تری خاک ميں ہے اگر شرر تو خيال فقر و غنا نہ کر

Updated: August 01, 2020, 8:34 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

چار روز پہلے ملک کے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام کی پانچویں برسی تھی جنہیں ’’عوام کا صدر‘‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی سادگی کا ایسا نقش قائم کیا ہے کہ شاید ہی کبھی بھلایا جاسکے۔  اٹل بہاری واجپئی جب دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، تب اُنہوں نے کلام کو مرکزی کابینہ میں شامل کرنے اور وزارت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ دعوت ملی تو کلام نے ایک دن کا وقت مانگا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

حکایات رومی میں پڑھا تھا: ’’ایک حکیم نے جنگل کی ایک سرسبز و شاداب جگہ پر ایک مور دیکھا جو اپنے خوبصورت پروں کو نوچ رہا تھا۔ حکیم کو بڑی حیرت ہوئی۔ وہ مور کےقریب گیا اور کہنے لگا: اے طوس، یہ کیا حماقت ہے، اتنے خوبصورت پروں کو اتنی بے دردی سے اُکھیڑ رہا ہے، کیا تو نہیں جانتا کہ تیری اہمیت اور کشش انہی پروں کی وجہ سے ہے، لوگ تیرے پروں کو ذووق و شوق سے سنبھال کر رکھتے ہیں ؟ مور یہ سن کر رونے لگا، اس کے رونے میں بڑا درد تھا جس سے حکیم خجل ہوا۔ اسے یہ احساس ہوا کہ ناحق اس پرندے کو رُلا دیا۔ مور نے تھوڑی دیر بعد اپنے آپ پر قابو پالیا، پھر حکیم سے گویا ہوا کہ اے نادان، افسوس ہے تیری عقل و دانش پر، تو ابھی تک طلسم رنگ و بو‘ میں گرفتار ہے، کیا تجھے علم نہیں کہ انہی بازوؤں (پروں ) کی وجہ سے سیکڑوں بلائیں میری طرف آتی ہیں ؟ ظالم شکاری انہی پروں کے لئے ہر طرف جال بچھاتا ہے اور کتنے ہی سنگ دل تیر انداز ان پروں کی خاطر میری جانِ ناتواں سے کھیلتے ہیں ؟‘‘  اس حکایت کے ذریعہ مولانا جلال الدین رومی (۱۲۰۷ء تا ۱۲۷۳ء) نے یہ درس دیا تھا کہ انسان دولت اور شہرت سے اُتنا ہی دور رہے جتنا کسی آتی ہوئی مصیبت کو دیکھ کر دور رہتا ہے کیونکہ جب اس کا چسکہ لگ جاتا ہے تو ’’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘۔ مگر اس نصیحت کو گرہ میں باندھنے والے ہر دور میں بہت کم رہے۔ ہمارا دور تو نام و نمود اور شہرت و ظاہر پرستی کی دلدل میں گلے گلے تک دھنسا ہوا ہے۔ اسلاف کی تاریخ کو بھول کر زندگی گزاری جائے تو انسان، نہ تو علم حاصل کرتا ہے نہ ہی اپنے علم پر بھروسہ کرتا ہے۔ وہ رنگ برنگے غباروں کو پکڑنے کی خاطر اپنے قد سے اونچا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک آدھ غبارہ ہاتھ میں آجائے تب بھی تھوڑی دیر کا مہمان ثابت ہوتا ہے اور اگر نہیں آئے تو دوسروں کے ہاتھوں کے غبارے اسے تڑپاتے ہیں ۔ اسلاف کی تاریخ نے سادگی، حقیقت پسندی، خودداری، عزت نفس، دور اندیشی، عاقبت اندیشی اور وقت کا بہترین صرف سکھایا تھا۔ اب ان باتوں کو دقیانوسی سمجھا جانے لگا ہے جبکہ دور حاضر میں بھی سادگی اور خودداری میں وقار کی مثالیں موجود ہیں ۔ اِس وقت ڈاکٹرعبدالکلام کا نام فوری طور پر اس لئے ذہن میں آرہا ہے کہ ابھی چار روز قبل (۲۷؍ جولائی) اُن کی پانچویں برسی تھی۔ 
 اٹل بہاری واجپئی جب دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنے تھے، تب اُنہوں نے کلام کو مرکزی کابینہ میں شامل کرنے اور وزارت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ دعوت ملی تو کلام نے ایک دن کا وقت مانگا۔ دوسرے دن بڑی شائستگی سے یہ کہتے ہوئے انکارکردیا کہ نیوکلیائی تجربہ کی تیاری آخری مراحل میں ہے، مَیں بحیثیت سائنسداں ملک کی بہتر خدمت انجام دے رہا ہوں ۔ دو ماہ بعد جب پوکھرن میں کامیاب نیوکلیائی تجربہ ہوا تب شاید واجپئی بھی یہ محسوس کئے بغیر نہ رہ سکے ہوں گے کہ کلام نے وزارتی ذمہ داری قبول نہ کرکے بالکل وہی کیا جو ایک سائنسداں کی حیثیت سے اُن کا فرض تھا۔ 
 یہ ڈاکٹر کلام کی فرض شناسی کی ایک مثال تھی۔ اُس وقت اگر اُن کے رفقائے کار یا بہی خواہوں میں سے کسی نے کہا ہوگا کہ ڈاکٹر صاحب، کیا ہی اچھا ہوتا جو آپ وزارت قبول کرلیتے تو اُن لوگوں کو واجپئی کے دوسرے فون پر یقیناً ندامت ہوئی ہوگی کہ اُنہیں تو وزارت سے بھی بڑا عہدہ ملنا تھا۔ 
 واجپئی نے اپنے دوسرے فون میں کہا تھا: ’’کلام صاحب ملک کو صدرجمہوریہ کی حیثیت سے آپ کی ضر ورت ہے۔‘‘ انسان جب شہرت کے پیچھے نہیں دوڑتا بلکہ فرض شناسی کے ساتھ خدمت کے اپنے مشن میں بصد خلوص مصروف رہتا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب شہرت خود اس کا تعاقب کرنے لگتی ہے۔ ڈاکٹر کلام کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ اس کے باوجود اُن کی شائستہ مزاجی میں فرق آیا نہ سادگی میں ۔ اُن کے سوانح نگار اور قریبی رفیق کار ارون تیواری نے لکھا ہے کہ صدر جمہوریہ بن جانے کے بعد ڈاکٹر صاحب کیلئے لازم تھا کہ شایان شان لباس زیب تن کریں ۔ کچھ دنوں بعد درزی بند گلے کے چار سوٹ لے آیا۔ مگر کلام عجب سی بے چینی محسوس کررہے تھے۔ کہتے تھے اس لباس میں دم گھٹتا ہے۔ درزی پریشان تھا۔ ڈاکٹر کلام چاہتے تھے کہ کوٹ میں گلے کے پاس کا حصہ کاٹ دیا جائے۔ درزی نے حکم کی تعمیل میں ، کوٹ میں مذکورہ ترمیم کردی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ترمیم کی وجہ سے کوٹ کو شہرت حاصل ہوگئی۔ یہ لباس ’’کلام سوٹ‘‘ کہلایا۔
 رام ناتھ گوئنکا ایوارڈز کی تقریب میں کلام کو بحیثیت مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر موصوف تشریف لائے، اُن کا خیرمقدم کیا گیا، اُنہوں نے سامعین سے خطاب کیا اور انعامات تقسیم کئے۔ اس کے بعد مباحثہ ہونا تھا۔ کوئی اور مہمان خصوصی ہوتا تو ’’مصروفیت‘‘ کے پیش نظر چلا جاتا۔ کلام نے کہا مَیں مباحثہ میں شریک رہنا چاہتا ہوں ۔ وہ اسٹیج سے اُتر کر سامعین کی صفوں میں آکر بیٹھ گئے اور مباحثہ میں حصہ لیا۔ اس دوران ایک نکتے پر اظہار خیال میں اس قدر محو ہوگئے کہ اسٹیج کی جانب بڑھ گئے جہاں برکھا دت اور راج دیپ سردیسائی کرسی نشین تھے۔ کلام باتیں کرتے کرتے اسٹیج کے فرش پر بیٹھ گئے۔ان کا یہ عمل اس قدر فطری تھا کہ لوگ ششدر رہ گئے۔ 
 ایسا ہی سادہ مزاج اور بے نیاز شخص شہر کے باہر کسی ڈھابے پر گاڑی رُکوا کر وہاں پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھ کر پلاسٹک کے کپ میں چائے پی سکتا تھا اور نہایت خاموشی سے اپنی خودداری کا وہ مظاہرہ کرسکتا تھا کہ بعد میں جس جس کو درج ذیل واقعہ کا علم ہوا اس اس کے دل میں کلام صاحب کی عزت بڑھ گئی۔ واقعہ اس طرح تھا: دسمبر ۲۰۰۵ء میں ڈاکٹر کلام کے بڑے بھائی،ان کی بیٹی اور پوتا حج کرنے گئے ۔ سعودی عرب میں جب ہندوستانی سفارت خانے کو اس کا علم ہوا تو صدر جمہوریہ ڈاکٹر کلام کو فون کرکے یقین دلایا گیا کہ وہ فکرمند نہ ہوں ، اُن کے اہل خانہ کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا اور ہر طرح کی سہولت بہم پہنچائی جائے گی۔ اس پیشکش پر ڈاکٹر کلام نے جو جواب دیا وہ آج بھی سیدھا دل میں اُتر جاتا ہے۔ کلام صاحب نے کہا تھا: ’’آپ سے گزارش ہے کہ میرے ۹۰؍سالہ بھائی کو کسی سرکاری مدد اور سہولت کے بغیر ایک عام حاجی کی طرح حج کرنے دیا جائے۔‘‘ جب انکسار اور خودداری عمل میں ڈھل جاتی ہے تب انسان کو اپنی قدرمنزلت نہیں کروانی پڑتی، لوگ دل سے اس کے احترام پر مجبور ہوجاتے ہیں ، اُسے دلوں میں بٹھاتے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK