اگر میں اِراشی کے پیسے دینے سے انکار کردیتا تو وہ اونٹ مجھے زندہ نگل لیتا

Updated: July 31, 2020, 9:28 AM IST | Maolana Nadeemul Wajidi

سیرت نبی ٔ کریم ؐ کی اس خصوصی سیریز میں گزشتہ ہفتے عرب کے مشہور قبیلہ دَوس کے سردار طفیل دَوسی کے مکہ مکرمہ آ نے اور قریش مکہ کا اسلام کی مخالفت میں انہیں بہکانے کا ذکر خود انہی کی زبانی پیش کیا گیا تھا۔ آج ملاحظہ کیجئے چند ایسے لوگوں کی مثالیں جن کی قسمت میں سعادت ِ دین سے سرفراز ہونا نہیں لکھا تھا ۔ اس کے علاوہ وہ مشہور واقعہ بھی پڑھئے کہ جب ابوجہل نے ایک شخص کی رقم لوٹانے سے انکار کیا تو وہ شخص آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے بعد آپؐ ، ابوجہل کے دروازے پر پہنچ گئے

Mosque - Pic : INN
مسجد ۔ تصویر : آئی این این

حضرت طفیل دَوسی مزید فرماتے ہیں کہ ’’اس کے بعد میں برابر آپؐ کی خدمت میں حاضر رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح کرادیا، فتح مکہ کے بعد ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے عَمرْو بِنْ حَمِیْمَہْ کی طرف جانے کی اجازت دیجئے، میں وہاں جاکر ان کے بت ذُوالْکَفَّیْن کو جلانا چاہتا ہوں، آپؐ نے مجھے اجازت دے دی، میں وہاں گیا اور میں نے ان کا بت جلا دیا۔‘‘
 ایک روایت میں ہے کہ قبیلۂ دوس کے ستر اسّی گھر تو پہلے ہی مسلمان ہوچکے تھے، ذوالکفین کو جلانے کے بعد باقی گھرانے بھی اسلام میں داخل ہوگئے۔ حضرت طفیل دوسیؓ رسول اللہ ﷺکی وفات تک مدینہ منورہ میں ہی رہے، حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں فتنۂ ارتداد پھیلا، اس کو فرو کرنے میں بھی انہوں نے حصہ لیا، طلیحہ اور ارضِ نجد میں اس فتنے کی سرکوبی کے بعد جب افواج اسلام یمامہ گئیں تو حضرت طفیل دوسیؓ بھی وہاں گئے اور یمامہ کی جنگ میں شہید ہوگئے۔ لڑائی کے دوران ان کے بیٹے کو بھی کافی زخم آئے جو ان کے ساتھ تھے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ صحتمند ہوگئے۔ انہوں نے حضرت عمر بن الخطابؓ کے زمانۂ خلافت میں جنگ یرموک میں شہادت پائی۔
روایات میں ہے کہ حضرت طفیل بن عمرو الدوسیؓ جب اپنا عصا لے کر قبیلے میں پہنچے تو اس کا سر اندھیری رات میں بھی چمک رہا تھا، لوگ اس کو ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے، وہ روشنی ان کے ہاتھوں سے چھن چھن کر پھیلتی تھی، اس نور کی وجہ سے لوگ انہیں طفیل ذی النور بھی کہا کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء: ۱/۳۴۴، ۳۴۶، الاصابہ فی تمییز الصحابہ: ۳/۲۸۷، طبقات ابن سعد: ۴/۱۷۵، اسد الغابہ: ۳/۷۸، البدایہ والنہایہ: ۳/۹۹)۔
لوگوں کو دین ِ حق سے روکنے کی کوشش؛ ایک مثال:
حضرت طفیل دوسیؓ کی قسمت اچھی تھی یا یہ کہہ لیجئے کہ ان کی قسمت میں اسلام کی نعمت تھی، وہ قریش کے دامِ تزویر میں پھنسنے سے بچ گئے، بعض بد قسمت ایسے بھی رہے جو اپنی تمام تر عقل ودانش کے باوجود تہی دست رہ گئے، قبیلۂ بنی بکر بن وائل کا ایک عمر رسیدہ شخص تھا، اعشیٰ بن قیس بن ثعلبہ، اچھا خاصا پڑھا لکھا انسان تھا، شاعر بھی تھا، اپنے قبیلے کے با اثر لوگوں میں اس کا شمار ہوتا تھا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ایک مدحیہ قصیدہ بھی کہا تھا، اللہ نے اس کے دل میں ڈالا اور وہ اسلام لانے کے ارادے سے گھر سے نکلا، راستے میں قریش کے کچھ مشرکین مل گئے، انہوں نے دریافت کیا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اعشی نے بتلادیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جارہا ہوں، اسلام لانے کا ارادہ ہے، کہنے لگے! ابو بصیر! وہ تو زنا کو حرام کرتے ہیں، اعشی نے جواب د یا زنا سے مجھے کچھ سروکار نہیں، مشرکین نے کہا وہ شراب سے بھی منع کرتے ہیں، اعشیٰ نے کہا: ہاں شراب کا تو مسئلہ ہے، میں واپس جاتا ہوں، ایک سال تک جی بھر کے شراب نوشی کروں گا، آئندہ سال پھر آؤں گا اور اس وقت اسلام قبول کرلوں گا، اعشی وہیں سے واپس چلا گیا، لیکن اسے دوبارہ آنا نصیب نہیں ہوا، کیونکہ گھر پہنچ کر وہ چل بسا۔ (سیرت ابن ہشام: ۱/۲۶۹) 
ابوجہل اور اِراشی کا واقعہ: 
ایک طرف ابوجہل وغیرہ کی دشمنی کا یہ حال تھا کہ وہ لوگ قدم قدم پر جال بچھائے بیٹھے تھے، رکاوٹیں کھڑی کررہے تھے بلکہ ایک طرح سے وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی جان کے دشمن بنے ہوئے تھے، لیکن دوسری طرف آپؐ سے ڈرتے بھی بہت تھے، ایک حدیث میں ہے: ’’ایک مہینے کی مسافت سے رعب دے کر میری مدد کی گئی۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱/۳۷۰، رقم الحدیث:۵۲۱) اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کا اس قدر رعب ڈال دیا تھا کہ دور دراز بیٹھے ہوئے بڑے بڑے بادشاہ محض آپؐ  کا اسم گرامی سن کر کانپ جاتے تھے، مکہ مکرمہ کی حیات طیبہ میں بھی بار ہا اس رعب کا مشاہدہ کیا گیا۔ ابوجہل کا ایک واقعہ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ وہ پتھر لے کر مارنے کے ارادے سے آپ ﷺ کی طرف بڑھا لیکن اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنائے بغیر ہانپتا کانپتا واپس ہوگیا، سیرت کی کتابوں میں ایک واقعہ اور لکھا ہے، جس کا ذکردشمنانِ اسلام کی نفسیات کو سمجھنے کیلئے بے حد ضروری ہے کہ وہ ایک طرف تو آپؐ کی اس قدر مخالفت کرتے تھے دوسری طرف وہ آپؐ سے خوف زدہ بھی رہتے تھے۔
ایک شخص قبیلۂ اِراش سے اپنے اونٹ فروخت کرنے کے لئے مکہ آیا۔ ابوجہل نے اس کے اونٹ خرید لئے لیکن قیمت ادا نہیں کی۔ وہ مکہ مکرمہ میں اجنبی تھا، پھر جس شخص نے اس کے اونٹ خرید کر قیمت ادا نہیں کی تھی وہ اس شہر کا نامی گرامی غنڈہ اور منہ زور انسان تھا، سب ہی لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ اِراشی بے چارہ سب کے پاس گیا، کسی نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا، ایک دن وہ خانۂ کعبہ کے صحن میں موجود قریش سے اپنی پریشانی بیان کررہا تھا اور اُن سے مدد کی درخواست کررہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں ایک گوشے میں تشریف فرماتھے، اِراشی نے بہت ہی پریشانی کے عالم میں اور نہایت غم زدہ لہجے میں کہا: اے قریش کے لوگو! تم میں سے کون ہے جو ابو الحکم عمرو بن ہشام (ابوجہل) کے معاملے میں میری مدد کرسکتا ہے، میں ایک غریب، اجنبی اور پریشان حال مسافرہوں، اس نے میرا حق مار رکھا ہے، لوگوں نے اس سے کہا کہ دیکھو اس کونے میں جو صاحب بیٹھے ہوئے ہیں تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں اپنی داستان سناؤ، ہمیں یقین ہے وہ تمہاری مدد ضرور کریں گے۔ ان لوگوں نے یہ بات سنجیدگی سے نہیں کہی تھی بلکہ وہ ایک طرح سے بہ طور مذاق یہ بات کہہ رہے تھے، وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوجہل کے پاس نہیں جائیں گے  اور اگر اس کے پاس چلے بھی گئے تو وہ آپ کی بات نہیں مانے گا۔
اِراشی پریشان تو تھا ہی، لوگوں نے مشورہ دیا تو اس امید پر رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا کہ شاید ان کے ذریعے میرا کام ہوجائے، لوگ کہہ رہے ہیں تو کچھ نہ کچھ اثر تو ہوگا ان کا، وہ شخص گیا اور جاکر کہنے لگا: یا ابن عبد اللہ! ابوالحکم ابن ہشام نے میرے پیسے مار لئے ہیں، میں ایک اجنبی مسافر ہوں، اس دیار میں میرا کوئی واقف کار اور مددگار نہیں ہے، ان لوگوں نے جو وہاں بیٹھے ہوئے ہیں مجھے آپؐ کے پاس بھیجا ہے اور یہ یقین دلایا ہے کہ آپؐ ہی میری مدد کرسکتے ہیں، اللہ آپ پر رحم کرے، آپؐ اس شخص سے میرے پیسے دلوا دیجئے۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر اپنی جگہ سے اٹھے اور اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے ابوجہل کی طرف چل دیئے، لوگوں نے آپؐ  کو اِراشی کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تو ایک شخص کو ان کے پیچھے لگا دیا تاکہ وہ یہ دیکھے کہ ابوجہل کیا جواب دیتا ہے اور کیا کرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے گھر پہنچ کر اس کے دروازے پر دستک دی، اندر سے آواز آئی: کون ہے؟ جواب دیا: محمد ہوں، ذرا باہر آؤ، ابوجہل باہر نکل کر آیا۔ جس وقت اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِراشی کے ساتھ کھڑے ہوئے دیکھا اس کا رنگ فق ہوگیا، چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، آپؐ نے فرمایا: اس شخص کو اس کے اونٹوں کی قیمت ادا کرو، ابھی اور اسی وقت۔ ابوجہل کے جسم میں کاٹو تو لہو نہیں تھا، لرزتے ہوئے بولا آپ یہیں ٹھہریں، میں اس کے پیسے لے کر آتا ہوں۔ وہ اسی لمحے اندر گیا اور  پیسے لاکر اسے دیئے۔ اِراشی خوش ہوگیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے۔
 جو شخص ابوجہل کے تیور دیکھنے کے لئے پیچھے پیچھے آیا تھا اس نے واپس جاکر اہل مجلس کو بتلایا کہ آج تو کمال ہی ہوگیا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کے دروازے پر دستک دی، وہ باہر نکل کر آیا، اس کا یہ حال تھا جیسے اس کی روح نے اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا ہو، وہ الٹے پاؤں اندر گیا، اور اسی وقت اِراشی کے پیسے لاکر دے دیئے۔ سننے والے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، انہیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے، ابوجہل جیسا سرپھرا، ضدی، ہٹ دھرم، مغرور ومتکبر سب سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسولؐ  کا دشمن اس قدر بے بس بھی نظر آسکتا ہے! اس سلسلے میں خود ابوجہل سے پوچھا گیا تو اس کا جواب یہ تھا کہ واللہ! محمد ؐنے میرا دروازہ کھٹکھٹایا،  میں نے ان کی آواز سنی، آواز سنتے ہی مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا، باہر نکل کر دیکھا تو ان کے سر کے پیچھے سے ایک اونٹ جھانک رہا تھا، نہ میں نے کبھی اس کے سر جیسا سر نہ ہی اس کی گردن جیسی گردن دیکھی تھی اور نہ اس کے دانتوں جیسے دانت دیکھے تھے، مجھے یقین ہے کہ اگر میں اِراشی کے پیسے نہ دیتا تو وہ اونٹ مجھے زندہ نگل لیتا۔ (سیرت ابن ہشام: ۱/۲۶۹، ۲۷۰)
نجران کے نصاریٰ کا وفد:
شعب أبی طالب سے باہر نکلنے کے بعد جو چند اہم واقعات پیش آئے ان میں یہ واقعہ بھی اہمیت کے ساتھ قابل ذکر ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد جو بیس افراد پر مشتمل تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اسلام قبول کیا، بعض مصنفینِ سیرت نے لکھا ہے کہ یہ وفد حبشہ سے آیا تھا، بہر حال بیس لوگ آئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے ملاقات کی، انہیں حبشہ کے نصاریٰ سے یہ بات معلوم ہوئی تھی کہ مکہ مکرمہ میں آخری نبی کا ظہور ہوا ہے، اس خبر کی تحقیق کیلئے وہ لوگ وفد کی صورت میں مکہ  آئے آپؐ اس وقت مسجد حرام میں تشریف فرما تھے۔ آنے والوں نے آپؐ سے ملاقات کی، کچھ سوالات کئے، آپؐ نے جوابات مرحمت فرمائے، کفارو مشرکین کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی، وہ لوگ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ سوال وجواب کا سلسلہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دی اور ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی، تلاوت سنتے ہی ان کی آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے، انہوں نے اسی وقت آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے۔ نصاریٰ یہ جاننا چاہتے تھے کہ جو کچھ انہوں نے اپنی کتابوں میں نبی آخر الزماں کے بارے میں پڑھا ہے یا جو کچھ انجیل میں ان کے متعلق بتلایا گیا ہے وہ رسول اللہ ﷺ پر صادق آتا ہے یا نہیں۔  جیسے ہی انہیں اس بات کی تصدیق ہوئی وہ فوراً ایمان لے آئے، جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلے تو ابوجہل ان کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا اور ان سے کہنے لگا کہ خدا تمہیں ناکام ونامراد کرے، تمہاری قوم کے لوگوں نے تمہیں یہاں اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے متعلق معلومات کرو، تحقیق کرو، پھر جاکر انہیں بتلاؤ، ابھی تم ٹھیک سے بیٹھے بھی نہیں تھے کہ تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور اس کی تصدیق کر بیٹھے، مجھے تو تم سے زیادہ احمق اور جاہل کوئی اور نظر نہیں آتا، بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی، اتنا بڑا فیصلہ چند لمحوں میں کر ڈالا۔ وفد کے لوگوں نے کہا: ہمیں ہمارے حال پر رہنے دو، ہم تمہاری طرح جاہل نہیں ہیں، اور نہ کم عقل ہیں، ہمیں جو معلوم کرنا تھا وہ معلوم کرلیا، جس مقصد کیلئے یہاں آئے تھے وہ مقصد پورا ہوگیا،  اس لئے ہم نے وہ کیا جو ہمیں کرنا چاہئے تھا، تم ہمارا راستہ چھوڑو، اور اپنے کام سے کام رکھو۔یہ صاف جواب سن کر ابوجہل اور اس کے ساتھی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ قرآن کریم کی یہ چند آیات اسی واقعے کے سلسلے میں نازل ہوئیں:
(ترجمہ): ’’جن کو ہم نے قرآن سے پہلے آسمانی کتابیں دی ہیں، وہ اس (قرآن ) پر ایمان لاتے ہیں، اور جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یقیناً یہ برحق کلام ہے، جو ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے، ہم تو پہلے بھی اسے مانتے تھے، ایسے لوگوں کو ان کا ثواب دُہرا دیا جائے گا، کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور وہ نیکی سے برائی کا دفعیہ کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس میں سے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں، اور جب وہ کوئی بے ہودہ بات سنتے ہیں تو اسے ٹال جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تمہیں سلام کرتے ہیں، اور نادان لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK