آج کل ہماری مسجدوں، مذہبی مقامات اور دینی اجتماعات کی ایک پہچان گداگروں کا ازدحام اور ایک خاص لَے اور دُھن میں ان کی طرف سے سوالیہ کلمات کی تکرار بھی ہے ۔
EPAPER
Updated: June 19, 2026, 12:54 PM IST | Khalid Saifullah Rahmani | Mumbai
آج کل ہماری مسجدوں، مذہبی مقامات اور دینی اجتماعات کی ایک پہچان گداگروں کا ازدحام اور ایک خاص لَے اور دُھن میں ان کی طرف سے سوالیہ کلمات کی تکرار بھی ہے ۔
آج کل ہماری مسجدوں، مذہبی مقامات اور دینی اجتماعات کی ایک پہچان گداگروں کا ازدحام اور ایک خاص لَے اور دُھن میں ان کی طرف سے سوالیہ کلمات کی تکرار بھی ہے ، ان میں بعض کے اندر الحاح کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے اور آپ کے لئے ان کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ جانا دشوار ہوتا ہے ، بعض کی جرأت رندانہ بھی قابل دید ہوتی ہے ، اگر آپ نے انہیں بھیک نہیں دی یا بھیک کی مطلوبہ مقدار نہیں دی ، تو ان کی خشمگیں نگاہ کو سہے بغیر چارہ نہیں۔ کچھ ایسے فرزانے بھی ہیں جو آپ کو دوچار صلواتیں سنانے سے بھی نہیں چوکتے۔ اُن کے سوال کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ ناواقف آپ کو ان کا مقروض سمجھ بیٹھے۔ مذہبی مقامات کے علاوہ سیاحتی مقامات، بس اسٹینڈ، ریلوے اسٹیشن اور ٹریفک سگنل کی جگہیں جہاں گاڑیوں کے رکنے کی نوبت آتی رہتی ہے، اس گروہ کے پسندیدہ اور مستجاب مقامات ہیں ، اس لئے یہاں ان کی وافر تعداد نہ صرف موجود ہوتی ہے؛ بلکہ کمالِ اخلاص اور کمالِ استقامت کے ساتھ صبح کی پَوْ پھٹنے سے لے کر رات گئے تک اپنے محاذ پر ڈٹی رہتی ہے، پولیس والوں کا محصول اور گاہے ڈنڈوں کے ذریعہ ان کی تنبیہ اور دینے والوں کی ڈانٹ ڈپٹ ان کو نہ ملول خاطر کرتی ہے اور نہ ان کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل آنے دیتی ہے، اس لحاظ سے ثابت قدمی میں وہ ایک نمونہ کا درجہ رکھتے ہیں ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گداگروں کا یہ گروہ اس کو ایک آسان اور سہولت بخش ذریعہ ٔمعاش تصور کرتا ہے، چند ماہ پہلے اخبارات میں یہ خبر آئی تھی کہ حیدرآباد میں گداگروں کی آمدنی کا اوسط تین تا چار ہزار روپے ماہانہ ہے۔ خاص خاص مواقع جیسے رمضان المبارک اور عید جیسے موقعوں پر اس میں خاصا اضافہ ہوجاتا ہے، اس کانتیجہ یہ ہے کہ یہ اس پیشہ سے دستبرادار ہونے کو کسی طور تیار نہیں ہیں، اگر آپ انہیں کام کرنے کو کہیں، یا خود اپنے یہاں کام کرنے کی دعوت دیں تو وہ ایسا منہ بنائیں گے کہ گویا آپ نے ان کی بے عزتی کی ہے۔ غرض وہ اپنے پیشہ پر قانع بھی ہیں اور مطمئن بھی اور انہیں اس پر نہ کوئی حجاب ہے اور نہ عار۔ اس بات سے مزید دکھ ہوتا ہے کہ ان میں بہت ہی قابل لحاظ تعداد ہمارے مسلمان بھائیوں کی ہے اور جس اُمت کو سب سے بڑھ کر غناء اور استغناء کی تعلیم دی گئی ہے ، وہی اس اخلاقی بیماری میں پیش پیش ہے ۔
اسلام نے اول روز سے ہی کسب ِمعاش کو ضروری قرار دیا۔ قرآن نے کہا کہ اللہ کی بندگی سے فارغ ہونے کے بعد کسب ِمعاش کی کوشش کرنی چاہئے اور مال کو فضل الٰہی سے تعبیر کیا، (سورہ الجمعہ:۱۰) رسول اللہ ﷺنے خود تجارت فرمائی ، حضرت ابو بکر ؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ؓ اور اکابر صحابہ ؓ نے تجارت کی، حضرت علیؓ اور کئی صحابہ ؓ نے محنت ومزدوری کر کے اپنی ضروریات پوری کیں۔ مقصد رزق حلال حاصل کرنا تھا۔
اسلام نے توکل کی تعلیم ضرور دی؛ لیکن لوگوں نے جو بے عملی اور فرائض سے پہلو تہی کو توکل کا نام دے رکھا تھا ، اس کی اصلاح بھی فرمائی۔ اسلام نے بتایا کہ توکل یہ نہیں ہے کہ اسباب ِدنیا کو ترک کر دیا جائے؛ بلکہ توکل اسباب کو اختیار کرنے کے بعد نتائج کو اللہ پر چھوڑ دینے کا نام ہے؛ اس لئے کسب ِمعاش توکل کے منافی نہیں۔ گداگری پیدا ہی اس لئے ہوتی ہے، کہ انسان کسب ِمعاش کی تگ و دو سے دل چرانے لگے۔ اس کے سدباب کے لئے سرکار دو عالمؐ نے کسب ِمعاش کی اہمیت کو واضح فرماکر گداگری کے اصل سبب کو ختم کرنا چاہا ۔ آپؐ نے سوال کرنے سے صحابہؓ کو اس درجہ منع فرمایا اور اس کی تعلیم دی کہ وہ معمولی چیزیں مانگنے سے بھی احتراز کرتے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کا حال یہ تھا کہ اگر اونٹنی کی لگام نیچے گر جاتی، تو اونٹنی کو بٹھاتے اور خود لگام لیتے، لگام بھی دوسروں سے مانگنے کے روادار نہیں ہوتے۔ (مجمع الزوائد )یہ اللہ کے رسولؐ کی تربیت کا نتیجہ تھا، حضرت ابو ذر غفاریؓ اور حضرت ثوبانؓ دونوں کا بیان ہے کہ آپؐ نے ان سے عہد لیا کہ کسی سے سوال نہ کریں ، یہاں تک کہ اگر کوڑا نیچے گر جائے تو وہ بھی دوسرے سے نہ مانگیں۔
گداگری، فقر و احتیاج کا نتیجہ نہیں؛ بلکہ اس کا اصل سبب تن آسانی و سہل انگاری اورمفت خوری و بطن پروری کی خو ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان نے حیاء اور غیرت کی چادر کو تار تار کر دیاہے۔ اگر انسان میں قوتِ ارادی، غیرت اور خودداری ہو اور اپنی عزت و آبرو عزیز ہو ، تو وہ دوسروں کے سامنے دست ِسوال نہیں پھیلا سکتا۔
اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اپنے آپ کو عفیف و آبرو مند رکھنا چاہے اللہ تعالیٰ اسے عفیف رکھتے ہیں اور جو مستغنی رہنا چاہے، اللہ تعالیٰ اسے استغنا عطا فرماتے ہیں، (مجمع الزوائد بحوالہ مسند احمد)۔
خود داری کے اسی مزاج کو باقی رکھنے کیلئے اسلام نے زکوٰۃ کا اجتماعی نظام قائم کیا تاکہ لوگ بیت المال میں زکوٰۃ جمع کریںاور بیت المال ضرورت مندوں کاحسب ِضرورت تعاون کرے؛ کیوں کہ سرکاری ادارہ سے کوئی مدد حاصل کرنے کی صورت میں انسان کا جذبۂ خود داری ختم نہیں ہوتا اور حجاب و حیاء کی کیفیت باقی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیاہے،لوکا شینکوکی تنقید
جب انسان ایک دوسرے سے سوال کرنے لگتا ہے تو پہلے زبان کھولے نہیں کھلتی، دل پرپتھر رکھ کر اپنامدعا بیان کرتا مگر پھر نہ آنکھوں میں خجالت کی کیفیت ہوتی ہے ، نہ زبان کو اظہارِ مدعا میں کوئی جھجھک باقی رہتی ہے اور نہ ہاتھ کو لوگوں کے سامنے دراز ہونے میں کوئی عار۔کسی بھی قوم کے لئے یہ بات نہایت شرمناک ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے جو قوم کے مستقبل ہوتے ہیں ، جو ان مرد و عورت جن میں محنت اور تگ و دو کی صلاحیت ہوتی ہے، جو قوم کا اثاثہ اور اس کے ہاتھ پاؤں ہیں، ان میں بے عملی اور بے ضمیری پیدا ہوجائے، اس سے زیادہ قابل افسوس بات اور کیا ہوسکتی ہے !
اللہ کے رسولؐ کااُسوہ ہمارے سامنے موجود ہے ، کہ ایک طرف آپؐ نے بھیک مانگنے والوں کو دینے سے انکارکر دیا اور دوسری طرف انہیں محنت و مزدوری کر کے اپنی ضروریات پوری کرنے کی ترغیب بھی دی اور اس کی تدبیر بھی فرمائی۔ اگر ہم اپنی قوم کو اس لعنت سے بچاناچاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان میں یہ مزاج پیدا کرنا ہوگا کہ وہ اپنے گاڑھے پسینے بہا کر کمائیں اور آدھا پیٹ کھائیں لیکن دوسروں کے سامنے سوال کرکے بے آبروئی کا راستہ اختیارنہ کریں !