Inquilab Logo Happiest Places to Work

چھٹی تراویح میں احکام ِقسم اور وصیت،مائدہ اور حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ سنا جائیگا: قسط نمبر(۶)

Updated: March 28, 2023, 11:29 AM IST | Maulana Nadeem-ul-Wajidi | Mumbai

روحِ قرآں۔پارہ:(۷) ساتواں پارہ (وَإِذَا سَمِعُوا ) جس آیت سے شروع ہوتا ہے اس کی ایک خاص شان نزول ہے۔

In the religion of Islam, there are clear rules for transactions, so the type is also clearly defined.
مذہب اسلام میں لین دین کے واضح احکام ہیں، اسی طرح قسم کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

ساتواں پارہ(وَإِذَا سَمِعُوا ) جس آیت سے شروع ہوتا ہے اس کی ایک خاص شان نزول ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ ضمریؓ کو اپنے مکتوب گرامی کے ساتھ شاہ حبشہ نجاشی کے پاس بھیجا تھا۔ شاہ نے نامہ مبارک پڑھا  اور مسلمانوں سے قرآن کریم سنا نے کی فرمائش کی۔ حضرت جعفرؓ ابن ابی طالب نے سورۂ مریم پڑھ کر سنائی۔ یہ سورہ سن کر نجاشی اور کچھ درباری اس درجہ متاثر ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ ’’جب وہ لوگ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کیا گیا ہے تو ان کی آنکھیں حق کی معرفت کے اثر سے آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں اور وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم آپ پر ایمان لائے، آپ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ دیں اور ہمارے پاس اللہ پر اور جو حق ہم تک پہنچا ہے اس پر ایمان نہ لانے کا کوئی عذر بھی موجود نہیں ہے، بس ہم تو یہی امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو صلحاء کے ساتھ شامل کرلیں گے۔‘‘ چند آیات کے بعد ایک فقہی حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ مہمل قسموں پر تمہاری گرفت نہیں کریگا، البتہ جو پکی سچی قسمیں تم کھایا کرتے ہو ان پر وہ ضرور تمہارا مواخذہ کرے گا (اگر قسم کھانے کے بعد خلاف ورزی کی) تو ایسی قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے، جیسا کہ تم اپنے گھر والوں کو کھلایا کرتے ہو یا ان دس محتاجوں کو کپڑا دینا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس ان چیزوں کی گنجائش نہ ہو تو اس کو تین روزے رکھنے چاہئیں، یہی تمہاری قسموں کا کفارہ ہے  جب تم قسم کھالو (اور اُسے توڑ دو)۔
 اسی لئے فرمایا گیا کہ تم اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو، اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے، یہ سب گندے اور شیطانی کام ہیں، تم ان سے اجتناب کرو، شاید تم کامیاب ہوجاؤ۔
  آگے شکار کے کچھ احکام ہیں خاص طور پر حالت احرام میں خشکی کے جانوروں کی ممانعت اور آبی جانوروں کی اجازت کا ذکر ہے اور حکم عدولی کی صورت میں کفارے کا بیان ہے۔ حضرات صحابۂ کرام ؓ میں دین کی طلب بہت تھی اسی لئے بہت سے صحابہؓ  کوئی بات سنتے تو مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے کچھ پوچھ لیا کرتے تھے، بسا اوقات کوئی ایسا سوال بھی سامنے آجاتا کہ آپؐ وحی کے انتظار میں خاموش ہوجاتے اور جواب نہ دیتے۔ جب حج کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو حضرت اقرع بن حابسؓ نے عرض کیا کہ کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ یہ سوال سن کر خاموش رہے۔  حضرت اقرع ؓبار بار یہی سوال کرتے رہے، اس پر آپؐ نے فرمایا نہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو فرض ہوجاتا۔ اس واقعے پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان! ایسی باتیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ باتیں تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، لیکن اگر تم کسی ایسے وقت میں پوچھو جب قرآن نازل ہو رہا ہو تو تم پر وہ باتیں ظاہر بھی کی جاسکتی ہیں۔ اب تک تم نے جو کچھ کیا ہے اللہ نے اس کو معاف کردیا ہے، اللہ در گزر کرنے والا ہے، اور بردبار ہے، تم سے پہلے ایک جماعت نے اسی طرح کے سوالات کئے تھے اور پھر وہ حق بات کے منکر ہوگئے تھے۔ 
کچھ آیتوں میں ایک معاشرتی حکم بھی ہے جس پر عمل کرنے سے بہت سے نزاعات کا تصفیہ ہوسکتا ہے، فرمایا: اے اہل ایمان! تم میں سے جب کسی کی موت کا وقت آجائے وصیت کرتے ہوئے تو اس پر دو عادل آدمی گواہ بنا لئے جائیں یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے (اور کوئی مسلمان گواہ نہ ملے) تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ بنا لو، تمہیں اگر (ان پر) کوئی شک ہو تو نماز کے بعد ان دونوں گواہوں کو روک لیا جائے اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ہم کسی قیمت پر گواہی فروخت کرنے والے نہیں ہیں اگرچہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، ہم ا للہ کی گواہی نہیں چھپائیں گے ، اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم گنہ گاروں میں سے ہوں گے۔ یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں ایک مسلمان حضرت بدیلؓ کے قصے کے سلسلے میں نازل ہوئی تھیں جو دو نصرانیوں کے ساتھ تجارت کیلئے شام گئے تھے، وہاں ان کی وفات ہوگئی،  وفات سے پہلے انہوں نے جو فہرست اپنے سامان کی مرتب کی اس پر ان دو نصرانیوں کو گواہ بنایا مگر ان دونوں نے خیانت کی جس کے بعد قسم وغیرہ کی نوبت آئی۔ 
اس کے بعد اس دن کا ذکر ہے جس دن تمام انبیاء اور رسل علیہم السلام کو جمع کرکے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا، وہ کہیں گے ہمیں تو معلوم نہیں آپ غیب کی باتوں کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ اس سورہ میں حضرت عیسیٰؑ  کی حیات طیبہ کے بعض اہم پہلو بھی اجاگر فرمائے گئے ہیں، خاص طور پر وہ پہلو جو حواریین کے متعلق ہیں کہ وہ دعوئ ایمان کے باوجود اپنے مطالبات کی فہرست پیش کرتے رہتے تھے۔ قرآن کریم میں ان کے اس مطالبے کا بطور خاص ذکر ہے کہ آسمان سے ہمارے لئے مائدہ (دستر خوان) نازل کیاجائے۔ اُن لوگوں کا بھی ذکر ہے جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرایمان لانے میں اس حد تک غلو کیا کہ وہ انہیں الوہیت کے درجے تک لے آئے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ( علیہ السلام )تو یہ کہہ کر بری الذمہ ہوجائیں گے کہ میں نے تو ان سے یہ نہیں کہا تھا کہ مجھے یا میری والدہ کو اللہ کے علاوہ دو اور خدا بناؤ،  اگر میں کہتا تو آپ اس کو جان لیتے، آپ میرے دل کا حال جانتے ہیں میں نہیں جانتا، (یہ ان ہی لوگوں کا من گھڑت افسانہ ہے اب) اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ زبردست ہیں اور دانا ہیں۔ 
یہ سورہ اس آیت پر ختم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔ آسمانوں، زمین اور تمام مخلوقات کی بادشاہی اللہ کے لئے ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
یہاں سے سورۂ انعام شروع ہوتی ہے۔ سورۂ مائدہ میں تو فروعی احکام زیادہ تھے، اس سورہ میں اصولی مضامین زیادہ ہیں۔ اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی بے مثال قدرت کے بیان سے ہوا، ساتھ ہی ان لوگوں کا بھی ذکر کیا گیا جو حق کی نشانیاں تو دیکھتے ہیں لیکن ان سے منہ موڑ لیتے ہیں، ان کو آگاہ کیا گیا کہ بہت جلد انہیں پتہ چل جائے گا جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے ہیں، کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے ہم کتنی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے ملک میں ایسا اقتدار عطا کیا تھا جو تمہیں نہیں دیا گیا۔ چند آیات کے بعد فرمایا کہ ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔چند آیات میں پھر اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلالت کا بیان ہے، اس کے بعد سلسلۂ کلام ماقبل سے مربوط ہوا اور فرمایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت باندھے یا اللہ کی آیات جھٹلائے۔ ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ آگے دنیا کی بے سرو سامانی کا تذکرہ ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی لہو و لعب کے علاوہ کیا ہے جبکہ دار آخرت ہی متقیوں کیلئے بہتر ہے۔ چند آیات کے بعد فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سی قوموں کے پاس رسول اسی لئے بھیجے تھے کہ وہ خوش خبری دینے والے اورڈارنے والے ہوں، جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے اچھے اعمال کئے نہ ان پر کسی قسم کا خوف ہے اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ اپنی نافرمانیوں کے نتیجے میں سزا ضرور بھگتیں گے۔ 
اس سورہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ کیا آپ بتوں کو معبود قرار دیتے ہیں، میں تو آپ کو اور آپ کی قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں، اس طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھلائے تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں، حضرت ابراہیم ؑ نے رات کی تاریکی میں ستاروں کو دیکھا، چاند کو دیکھا کہ وہ تو صبح ہوتے ہی چھپ جاتے ہیں، سورج کو دیکھا کہ وہ رات ہوتے ہی غروب ہوجاتا ہے، تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ چاند سورج ستارے جو چھپ جاتے ہیں خدا نہیں ہوسکتے، میں نے تو یکسو‘ ہوکر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ آگے فرمایا یہ تھی وہ حجت جو ہم نے ابراہیم ؑکو ان کی قوم پر عطا کی تھی، ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبہ عطا کردیتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر ہے اور ان کی ہدایتوں کا بیان ہے۔
 پارے کے آخر میں فرمایا کہ یہ ہے وہ ہدایت؛ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔  قرآن کریم کے متعلق ارشاد فرمایا کہ یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے بڑی مبارک ہے، آپ سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے تاکہ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آپ ڈرائیں اور جو لوگ آخرت کو ماننے والے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں، اس کے بعد پارے کے اختتام پر عجائبات عالم کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے نتیجے میں ظاہر ہوئے، پھر فرمایا کہ اب تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں آچکی ہیں، جو بصیرت والا ہے وہ اپنا ہی نفع کرے گا اور جو اندھا ہے وہ خود نقصان اٹھائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK