرز پر پڑھانے کیلئے گزشتہ چند برسوں میں مرکز میں اور بی جے پی سرکاروالی ریاستوں میں کیا کیا ہورہاہے، یہ بھی سُن لیں ۔
 (۱)سنگھ پریوارکی حکومت نے ایک طاقتور ’بھارتیہ ا تہاس سنکلن سمیتی‘ بنائی ہے جس میں سنگھ پریوار کی ذہنیت کے حامل لگ بھگ ۴۰۰؍افراد کوملک بھرمیں منتخب کیا ہے اور ہر ایک کو ملک کا ایک ایک ضلع دیا گیا ہے کہ وہ وہاں ایک ایک ضمنی کمیٹی بنائے اور اس ضلع کی تاریخ سنگھ پریوار کی عینک لگا کر لکھے۔
(۲) وزرائے اعلیٰ اور گورنر تو ٹھیک ہیں لیکن یہاں  تو ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور سینٹ ممبران بھی آر ایس ایس کے پرچارک ہی منتخب کئے جارہے ہیں ۔
(۳) انڈین کونسل آف ہسٹور یکل ریسرچ جیسے اہم ادارے کے بیشتر اراکین وِشو ہندو پریشد سے وابستہ رہے ہیں اور اب وہ تاریخ پر ’تحقیق‘ کررہے ہیں ۔
(۴) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں آر ایس ایس کی تنظیم وید ودیا پرتشٹھان کے ممبران کو شامل کیا گیا ہے۔ 
(۵) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن کے اراکین، اے آئی سی ایس ٹی ای کے مشیر اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسے انتہائی اہم ادارہ کے سیکریٹری کیلئے بھی آرایس ایس کے پر چارکوں ہی کا انتخاب ہوا ہے۔ 
(۶) فرقہ پرستی کی پہلی تجربہ گاہ گجرات میں جو فرقہ پرستی پر مبنی تاریخ پڑھائی جارہی تھی، وہی تاریخ اب پورے ملک میں پڑھانے کی تیاری کی جاچکی ہے۔ 
(۷)نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعے تاریخ کی کتابوں میں یہ پڑھایا جاسکتا ہےکہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ہے۔ عرب ڈاکو تھے اور لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کیلئے یہاں آئے تھے۔ (کتاب: اِتہاس گارہا ہے)سنگھ پریواری تاریخ میں یہ پڑھایا جارہا ہے اوراب ملکی سطح پر یہ پڑھایا جائے گا کہ مور یہ اور گُپت دَورہی اس ملک کا سب سے سنہرا دَور تھا اور ہماری غلامی کا دَور انگریزوں کے ساتھ نہیں بلکہ مسلم دَور کے ساتھ شروع ہوتا ہے یعنی مسلم حکمرانوں کو حملہ آورکے طور پر پیش کیاجائے گا۔
(۹) مغل دَور کومغل بمقابلہ مراٹھا اور مغل بمقابلہ راجپوت کے طور پر پیش کر کے معصوم ذہنوں کو آلودہ کیا جائے گا۔
(۱۰) آرایس ایس کی تنظیم ودّیا بھارتی کی۲۰؍ ہزار سے زائد اسکولیں اور ششومندر ہیں جن میں مالا، زعفرانی کپڑے اور،تلک ان سب کو ہندوستانی ہونے کی نشانیاں بتایا گیا ہے۔ (کتاب: گورو گا تھا ،ص :۱۳)
(۱۱) سُمیت سرکار، پروفیسر پانیکر، ٹی وی سبرامنیم، رومیلا تھا پر، آرایس شرما اور بین چندر جیسے سیکولر اور معتدل مورخین کی کتابوں کو یو نیورسیٹیوں سے ہٹانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ 
(۱۲) گوروگاتھا نامی تاریخ کی کتاب میں مسلمانوں اور عیسائیں کوغیر ملکی کہاگیا ہے اور یہی کتاب پورے ملک میں پڑھائے جانے کامنصوبہ ہے۔
 ہم عرض کر چکے ہیں کہ تاریخ انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کائنات کی تخلیق، ترویج و ترقی، تبدیلی تغیر، نشیب وفراز اور اس کے ارتقاء کا سب سے بڑار یکارڈ ہوتا ہے۔ زندگی کی عملی شاہراہ پر چلتے ہوئے کسی کو بار بار پیچھے مڑ کر ماضی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ موجودہ دَور کی ساری بے راہ روی اور الیکٹرانک میڈیا کی زبر دست یلغار میں جو قوم تاریخ کے سمندر سے اپنے لئے موتی چننے میں کامیاب ہوگی بس وہی قوم زندہ رہے گی ، ٹِکے گی اور اپنی شناخت برقرار رکھ پائے گی ور نہ جو اپنی ماضی کی تاریخ یاد نہیں رکھتا، مستقبل کی تاریخ اسے یاد نہیں رکھتی۔ بس اسی بناء پر سنگھ پریوار نے سب سے پہلے تاریخ کی کتابوں میں اپنی ’کا رسیوا‘ شروع کی اور اس میں جن مسلم سلاطین کو اپنا نشانہ بڑی محنت و عرق ریزی سے بنایاوہ ہیں : محمود غزنوی، محمد غوری، محمد بن تغلق، بابر اور اور نگ زیب۔ گجرات اور اب پورے ملک میں نافذ ہونے والے نئے تعلیمی نظام کی تاریخ سے ہائی اسکول کی سطح تک کی کتابوں سے مسلم دَور کا پورا صفایا ہوگا۔ اور یونیورسٹی کی سطح پر تاریخ مضمون کے ساتھ گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے طلبہ کیلئے ان سارے سلاطین اورمسلم دَور کے تعلق سے جھوٹی حکایات سے بھر پور، سچائی سے کوسوں دُور اور تعصب و تنگ نظری، نفرت و عداوت پر مبنی ایک تباہ کن تاریخ ان کتابوں میں مرتّب کی جارہی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ہماری شاندار روایت کی عالیشان عمارت کا انہدام ہو چکا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK