یہی وہ آیت تھی جس نے ڈاکوؤں کے سردار کی دنیا بدل دی اور ایمان کی دولت نے سنگ ریزے کو سونا بنا دیا۔
عبادت۔ تصویر:آئی این این
حضرت فضیل بن عیاضؒ بڑے پائے کے بزرگ گزرے ہیں۔ پہلے قطاع الطریق اور ڈاکوؤں کے سردار تھے، اور علاقہ سرخس میں دن دہاڑے ڈاکے ڈالا کرتے تھے چنانچہ اُن کا یہ بھی دستور تھا کہ جس قافلہ کو لوٹتے، اُس کا نام، پتہ، تاریخ وغیرہ کے ساتھ لکھ لیتے اور یہ بھی عادت تھی کہ جس قافلہ میں عورت یا لڑکا ہوتا اُس کو نہیں لوٹتے تھے۔
اُن کے تائب ہونے کا یہ واقعہ ہے کہ ایک رات اپنے گھر کو جارہے تھے کہ ایک گلی سے گزر ہوا۔ کانوں میں آواز آئی کہ کوئی شخص اپنے بالا خانے پر یہ آیت شریفہ تلاوت کررہا ہے : (ترجمہ) ’’کیا ایمان والوں کے لئے (ابھی) وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی یاد کے لئے رِقّت کے ساتھ جھک جائیں ۔‘‘ (سورہ الحدید:۱۶)
اُنہوں نے آیت شریفہ کی تلاوت سنی تو جواباً کہا ’’ہاں ، البتہ وہ وقت آگیا ہے‘‘ اور وہیں سے اُن پر ایک حال طاری ہوا اور ڈاکہ زنی کے پیشہ سے سچے دل سے توبہ کی۔
تائب ہونے کے بعد وہ فہرست نکال کر دیکھی جس کا اوپر ذکر آچکا ہے۔ لو‘ٹ کا سامان جو کچھ موجود تھا اُن کو اُن کے مالکوں کے گھر لے جا کر دیا، قصور کی معافی چاہی اور جو مال صرف ہوچکا تھا اُس کے بارے میں عذر کرکے بخشوایا اور یہ کہہ کر راضی کیا کہ میں فضیل (بن عیاض) ہوں ، وہ مال میرے پاس سے صرف ہوگیا ہے، اب میں نے لوٹ مار سے توبہ کی ہے، آئندہ ایسا کام نہ کروں گا ، تم اپنے حقوق پر راضی ہوکر بخش دو تاکہ بارگاہ ایزدی میں ہماری دعا قبول ہو۔
اس صدق دلی سے عذر و معذرت پر بعض لوگ تو اپنا مال طلب کرتے اور بعض کہتے کہ ہم نے بخش دیا، یہاں تک کہ یہ سلسلہ ایک یہودی تک پہنچا جس کی کچھ اشرفیاں لُوٹ میں جاتی رہی تھیں۔ یہ اُس کے پاس بھی آئے اور کہا:مجھے تو جانتا ہے کہ کون ہوں؟
یہودی: نہیں، میں تم کو نہیں جانتا۔
حضرت فضیلؒ: میرا نام فضیل ہے جو ڈاکہ زنی کے سبب سے مشہور ہے۔ اب میں اپنے کام سے شرمندہ ہوں اور توبہ کی ہے۔ ہمارے دین میں یہ بات ہے کہ توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ مدعی راضی نہ ہو۔ میں نے تیری کچھ اشرفیاں لوٹ میں لی تھیں وہ خرچ ہوگئی ہیں، کما کر تجھ کو دوں گا۔ یہ بجائے قرض میرے ذمہ ہونگی مگر اس وقت راضی ہو، تاکہ توبہ قبول ہو۔
یہ سن کر یہودی گھر میں گیا اور پھر جلد ہی واپس آکر بولا: اے فضیل، میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک اپنا مال تجھ سے وصول نہ کرلوں گا ہرگز راضی نہ ہوں گا۔
خواجہ فضیلؒ: مجھ سے قبالہ لکھوالے کہ میں تیرا مال ضرور دوں گا مگر فی الحال مجھ کو معاف کر دے تاکہ توبہ قبول ہو۔
یہودی: میں کیا کروں، قسم کھا چکا ہوں، اس لئے اس کے خلاف نہیں کرسکتا۔
حضرت فضیلؒ یہ سن کر حیران رہ گئے اور پھر بولے : خدا کے لئے مجھ کو معاف کردے ، میں تیرا مال ضرور واپس کروں گا۔
یہودی: یہ مشکل ہے۔ خیر، تمہاری خاطر سے ایک حیلہ کرتا ہوں تاکہ میری قسم پوری ہوجائے، وہ اس طرح کہ میرے پاس اور بھی سونا ہے وہ تم کو دیتا ہوں۔ تم اس کو اپنے ہاتھ میں لے کر مجھ کو واپس کردو تاکہ قسم پوری ہو اور میں حانث (قسم توڑنے والا) نہ بنوں۔
خواجہ فضیلؒ: اچھی بات ہے ، ایسا ہی کر۔
یہودی حضرت فضیلؒ کو اپنے ساتھ لے کر گھر میں گیا اور ایک ہمیانی (پیسہ رکھنے کی تھیلی) کی طرف اشارہ کرکے کہا : اس رکھی ہوئی ہمیانی میں زرِ نقد ہے ، اپنے ہاتھ سے اٹھا کر مجھ کو دے دو۔
حضرت فضیلؒ نے ایسا ہی کیا۔ یہودی نے اس کو کھول کر دیکھا اور کہا : مجھ کو جلد کلمۂتوحید پڑھاؤ کہ میں اسلام لاؤں۔
آپ نے اس کو مشرف بہ اسلام کیا اور پھر پوچھا: کیا بات دیکھ کر تو اتنی جلد مسلمان ہوگیا اور اس سے پہلے اسلام سے راضی نہ تھا؟
یہودی: میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ تائب کی توبہ قبول ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وہ خاک اور سنگریزے کو ہاتھ لگائے تو سونا ہوجائے۔ جب آپ نے باتیں شروع کیں تو میں نے پہلے گھر میں آکر کچھ خاک و سنگریزے تھیلی میں بھر کر رکھ دیئے اور سوچا کہ اگر تم سچے ہو اور تمہاری توبہ قبول ہے تو یہ خاک اور سنگریزے تمہارے ہاتھ میں سونا بن جائیں گے ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، لہٰذا میں تمہارے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا۔ (ترجمان القرآن۔ستمبر ۱۹۳۲)n