انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کو قرآن نے تشنہ چھوڑا ہو، البتہ ہم قرآن مجید کو چھوڑ بیٹھے ہیں اسلئے ہماری زندگی کی کشتی مسائل کے سمندر میں مسلسل ہچکولے کھارہی ہے۔
EPAPER
Updated: February 02, 2024, 1:19 PM IST | Mujahid Nadvi | Mumbai
انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کو قرآن نے تشنہ چھوڑا ہو، البتہ ہم قرآن مجید کو چھوڑ بیٹھے ہیں اسلئے ہماری زندگی کی کشتی مسائل کے سمندر میں مسلسل ہچکولے کھارہی ہے۔
مشاہدے میں اکثر یہ بات آتی رہتی ہے کہ انسانوں کا ایک دوسرے سے بہت زیادہ عزت بلکہ تکلف کے ساتھ پیش آنا بھی رشتوں میں دوریوں کا سبب بن جاتا ہے۔ بس اسی طرح ہم نے بھی قرآن مجید کے ساتھ اپنا رشتہ کچھ اتنا پرتکلف بنا رکھا ہے کہ ہمارے اور روشنی کے اس مینار کے درمیان میلوں کا فاصلہ آچکا ہے، بلکہ یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ قرآن مجید کی جانب ہمارا دیکھنے کا نظریہ ہی بدل چکا ہے۔ اب یہ ہمارے لئے ایک سال بھر میں رمضان میں پڑھنے کی کتاب، عملیات کی کتاب اور شادی بیاہ اور اموات کے موقع پر پڑھنے کی کتاب بن چکی ہے۔ جبکہ ہمارے نبی کریمﷺ کے اخلاق کے متعلق حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا تھا: ’’آپﷺ کا اخلاق سراسر قرآن ہے۔ ‘‘ یعنی آپﷺ قرآن مجید کے احکامات کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ جو جو احکامات قرآن مجید میں آئے ہیں، نبی کریمﷺ نے اپنے اسوہ سے اُنہیں ہم پر واضح کردیا ہے کہ ان احکام کو عملی زندگی میں کس طرح برتاجاسکتا ہے، اور یہی تو قرآن مجید کے نزول کا منشا بھی ہے۔
یہاں پر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت موسیؑ کو مکمل توریت کتاب تختیوں کی شکل میں ایک ساتھ دے دی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قلب پر انجیل کا نزول بھی ایک ساتھ ہوا تھا، لیکن قرآن مجید کو اللہ عزوجل نے ۲۳؍سال کے عرصے میں نازل کیا، جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی قرآن کی آیتیں نازل ہوتی رہیں۔ اس لئے کہ اللہ کے رسول کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ کو جو مسائل پیش آرہے تھے، قرآن مجید میں اللہ عزوجل ان کا حل نازل کررہا تھا اور اس ترتیب وار نزول میں امت محمدیہ کے لئے صاف پیغام تھا کہ ان کو بھی زندگی میں جو ں جوں مسائل پیش آئیں گے، اللہ کا کلام ان کی رہنمائی کرتا رہےگا، ان کی رہبری کرتا رہے گا اور ان کے مسائل کا حل بتاتا رہے گا۔
چند سال قبل ایک سیاسی لیڈر نے غیر متوقع طور پر ایک بیان جاری کیا تھا کہ ’حکومت کو چاہئے کہ زانی کو وہ سزا دے جو اسلام میں ہے۔ یعنی رجم۔ ‘ان کا یہ بیان زنا بالجبرکے کسی واقعہ کے پس منظر میں آیا تھا۔ ہمیں سیاسی بیان سے کوئی دلچسپی نہیں مگر یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ قرآن مجیدنے انسانی مشکلات کےجو حل بتلائے ہیں، ان کا اعتراف دنیا کو کرنا ہی پڑے گا۔
قرآن مجید کس طرح مشکل مسائل کا آسان حل بتلاتا ہے اس کی ایک اور مثال دیکھتے ہیں۔ مثلا ً آج کےد ور کا ایک نہایت اہم موضوع انسانی شخصیت کا ارتقاء ہے۔ انسان کو زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ہزار راستے سجھائے جارہے ہیں، مثالیں دی جارہی ہیں اور اس کامیابی کے حصول کے لئے مختلف مثالوں اور طریقوں کے ذریعہ انسان کو جوش دلایاجارہا ہے۔ لیکن ان سب کے برخلاف قرآن مجید میں صرف تین الفاظ پر مشتمل ایک آیت ہے، جو کامیابی کا راستہ بالکل دو اور دو چار کی طرح واضح کردیتی ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’بیشک اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے کامیابی ہے۔ ‘‘(سورہ نبا:۳۱) اب کامیابی کے پیچھے بھاگتی دوڑتی انسانیت کو مسئلے کا حل صرف تین الفاظ میں بتلادیا گیا کہ صحیح معنوں میں اپنے خالق ومالک سے ڈرو، کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔
یہ ایک نہیں قرآن مجید کی ہر ہر آیت انسان کی اسی طرح انگلی پکڑ کر اسے کامیابی کا راستہ بتلاتی ہے، اس کی رہبری کرتی ہے کہ کس طرح ایک کامیاب زندگی گزاری جاسکتی ہے، اور کس طرح آخرت کی ابدی زندگی میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کی چند مثالیں دیکھتے ہیں : انسان جب ماضی کی جانب دیکھ کرغم کے آنسو بہاتا ہے، اپنی ادھوری تمناؤں پر ماتم کرتے ہوئے یہ کہتا ہے:
ائے گردشِ ایام مجھے رنج بہت ہے
کچھ خواب تھے ایسے جو بکھرنے کے نہیں تھے
قرآن مجید کہتا ہے:’’تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ، اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں۔ ‘‘ (سورہ حدید:۲۳)
جب انسان زندگی کے کسی مقام پر خود کو یکا وتنہا محسوس کرتا ہے، قرآن مجید اس کاحوصلہ بڑھا تا ہے : ’’غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ‘‘ (سورہ توبہ: ۴۰)جب انسان زندگی میں کسی مقصد میں ناکام ہوتا ہے، تو قرآن اس کو بتلاتا ہے: ’’ اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔ ‘‘ (سورہ تکویر:۲۹)
جب انسان کسی قسم کے نقصان سے دوچار ہوتا ہے تو قرآن اس کی ڈھار س بندھاتے ہوئے انسان کو آگاہ کرتا ہے کہ اللہ کی جانب سے آزمائش کے طور پر تم کو جان میں، مال میں، پھلوں وغیرہ میں کچھ نقصان پہنچیں گے ضرور، لیکن صبر کرنے والوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے۔ اسی طرح جب انسان خود کی زندگی کے مقصد کے تئیں سوچتا ہے، اس کا ہدف طے کرنا چاہتا ہے تو قرآن اس پر واضح کردیتا ہے کہ خالق کائنات نے یہ اعلان کردیا ہے: ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو فقط میری عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ‘‘ (سورہ الذاریات: ۵۶)
جب انسان کا دل دنیا اور دنیا والوں کی مکاریوں کی وجہ سے ٹوٹ جاتا ہے، تو قرآن اس کے سامنے یہ حقیقت بیان کردیتا ہے:’’ دنیاوی زندگی سوائے دھوکے کے سامان کے کچھ بھی نہیں۔ ‘‘ (سورہ حدید:۲۰)
یہ توصرف چند مثالیں ہیں ورنہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس کو قرآن نے تشنہ چھوڑا ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہم قرآن مجید کو چھوڑ بیٹھے ہیں اس لئے ہماری زندگی کی کشتی مسائل کے سمندر میں مسلسل ہچکولے کھارہی ہے۔ ہم نے قرآن سے دور کرکے خود کو اس کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے جس کا روز قیامت کا نقشہ قرآن مجید نے ان الفاظ میں کھینچا ہے: ’’اور (اس روز) رسولؐ کہیں گے: یار ب میری قوم اس قرآن کو بالکل چھوڑ بیٹھی تھی۔ ‘‘ (الفرقان: ۳۰)
آج ہمارے گھر میں کامیابی کی یہ کنجی جزدان میں لپیٹی ہوئی رکھی ہے، لیکن ہم ہیں کہ دنیا میں اپنے مسائل حل کرنے کےلئے در بدر بھٹک رہے ہیں۔ اور ہمیں نہ اپنی زندگی کے مسائل کے حل مل رہے ہیں، نہ اخروی زندگی کے۔