انسان اکثر اس وقت تک اپنی موجودہ حالت کو اپنی تقدیر سمجھتا رہتا ہے جب تک زندگی اسے کسی ایسی حقیقت سے نہ ٹکرا دے جو اس کے اندر جمی ہوئی خاموشی کو توڑ دے۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 1:32 PM IST | Muhammad Tauqeer Rahmani | Mumbai
انسان اکثر اس وقت تک اپنی موجودہ حالت کو اپنی تقدیر سمجھتا رہتا ہے جب تک زندگی اسے کسی ایسی حقیقت سے نہ ٹکرا دے جو اس کے اندر جمی ہوئی خاموشی کو توڑ دے۔
انسان اکثر اس وقت تک اپنی موجودہ حالت کو اپنی تقدیر سمجھتا رہتا ہے جب تک زندگی اسے کسی ایسی حقیقت سے نہ ٹکرا دے جو اس کے اندر جمی ہوئی خاموشی کو توڑ دے۔ سکون ہمیشہ ترقی کی علامت نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ محض جمود ہوتا ہے، ایک ایسا جمود جس میں انسان چل تو رہا ہوتا ہے مگر آگے نہیں بڑھ رہا ہوتا۔ وہ اپنے معمولات، تعلقات اور امیدوں کے ایک ایسے دائرے میں قید ہوجاتا ہے جہاں سوال اٹھانے کی ہمت بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔ پھر اچانک کوئی واقعہ، کوئی ناکامی، کسی قریبی شخص کی بے رخی یا کسی خواب کا بکھر جانا اس کے وجود پر دستک دیتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پہلی مرتبہ اپنی ذات کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کرتا ہے۔
اعتماد شکنی اور حوصلہ شکنی بظاہر دو معمولی انسانی تجربات محسوس ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ انسان کے اندر قائم اس تصور کو متزلزل کردیتے ہیں جس پر وہ اپنے مستقبل کی عمارت تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔ جب انسان کسی شخص، کسی تعلق یا کسی خواب پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرلیتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ اپنی قوتِ ارادی کو دوسروں کے رویوں کے ساتھ باندھ دیتا ہے۔ پھر اگر وہ سہارا ٹوٹ جائے تو صرف امید نہیں ٹوٹتی، انسان اپنے بارے میں بھی شکوک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اس کے خواب غلط تھے، اس کی صلاحیت ناکافی تھی، یا اس کا سفر ہی بے معنی تھا۔ حالانکہ اکثر اوقات شکست انسان کی کمزوری نہیں، اس کے اندازِ اعتماد کی اصلاح ہوتی ہے۔
زندگی کی ٹھوکریں اسی لئے عجیب ہوتی ہیں کہ وہ صرف گرانے نہیں آتیں؛ وہ دکھانے بھی آتی ہیں۔ بعض اوقات ایک ناکامی وہ سبق سکھا دیتی ہے جو برسوں کی کامیابی نہیں سکھا پاتی۔ ایک شخص جب بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے تو اسے اپنی سمت پر غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، لیکن جب راستے میں رکاوٹ آتی ہے تو وہ رک کر دیکھتا ہے کہ وہ چل کہاں رہا تھا۔ یہی لمحۂ توقف انسان کے شعور کی نئی ابتدا بنتا ہے۔ لوہے کو نرم حالت میں دیکھنے والا اس کی اصل قوت کا اندازہ نہیں کرسکتا، مگر جب وہ آگ اور ضرب سے گزر کر اپنی نئی ساخت اختیار کرتا ہے تو اس کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے۔ انسان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ آزمائشیں ہمیشہ انسان کو کمزور نہیں کرتیں؛ کئی مرتبہ وہ اس کے اندر منتشر قوتوں کو یکجا کردیتی ہیں۔ جو شخص ایک بار ٹوٹ کر خود کو دوبارہ بناتا ہے، وہ پہلے جیسا نہیں رہتا؛ اس کی نگاہ بدل جاتی ہے، فیصلے بدل جاتے ہیں، تعلقات کے معیار بدل جاتے ہیں۔
اسی لئے زندگی کی ہر ٹھوکر کو محض حادثہ سمجھنا درست نہیں۔ کچھ ٹھوکریں انسان کو دوسروں کی حقیقت دکھاتی ہیں، اور کچھ اپنی حقیقت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتی ہیں کہ اعتماد ضروری ہے مگر اندھا اعتماد خطرناک؛ تعلق ضروری ہے مگر خود کو ختم کرکے نہیں؛ خواب ضروری ہیں مگر ان کی بنیاد دوسروں کے سہاروں پر نہیں ہونی چاہئے۔ جب انسان یہ سیکھ لیتا ہے تو وہ لوگوں سے بے تعلق نہیں ہوتا بلکہ اپنے اندر ایسا توازن پیدا کرلیتا ہے کہ اب وہ محبت بھی کرتا ہے، بھروسہ بھی کرتا ہے، مگر اپنی بنیاد کسی اور کے ہاتھ میں نہیں دیتا۔
تب انسان جمود سے نکلتا ہے۔ وہ سخت نہیں ہوتا، مگر مضبوط ہوجاتا ہے؛ محتاط ہوجاتا ہے مگر خوف زدہ نہیں؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دوسروں کے سہارے سے نہیں بلکہ اپنی بیدار شعوری کے ساتھ چلنا سیکھ لیتا ہے۔ لیکن شاید زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ نہیں کہ کون ساتھ چھوڑ گیا، یا کس نے ہمیں توڑ دیا؛ بلکہ یہ ہے کہ انسان آخرکار اپنے اندر کیا تعمیر کرتا ہے۔ بعض لوگ ساری عمر لوگوں کو پڑھتے رہتے ہیں مگر خود کو نہیں پڑھ پاتے، اور بعض لوگ ایک ٹھوکر کے بعد اپنی پوری داخلی دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں۔ انسان کی اصل پختگی اس دن شروع نہیں ہوتی جب وہ دوسروں پر اعتماد چھوڑ دیتا ہے، بلکہ اس دن شروع ہوتی ہے جب وہ اپنی قیمت دوسروں کی رائے سے الگ متعین کرنا سیکھ لیتا ہے۔ زندگی کا حسن بھی شاید اسی میں ہے کہ وہ ہمیں مکمل حالت میں نہیں دیتی؛ وہ ہمیں امکانات کی صورت میں عطا کرتی ہے۔ جو شخص ہر ٹوٹنے کو اختتام سمجھتا ہے، وہ نئی تعمیر سے محروم رہتا ہے، اور جو ہر شکست میں ایک نئے سوال کی آواز سن لیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے اندر ایک ایسی دنیا آباد کرلیتا ہے جسے باہر کے طوفان آسانی سے ویران نہیں کرسکتے۔
آخر میں انسان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ سفر کا مقصد صرف منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ اس قابل ہوجانا بھی ہے کہ منزل ملے یا نہ ملے، انسان اپنے وجود کی روشنی باقی رکھ سکے۔ کیونکہ بعض اوقات زندگی ہمیں وہ نہیں دیتی جو ہم چاہتے ہیں، بلکہ وہ بنا دیتی ہے جو ہمیں بننا چاہئے۔