شہادت امام حسین ؓ کا ہر پہلو امت کیلئے قابل غور اور سبق آموز ہے جو محض ہماری قوت ایمانی کا تقاضا نہیں بلکہ دیانتدارانہ اور منصفانہ رائے بھی یہی ہے کہ امام حسین ؓایک مظلوم حق پرست کی حیثیت سے اعلائے کلمۃ اﷲ کی خاطر شہادت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 1:27 PM IST | Professor Dr. Zahoor Ahmed Azhar | Mumbai
شہادت امام حسین ؓ کا ہر پہلو امت کیلئے قابل غور اور سبق آموز ہے جو محض ہماری قوت ایمانی کا تقاضا نہیں بلکہ دیانتدارانہ اور منصفانہ رائے بھی یہی ہے کہ امام حسین ؓایک مظلوم حق پرست کی حیثیت سے اعلائے کلمۃ اﷲ کی خاطر شہادت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے
عظمت رفتہ کو واپس لانے اور مستقبل میں عالم انسانیت کی رہنمائی کا بار امانت اٹھانے کے لئے ملت اسلامیہ کو تیار ہونا ہے۔ اس تیاری کا اصل کام نوجوانان ملت کی سیرت سازی ہے۔ اس کے لئےجس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ جذبۂ شبیری ہے۔ ملت کے نوجوان کو مقام شبیریؓ سے آگاہ کرنا سب سے اہم اور ضروری کام ہے۔ ’’شبیریت‘‘ نام ہے راہ حق پر بے خوف و خطر چلنے اور فتح و شکست سے بے نیاز ہوکر تن من دھن کی بازی لگا دینے کا۔ چونکہ شبیریت حق پرستی کا دوسرا نام ہے، اس لیے ازل سے ابد تک مقام عزت اور فتح و کامرانی اسی کا مقدر رہا ہے۔ حق ہمیشہ غالب آتا ہے اس لئے شبیریت دائمی غلبے کا نام بھی ہے جس میں مغلوبیت کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ اس کے برخلاف باطل کا مقدر ہمیشہ شکست ہے۔ اس لیے باطل کا دوسرا نام یزیدیت ہے۔ اسوۂ شبیری سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ باطل کو اگر عارضی فتح اور وقتی غلبہ حاصل ہو بھی جائے تو بھی وہ ایک دائمی اور رسوا کن شکست کی تمہید ہی ثابت ہوتا ہے۔
حسینیت کسی رسم و رواج کی تقلید کا نام نہیں بلکہ ’’حسینیت‘‘ تو ایک جذبہ عمل اور قوت محرکہ کا نام ہے جو باطل کے طوفانوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر رواں دواں رہتی ہے۔ اس قوت کے سامنے ہرقوت ہیچ ہے۔ اس کی راہ میں حائل ہر طاقت کا مقدر ذلت آمیز شکست کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
’’شبیریت‘‘ ایثار و قربانی اورہمت و عزیمت کی ایک داستان ہے جو سادہ ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت رنگین اور حیرت انگیز بھی ہے۔ شبیریت دراصل حضرت ابراہیم خلیل اﷲ کی اس ملت حنفیہ کی تکمیل ہے جو بقول شاہ ولی اﷲ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ’’یکے از مقاصد اسلام‘‘ ہے۔ نار نمرود اور ذبح عظیم کے روح پرور واقعات کے بعد معرکہ کربلا اس سلسلہ عزیمت کا نقطہ عروج ہے۔ یہ داستان ایثار و قربانی اورہمت و عزیمت سیدنا اسماعیل علیہ السلام ذبیح اﷲ سے شروع ہوتی ہے اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ پر اختتام پذیر ہوتی ہے۔ حضرت ذبیح اﷲ اور حضرت شبیر رضی اللہ عنہ کی سیرت و شخصیت میں گہری مماثلت ہے۔ بلاچوں و چرا سرکا نذرانہ پیش کرنا اور ہمت و عزیمت کے ساتھ بلاتردد جان کی بازی لگا دینے کو روح حیات سمجھنا سیرت اسماعیلی اور شخصیت حسینی دونوں کا یکساں پیغام ہے۔ اس لئے جو داستان حق پرستی اورجذب و شوق حضرت اسماعیل علیہ السلام ذبیح اﷲ سے شروع ہوتی ہے، وہ شہید کربلا حسین رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ پر تکمیل پذیر ہوتی ہے۔
سیرتِ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ
آیئے ایمان کو جلا بخشنے کے لیے سیرت امام حسین رضی اللہ عنہ پر نظر ڈالتے ہیں :
حضرت امام حسین ؓنے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مقدس گھر اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک گود میں پرورش اور تربیت پائی۔ ظاہر ہے یہ سعادت اور تربیت اور کسی کے مقدر میں نہ تھی۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ ان تربیت کرنے والوں کا اثر بھی سیدنا امام حسین ؓ کی سیرت، کردار، اخلاق، فکر و خیال اور شخصی تعمیر میں نمایاں ہوا۔
حسین بن علی رضی اﷲ عنہما اپنے قول و عمل میں ہمیشہ سیرت و تربیت نبویؐ کی پرکشش تصویر بنے رہے۔ آپ کی زندگی، اخلاق اورکردار اس قدر بے داغ ہے کہ یزید کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا تھا کہ ان کی ذات میں کوئی ایسا عیب نہیں جس کا وہ ذکر کرسکے۔ امام حسین ؓ کے خط کے جواب میں یزید کو اس کے مشیروں نے ایسا خط لکھنے کا مشورہ دیا تھا کہ ان کی شخصیت کوگھٹایا جاسکے مگر یزید نے کہا تھا :
ترجمہ: ’’بھلا میں حسین رضی اللہ عنہ میں کون سا عیب نکالوں گا۔ مجھے تو ان کی شخصیت میں کوئی داغ نظر ہی نہیں آتا۔‘‘(الاستيعاب، ص ۳۸۴)
امام حسین ؓ اپنے ناناؐ اور اپنے والد کی طرح فصاحت و بلاغت اور خطابت میں بہت بلند مقام پر فائز تھے۔ آپ کے اندازگفتگو اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں اخلاق نبوی ؐ کے تمام پہلو جھلکتے نظرآتے تھے۔ یہ آپ کی تربیت ہی کا نتیجہ تھا کہ عملی زندگی کے ہر میدان میں صداقت کے ساتھ شائستگی کے دامن کو مشکل سے مشکل حالات میں کبھی نہ چھوڑا۔
حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں، سیدنا امام حسین ؓکی یہی فضیلت کیا کم ہے کہ وہ نسب اور عمل دونوں لحاظ سے ایک طرف نبی کریمؐ کے حقیقی پرتو تھے اور دوسری طرف ’’زہرائیت‘‘ اور ’’حیدریت‘‘ بھی آپ میں یک جا تھی۔
حضرت اسامہ بن زیدؓروایت کرتے ہیں کہ رسولؐ اﷲ اپنے دونوں نواسوں کو پکڑ لیتے اور یوں دعا فرمایا کرتے:
’’ اے اﷲ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی انہیں اپنی محبت سے نواز۔ ‘‘(جامع ترمذی، ابواب المناقب)
امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت و کردار درحقیقت شرافت و نجابت اور ظاہر وباطن کی پاکیزگی کا نام تھا جس نے تذلیل و بے حیائی اور سنگ دلی کے برتاؤ کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ وقت آنے پر باطل پرستی اور ظلم وتعدی کے سامنے سرنگوں ہونے کی بجائے سرکٹوا کریہ ثابت کردیاکہ مومن حق پر کبھی آنچ نہیں آنے دیتا بلکہ وہ اپنے خون سے باطل کی نامرادی اور ناکامی صفحات تاریخ میں ثبت کرجاتا ہے۔
اعلائے کلمۃ الحق اور کردارِ امام حسینؓ
یزیدی لشکر کے سپہ سالار ابن زیاد نے جب ۷؍ محرم کواہل بیت اطہار کاپانی بند کردیا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے تین راستے تھے :
(۱)ابن زیادہ کا حکم مانیں اور یزید کی خلافت تسلیم کریں۔یا،
(۲)یونہی بھوکے پیاسے اپنے ساتھیوں سمیت ختم ہوجائیں، یا
(۳) پھر میدان کار زار میں حق وباطل کا فیصلہ ہو۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے تیسرا راستہ اختیار فرمایا جس کے نتیجے میں ۱۰؍ محرم ۶۱؍ہجری کو تاریخِ انسانی کا درد ناک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ۷۲؍ ساتھیوں سمیت امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے جبکہ ابن سعد کے لشکر جرار کے اٹھاسی آدمی مارے گئے۔ دونوں طرف کے نقصانات اور لشکروں کی تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی بھی غیرجانبدار اور انصاف پسند ذہن یہ مانے بغیر نہیں رہے گا کہ حسینی مجاہدین نے کس جرأت اور بہادری کے ساتھ میدان کارساز میں اپنے سپاہیانہ جوہر دکھائے ہوں گے۔
شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ہر پہلو امت کے لئے قابل غور اور سبق آموز ہے جو محض ہماری قوت ایمانی کا تقاضا نہیں بلکہ دیانتدارانہ اور منصفانہ رائے بھی یہی ہے کہ سیدنا حضرت امام حسین ؓایک مظلوم حق پرست کی حیثیت سے اعلائے کلمتہ اﷲ کی خاطر شہادت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اس سلسلے میں چند باتیں سامنے آتی ہیں :
قطع نظر ذاتی خصائص اور کردار کے یزید امت مسلمہ کا متفقہ خلیفہ نہیں تھا۔ سرزمین حجاز اورحرمین کے بزرگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کی بیعت سے انکار کیا تھا کیونکہ دیگر باتوں کے علاوہ اسلام میں خلافت، موروثی منصب نہیں تھا مگر یزید کے حصے میں یہ منصب موروثی حیثیت سے آیا تھا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ ازخود نہیں نکلے تھے۔ شریعت اور عدل کے تقاضوں کی خاطر امت کی اتنی بڑی تعداد کے شدید اصرار کے بعد کوفہ روانہ ہوئے تھے مگر کوفیوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے بے وفائی کی۔ انہیں حق پر جاننے اور ماننے کے باوجود باطل کی طاقت سے دب گئے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کسی حال میں بھی امت مسلمہ میں خون خرابے کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ نہ وہ کسی قسم کی جنگی چال اور سیاسی تحریک کے حق میں تھے۔ چنانچہ جونہی کوفیوں کی بے وفائی اور غداری کا علم ہوا تو آپ دل برداشتہ ہوکر واپس ہونے کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ مگر ایک بات انہیں کسی صورت میں بھی گوارا نہ تھی۔ آپ ؓ ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دینے کے قائل تھے۔ آپؓ کے سامنے زندہ رہنے کیلئے جو شرائط پیش کی گئی تھیں انہیں کوئی مرد حربھی گوارا نہیں کرسکتا تھا چہ جائیکہ دوش رسولؐ کے شہسوار حسینؓ بن علی اس قسم کی زندگی گوارا کرسکتے۔
واپسی کے تمام راستے بند کرنے کے علاوہ اس مختصر سی جماعت میں شریک معصوم بچوں اور بے گناہ عورتوں کے لئے پانی بند کردیا گیا، یہ کمینگی اور پست ذہنیت کی انتہا تھی۔ یہ بات ظلم اور اہانت کی حدود سے آگے نکل کر اوباش ظالموں کی عقل اور ضمیر دونوں کے دیوالیہ پن کی علامت کے سوا اور کچھ نہیں قرار پاتی۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت ایک حق پرست مظلوم کی شخصیت ہے۔ ایک ایساحق پرست مظلوم جس نے ذلت کی زندگی کو پائے حقارت سے ٹھکرا دیا اور اپنے خون سے ظلم کو نیچا دکھا کر حق کا بول بالا کردیا۔
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے :
شاہ است حسینؓ پادشاہ است حسین ؓ
دینِ است حسین ؓ دینِ پناہ است حسین ؓ
سر داد نداد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ!