انسان ہر زمانہ اور ہر وقت میں تعلیم ِ الٰہی کا محتاج رہا ہے اور محتاج رہے گا

Updated: July 22, 2022, 1:56 PM IST | Muhammad Sahib | Mumbai

آیاتِ قرآنیہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے بندوں کے علم و ہدایت کی خاطر احکام نازل کئے اور انبیاء کے ذریعے ہر مشکل وقت میں ان کی رہنمائی فرمائی ۔ پھر ان تمام تعلیماتِ الٰہیہ کو قرآن مجید میں جمع کر کے (منجملہ ان تمام علوم کے جو امت محمدیہ کے حق میں بالخصوص نازل کئے گئے ہیں) امت محمدیہ کو ان تمام سے روشناس کرا دیا۔

It is important to develop the habit of reciting the Qur`an, reading and understanding it in children from an early age.Picture:INN
بچوں میں ابتدائی عمر سے ہی تلاوت قرآن ، اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی عادت کو پروان چڑھانا ضروری ہے۔ تصویر: آئی این این

اُمت محمدیہ (ﷺ) کی رہنمائی اور احتیاج تعلیم الٰہی ملاحظہ ہو، فرمایا:
’’اے نبی آپ سے حلال چیزوں کے بارے میں استفسار کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے، تمہارے لئے پاکیزه چيزيں حلال کی گئی ہیں۔‘‘ (سورة المائدة:۴)
’’اے نبی! آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کب آئے گی؟ آپ فرما دیجئے، اس کا علم اللہ ہی کو ہے، وہی اس کو وقت پر ظاہر کرے گا۔‘‘ (سورة الاعرف:۱۸۷)
``اور آپ سے غنائم کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ ﷺ  فرما دیجئے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے اختیار میں ہیں، جسے چاہیں تقسیم فرمائیں۔‘‘ ( سورة الانفال:۱)
’’اور آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ ﷺ  فرما دیجئے کہ تمہارا علم کم ہے، اس لئے اس کی حقیقت کو نہ پاسکو گے، ہاں اتنا جان لو کہ روح امر ربی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کو مردہ یا زندہ کرتا ہے۔‘‘ (سورة الاسراء:۸۵)
’’اور آپ ﷺ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ میں اس کا کچھ ذِکر تمہیں سناؤں گا…‘‘ ( سورة الكهف: ۸۴ ۔۸۳)  (اور اس کے بعد ذوالقرنین کا پورا قصہ موجود ہے۔)’’اور آپ ﷺ سے پہاڑوں سے متعلق سوال کرتے ہیں کہ قیامت کو وہ باقی رہیں گے یا نہیں؟ آپ فرما دیجئے کہ ان کو میرا رب روئی کی مانند ریزہ ریزہ کر کے اُڑا دے گا اور زمین چٹیل میدان رہ جائے گی۔‘‘ ( سورة طه: ۶۔۵)’’آپ  ﷺ سے سوال كرتے ہیں کہ كيا خرچ كريں؟ آپؐ  فرما دیجئے جتنا بھی خرچ کرو بہتر ہے اور اپنا مال، والدین، قریبیوں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھی نیکی کا کام کرو گے اللہ اسے جانتا ہے (وہ تمہیں اس کا بھر پور اجر دے گا)۔‘‘( سورة البقرة:۲۱۵)’’آپؐ  سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے، ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے۔‘‘ (سورة البقرة:۲۱۹)’’اور آپ ﷺ سے یتیموں سے سلوک کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ ﷺ فرما دیجے کہ جس بات میں ان کا فائدہ ہے وہ کرو۔‘‘  (سورة البقرة:۲۲۰)’’اور آپؐ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ ﷺ فرما دیجئے کہ یہ لوگوں کے لئے اور حج کے لئے اوقات کے تعین کا باعث ہے۔‘‘ (سورة البقرة: ۱۸۹)’’اور جب میرے بندے آپ ﷺ سے میرے بارے میں سوال کریں تو آپ فرما دیجئے، میں قریب ہوں، اور ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔‘‘ (سورة البقرة:۱۸۶)
’’اور آپ ﷺ سے يتيم عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔ آپ ﷺ فرما دیجئے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس بارے میں فتویٰ دیتے ہیں۔(النساء: ۱۲۷) (اس کے بعد پورا فتویٰ مذکور ہے۔)  عامۃ المسلمین کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:’’ اللہ تعالیٰ مومنوں كا دوست ہے ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ اس کے برعکس کفار، شیطان کے دوست ہیں جو انہیں نور کی طرف سے ہٹا کر تاریکیوں میں دھکیلتا ہے۔‘‘(البقرة: ۲۵۷)اس کے بعد بطور مثال اللہ تعالیٰ تین واقعات بیان کرتے ہیں جن میں عام انسان تو کجا اللہ کے برگزیدہ بندے بھی تعلیم سماوی کے محتاج ہوئے۔ چنانچہ پہلا واقعہ ابراہیمؑ اور نمرود کا ہے جس کا ذِکر قرآن مجید یوں کرتا ہے:’’(اے حبیب!) کیا آپ نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس وجہ سے کہ اﷲ نے اسے سلطنت دی تھی ابراہیم (علیہ السلام) سے (خود) اپنے رب (ہی) کے بارے میں جھگڑا کرنے لگا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: میرا رب وہ ہے جو زندہ (بھی) کرتا ہے اور مارتا (بھی) ہے، تو (جواباً) کہنے لگا: میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا: بیشک اﷲ سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے تُو اسے مغرب کی طرف سے نکال لا! سو وہ کافر دہشت زدہ ہو گیا، اور اﷲ ظالم قوم کو حق کی راہ نہیں دکھاتا۔‘‘(البقرة: ۲۵۸)ابراہیمؑ نے پہلے حدوثِ عالم اور اس کے تغیر و تبدل سے خدا کی ہستی پر استدلال فرمایا کہ وہ جو نیست کو ہست اور ہست کو نیست کرتا ہے یعنی بے جانوں کو جاندار اور جانداروں کو بے جان کرتا ہے،وہ  خدا ہے ، مگر وہ نہ سمجھا تو پھر ایسی دلیل پیش کی جس کے سامنے وہ بول بھی نہ سکا اور گونگا ہو کر رہ گیا۔
اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے ابراہیم کی نمرود کے مقابلہ میں ایسی مدد اور رہنمائی فرمائی کہ اس کی خدائی باطل کر کے رکھ دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم و ہدایت ہی کا نتیجہ تھا۔ فَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
اس کے بعد دوسرا واقعہ عزیرؑ کا ہے:
’’یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اﷲ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا، سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ کرانے کے لئے) اﷲ نے اسے سو برس تک مُردہ رکھا پھر اُسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تُو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ تُو سو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تُو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جس کی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اﷲ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔‘‘(البقره: ۲۵۹)اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے عزیر ؑ کو رہنمائی فرمائی اور علم الیقین سے ان کو عین الیقین کے مقام تک پہنچایا جو ہمارے لئے بھی عین الیقین کا درجہ رکھتا ہے۔اس کے بعد ابراہیمؑ کا واقعہ مذکور ہے کہ ان کو بھی علم الیقین سے عین الیقین حاصل کرنے کا شوق لاحق ہوا تو انہوں نے بھی سوال کر دیا:’’اور (وہ واقعہ بھی یاد کریں) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تُو مُردوں کو کس طرح زندہ فرماتا ہے؟ ارشاد ہوا: کیا تم یقین نہیں رکھتے؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں (یقین رکھتا ہوں) لیکن (چاہتا ہوں کہ) میرے دل کو بھی خوب سکون نصیب ہو جائے۔‘‘(البقرة: ۲۶۰) 
 یعنی علم الیقین سے عین الیقین کرنے کی تمنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :چار جانور لے اور ان کو ذبح کر کے خلط ملط کر کے پہاڑوں پر رکھ پھر ان کو بلا۔ وہ زندہ ہو کر تیرے پاس دوڑے آئینگے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
ان تینوں واقعات سے ثابت ہوا کہ بڑی بڑی ہستیاں حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام بھی خدا کی تعلیم اور رہنمائی کے محتاج ہیں۔مذکورہ بالا تمام آیاتِ قرآنیہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے بندوں کے علم و ہدایت کی خاطر احکام نازل کئے اور انبیاء کے ذریعے ہر مشکل وقت میں ان کی رہنمائی فرمائی اور یہ کہ انسان ہر زمانہ اور ہر وقت میں تعلیم الٰہی کا محتاج رہا ہے اور محتاج رہے گا اور پھر ان تمام تعلیماتِ الٰہیہ کو قرآن مجید میں جمع کر کے (منجملہ ان تمام علوم کے جو امت محمدیہ کے حق میں بالخصوص نازل کئے گئے ہیں) امت محمدیہ کو ان تمام سے روشناس کرا دیا۔ اب اگر ہمارا یہ ایمان ہے کہ قرآن مجید خداوند کریم کی آخری کتاب ہے، اس کے بعد کوئی کتابِ  الٰہی نازل نہ ہو گی اور یہی ایک ایسی کتاب ہے جواب قیامت تک لوگوں کی رہنمائی اور رشد و ہدایت کی باعث ہو گی تو ہمیں قرآن مجید کی ضرورت اور اہمیت کو بلا حیل و حجت تسلیم کرنا پڑے گا اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ اہمیت ایسی ہے کہ اس کے بغیر انسان ایک قدم بھی نہیں چل سکتا اور جو یہ کوشش کرے گا تباہی کے مہیب غار اس کو اپنی آغوش میں لے لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو قومیں قرآن مجید کو ایک فرسودہ کتاب قرار دیتے ہوئے اس سے دور ہوتی چلی جا رہی ہیں ان میں انسانیت نام کو بھی باقی نہیں رہی، ان میں سود خوری، شراب نوشی، جوا بازی، فحاشی، قتل و غارت گری، انکارِ خدا اور  انکارِ رسول جیسی قبیح عادات ویسے ہی رواج پا چکی ہیں جیسے پہلی معتوب و مغضوب قوموں میں موجود تھیں۔لیکن ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ دور کے  ہمارے بہت سے مسلمان بھائی بھی ان برے افعال کے ارتکاب سے محفوظ نہیں ہیں اور یہ بھی بلا شبہ قرآنی تعلیمات کو فراموش کر دینے کا نتیجہ ہے۔ مسلمان کا منصب تو یہ تھا کہ ان برائیوں کو جہاں کہیں بھی دیکھتا، ان کو اپنے ہاتھ، زبان اور طاقت سے دور کرنے کی سعی کرتا لیکن افسوس ؎
ہم ایسے ہیں کہ ہمیں اپنی خبر نہیں اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK