• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اسلام میں مشاورت کی اہمیت اور تقاضے

Updated: December 01, 2023, 2:39 PM IST | Maulana Syed Abul Ala Maududi | Mumbai

جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو اُن میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ اس کی کتنی سخت جوابدہی اُسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی ، کبھی اس بھاری بوجھ کو تنہا اپنے سر لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

مشاورت اسلامی طرزِ زندگی کا اہم ستون ہے اور مشورے کے بغیر اجتماعی کام چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ اللہ کے مقرر کئے ہوئے ضابطے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشاورت کو اسلام میں یہ اہمیت کیوں دی گئی ہے؟ اس کی وجوہ پر اگر غور کیا جائے تو تین باتیں واضح طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں۔
  ایک یہ کہ جس معاملے کا تعلق دو یا زائد آدمیوں کےمفاد سے ہو، اُس میں کسی ایک شخص کا اپنی رائے سے فیصلہ کرڈالنا اور دوسرے متعلق اشخاص کو نظرانداز کردینا زیادتی ہے۔ مشترک معاملات میں کسی کو اپنی من مانی چلانے کا حق نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ایک معاملہ جتنے لوگوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو اُس میں اُن سب کی رائے لی جائے اور اگر وہ کسی بہت بڑی تعداد سے متعلق ہو تو اُن کے معتمد علیہ نمائندوں کو شریک ِ مشورہ کیا جائے۔
  دوسرے یہ کہ انسان مشترک معاملات میں اپنی من مانی چلانے کی کوشش یا تو اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اغراض کے لئے دوسروں کا حق مارنا چاہتا ہے یا پھر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اخلاقی حیثیت سے یہ دونوں صفات یکساں قبیح ہیں اور مومن کے اندر ان میں سے کسی صفت کا شائبہ بھی نہیں پایا جاسکتا۔ مومن کی خوبی ہے کہ وہ نہ تو خود غرض ہوتا ہے کہ دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرکے خود ناجائز فائدہ اٹھانا چاہئے نہ ہی متکبر اور خودپسند ہوتا ہے کہ اپنے آپ ہی کو عقل ِ کل اور علیم و خبیر سمجھے۔
  تیسرے یہ کہ جن معاملات کا تعلق دوسروں کے حقوق اور مفاد سے ہو اُن میں فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ کوئی شخص جو خدا سے ڈرتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ اس کی کتنی سخت جوابدہی اُسے اپنے رب کے سامنے کرنی پڑے گی، کبھی اس بھاری بوجھ کو تنہا اپنے سر لینے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ اس طرح کی جرأتیں صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو خدا سے بے خوف اور آخرت سے بے فکر ہوتے ہیں ۔ خداترس اور آخرت کی بازپرس کا احساس رکھنے والا آدمی تو لازماً یہ کوشش کرے گا کہ ایک مشترک معاملہ جن جن سے بھی متعلق ہو اُن سب کو، یا اُن کے بھروسے کے نمائندوں کو اُس کا فیصلہ کرنے میں شریک ِ مشورہ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ صحیح اور بے لاگ اور مبنی برانصاف فیصلہ کیا جاسکے، اور اگر نادانستہ کوئی غلطی ہو بھی جائے تو تنہا کسی ایک ہی شخص پر اس کی ذمہ داری نہ آپڑے۔
 یہ تین وجوہ ایسی ہیں جن پر اگر آدمی غور کرے تو اُس کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اسلام جس اخلاق کی انسان کو تعلیم دیتا ہے، مشورہ اُس کا لازمی تقاضا ہے اور اس سے انحراف ایک بہت بڑی بداخلاقی ہے جس کی اسلام کبھی اجازت نہیں دے سکتا۔ اسلامی طرز ِ زندگی یہ چاہتا ہے کہ مشاورت کا اصول ہر چھوٹے بڑے اجتماعی معاملے میں برتا جائے۔ گھر کے معاملات ہوں تو ان میں شوہر اور بیوی باہم مشورے سے کام کریں اور بچے جب جوان ہوجائیں تو انہیں بھی شریک ِ مشورہ کیا جائے۔ خاندان کے معاملات ہوں تو اُن میں کنبے کے سب عاقل و بالغ افراد کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ ایک قبیلے، برادری یا بستی سے متعلق اُمور ہوں اور سب لوگوں کا شریک ِ مشورہ ہونا ممکن نہ ہو تو ان کا فیصلہ ایسی پنچایت یا مجلس کرے جس میں کسی متفق علیہ طریقہ کے مطابق تمام لوگوں کے معتمد علیہ نمائندے شریک ہوں ۔ ایک پوری قوم کے معاملات ہوں تو اُن کے چلانے کے لئے قوم کا سربراہ سب کی مرضی سے مقرر کیا جائے اور وہ قومی معاملات کو ایسے صاحبِ رائے لوگوں کے مشورہ سے چلائے جن کو قوم قابلِ اعتماد سمجھتی ہو، اور وہ اُسی وقت تک سربراہ رہے جب تک قوم خود اسے اپنا سربراہ بنائے رکھنا چاہے۔ کوئی ایماندار آدمی زبردستی قوم کا سربراہ بننے اور بنے رہنے کی خواہش یا کوشش نہیں کرسکتا۔ نہ یہ فریب کاری کرسکتا ہے کہ پہلے قوم کے سر پر بزور مسلط ہوجائے اور پھر جبر کے تحت لوگوں کی رضا مندی طلب کرے، اور نہ اس طرح کی چالیں چل سکتا ہے کہ اس کو مشورہ دینے کے لئے لوگ اپنی آزاد مرضی سے اپنی پسند کے نمائندے نہیں بلکہ وہ نمائندے منتخب کریں جو اُس کی مرضی کے مطابق رائے دینے والے ہوں ۔ ایسی ہر خواہش صرف اس نفس میں پیدا ہوتی ہے جو نیت کی خرابی سے ملوث ہو، اور اس خواہش کے ساتھ امرھم شوریٰ بینھم (اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ۔ الشوریٰ: ۳۸) کی ظاہری شکل بنانے اور اس کی حقیقت غائب کردینے کی کوششیں صرف وہی شخص کرسکتا ہے جسے خدا اور خلق خدا دونوں کو دھوکا دینے میں کوئی باک نہ ہو۔

امرھم شوریٰ بینھم کا قاعدہ خود اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے پانچ باتوں کا تقاضا کرتا ہے:
 اول یہ کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفاد سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اظہار رائے کی پوری آزادی حاصل ہو اور وہ اس بات سے پوری طرح باخبر رکھے جائیں کہ اُن کے معاملات فی الواقع کس طرح چلائے جارہے ہیں، انہیں اس امر کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اس پر ٹوک سکیں، احتجاج کرسکیں اور اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں۔ لوگوں کا منہ بند کرکے اور ان کو بے خبر رکھ کر اُن کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بددیانتی ہے جسے کوئی شخص بھی امرھم شوریٰ بینھم کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا۔
  دوم یہ کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو اُسے لوگوں کی رضامندی سے مقرر کیا جائے۔ یہ رضامندی اُن کی آزادانہ رضامندی ہو، جبر اور تخویف سے حاصل کی ہوئی یا تحریص و اطماع سے خریدی ہوئی نہ ہو۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ وہ نہیں ہوتا جو ہر ممکن طریقہ سے کوشش کرکے اس کا سربراہ بنے بلکہ وہ ہوتا ہے جس کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں۔
 سوم یہ کہ سربراہِ کار کو مشورہ دینے کے لئے بھی وہ لوگ مقرر کئے جائیں جن کو قوم کا اعتماد حاصل ہو۔ ایسے لوگ حقیقی اعتماد کے حامل قرارنہیں دیئے جاسکتے جو دباؤ ڈال کر یا مال سے خرید کر یا جھوٹ اور مکر سے کام لے کر نمائندگی کا مقام حاصل کریں۔
 چہارم یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق رائے دیں اور اس طرح کے اظہار ِ رائے کی انہیں پوری آزادی حاصل ہو۔ یہ بات جہاں نہ ہو وہاں درحقیقت خیانت اور غداری ہوگی نہ کہ امرھم شوریٰ بینھم کی پیروی۔
 پنجم یہ کہ جو مشورہ اہل شوریٰ کے اجماع (اتفاق رائے) سے دیا جائے یا جسے ان کے جمہور کی تائید حاصل ہو اسے تسلیم کیا جائے۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو مشاورت بالکل  بے معنی ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرمارہا ہے کہ ’’اُن کے معاملات میں اُن سے مشورہ لیا جاتا ہے‘‘ بلکہ یہ فرمارہا ہے کہ ’’اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں۔‘‘ اس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لینےسے نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو اُسی کے مطابق معاملات چلیں۔
 اسلام کے اصولِ شوریٰ کی اس توضیح کے ساتھ یہ بنیادی بات بھی نگاہ میں رہنی چاہئے کہ یہ شوریٰ مسلمانوں کے معاملات کو چلانے میں مطلق العنان اور مختارِ کل نہیں بلکہ لازماً اس دین کی حدود سے محدود ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنی تشریع سے مقرر فرمائی ہے، اور اس اصل الاصول کی پابند ہے کہ ’’تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو اس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے‘‘، اور ’’تمہارے درمیان جو نزاع بھی ہو اس میں اللہ اور رسولؐ کی طرف رجوع کرو۔‘‘ اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے مسلمان شرعی معاملات میں اس  امر پر تو مشورہ کرسکتے ہیں کہ کسی نص کا صحیح مفہوم کیا ہے اور اُس پر عمل درآمد کس طریقہ سے کیا جائے تاکہ اُس کا منشا ٹھیک طور سے پورا ہو، لیکن اس غرض سے کوئی مشورہ نہیں کرسکتے کہ جس معاملہ کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے کردیا ہو اس میں وہ خود کوئی آزادانہ فیصلہ کریں۔
(تفہیم القرآن ، ج۴، سورۃ الشوریٰ ،حاشیہ ۶۱)

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK