Inquilab Logo Happiest Places to Work

یہ خیال رہے کہ ہمیں درسگاہوں کو فرقہ پرستوں کی تجربہ گاہ بننے نہیں دینا ہے

Updated: May 10, 2026, 9:59 PM IST | Mubarak Kapdi | Mumbai

اب ہماری قوم کی بدبختی یہ ہے کہ ہر دَور میں ہمارے درمیان ایک ٹولہ ہمیشہ تیار رہا ہے جو چند ٹکڑوں، کچھ مہربانی، کوئی چیئرمین شپ اور کوئی ممبر شپ جیسے مراعات وغیرہ کیلئے سرکاری تاویلات کیلئے جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

یہ ۵؍ ہزار برسوں کے ندیدے ہیں۔ عدلیہ اور سرکاری ایجنسیوں کو ساتھ لے کر ایک بھیانک تاریخ لکھنے میں کوشاں ہیں۔ ایسی صورت میں بھی ہم بالکل پُر اُمّیدہیں کہ ملک بھر کے سمجھ دار طبقے کو ساتھ لے کر ہم رواداری اور انصاف کی نئی تاریخ مرتّب کر سکتے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے بنگال زعفرانی ہوگیا، لاکھوں ووٹرس کو اُن کے سب سے بڑے جمہوری حق سے محروم کر دیا گیا اور عدالتعظمیٰ نے اُن شہریوں کو بڑا ہی غیر ذمہ دار مشورہ دیا کہ وہ آئندہ پھر کبھی ووٹ دے دیں۔ اس اندھیارے میں بھی ہم اپنی قوم کو مشورہ یہی دیں گے کہ وہ (الف) صبر کریں (ب ) حکمت سے کام لیں (ج) مشتعل نہ ہو ں اور (د) خواہ کتنی ہی مشکل آن پڑے، اپنی حکمتِ عملی پر ڈٹے رہیں۔ 
فرقہ پرستوں کی سب سے بڑی تجربہ گا ہ ہمیشہ ہی سے درسگاہیں رہی ہیں اور نصاب میں زہر گھولنا ان کا پہلا ہدف ہے۔ اس میں وہ حد درجہ اندھے ہوئے جا رہے ہیں۔ ہمیں اُن کے حق میں دعا کرنی ہے کہ اللہ اُنہیں ہدایت دے۔ 
مُلک کے موجودہ زہریلے ماحول میں اب تعلیمی کیمپس میں مسلمانوں کی دلآزاری کیلئے جو چیزیں لائی جائیں گی، ہمیں ان سب کا علم ہونا چاہئے، اُن میں سے ایک ہے: ’یوگا‘۔ یوگا ایک سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب ہے متحد کرنا، یکجا کرنا۔ اس کا ذکر اُپنشد اور اَتھر وید میں ملتا ہے۔ بھگوت گیتا میں اس کا ذکر درجنوں جگہ پر دکھائی دیتا ہے۔ آگے چل کر رِشی مُنیوں نے اس کی کئی قسمیں بتائیں جیسے چند یوگا، بھگتی یوگاکِریایوگا، کرم یوگا اور دھیان یوگاوغیرہ۔ تاریخ کے صفحات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ زمانۂ قدیم ہی سے یوگا، ہندو دھرم کی عبادت، ریاضت، دھیان وگیان کا ایک طریقہ رہا ہے لہٰذا جو یہ کہا جارہا ہے کہ یوگا صرف ایک ورزش ہے، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اگر یوگا کو فیزو تھیراپی کے طور پر پیش کیا جاتا تو اسے دوسری قو میں قبول بھی کرتیں مگر یہ سنگھ پریوار کے ’گھر واپسی‘ وغیرہ پروگرام کا ایک حصّہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بنگال میں اسمبلی الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی آئے جمہوریت بری طرح شرمسار ہورہی ہے

ہر انسان کی فطرت میں یہ خواہش ہمیشہ رہتی ہے کہ وہ نجات حاصل کرے اور اُس کیلئے وہ ہمیشہ مختلف طریقے اپناتا رہا ہے۔ انسان جتنا ڈسٹرب رہتا ہے وہ اُتنے طریقوں کی جانب راغب ہوتا رہتا ہے لہٰذا مغربی ممالک میں بھی مکمل منفرد سوسائٹی بابائوں وغیرہ سے متاثرہوتی رہتی ہے لہٰذا مغرب میں بھی اس شارٹ کٹ کی نجات کا بڑا بول بالا رہا۔ یوگا وغیرہ قسم کے نام نہاد نجات کے طریقوں کی قلعی عوام کے سامنے اُس وقت اُترجاتی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ آدھے سے زیادہ نام نہاد یوگی اپنے گھناؤنے اعمال کردار کی وجہ سے جیل کی ہواکھا رہے ہیں۔ 
اب ہماری قوم کی بدبختی یہ ہے کہ ہر دَور میں ہمارے درمیان ایک ٹولہ ہمیشہ تیار رہا ہے جو چند ٹکڑوں، کچھ مہربانی، کوئی چیئرمین شپ اور کوئی ممبر شپ جیسے مراعات وغیرہ کیلئے سرکاری تاویلات کیلئے جواز پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہمیں اس بات کی امید کرنی چاہئے کہ اس طرح کے افراد یوگا کی حمایت میں بیانات دیں گے اور یوگا کو نماز یا نماز کویوگا کے مساوی عبادت تک کہیں گے۔ اس ٹولے سے ہم خوب خوب بحث کر سکتے ہیں البتہ صرف چند سوالات پر اکتفا کر لیتے ہیں : (۱)کیا واقعی وہ نماز پڑھتے ہیں ؟ (۲) نماز کووہ ایک ورزش سمجھ کر پڑھتے ہیں ؟ (۳) اُنہیں اس بات کا احساس ہے کہ پچھلی قوموں کے پاس عبادت کے کوئی طریقے یا ذرائع رہے ہوں گے البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری دین کے ذریعے نماز، روزہ اور حج وغیرہ کی جو عبادتیں بندوں کی دیں وہ قطعی، آخری اور بالکل فائنل ہیں لہٰذا کوئی بھی عبادت اس آخری دین کی عبادتوں جیسی ہیں یہ سوچنا بھی غلط ہے۔ (۴) کیاوہ نہیں سمجھتے کہ نماز، اللہ واحد کے سامنے اپنے آپ کو سپرد کرنے کا نام ہے؟ اُس میں ہمیں سورج، چاند، آگ یا پانی وغیرہ کی عظمت کا اظہار نہیں کرناہے بلکہ صرف اور صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی عظمت کا اعتراف کرنا ہے۔ (۵) ان سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ آخری دین، آخری کتاب اور آخری طریقۂ عبادات ہمارے پاس آنے کے بعد بھی ہمیں دوسری عبادتوں کے طریقے قبول کرنے کی کیا مجبوری ہے؟ 
 تاریخ کو اپنے طرز پر پڑھانے کیلئے گزشتہ ۱۰؍ برسوں میں مرکز میں اور بی جے پی سرکار والی ریاستوں میں کیا کیا ہو رہا ہے سُن لیجئے: اب یہ سب مغربی بنگال میں بھی ہوگا اور پھر اِس صورت میں جنوب کی دو پڑھے لکھے افراد کی ریاستیں کیرلا اور تامل ناڈو کب تک خیر منائیں گی؟
(۱) سنگھ پریواری حکومت نے ایک بڑی ہی طاقتور ’بھارتیہ اتہاس سنکلن سمیتی‘ بنائی ہے جس میں سنگھ پریوار ذہنیت کے حامل لگ بھگ ۴۰۰؍ افراد کو ملک بھر سے منتخب کیا ہے اور ہر ایک کو ملک کا ایک ایک ضلع دیا گیا ہے کہ وہ وہاں ایک ایک ضمنی کمیٹی بنائے اور اُس ضلع کی تاریخ سنگھ پریوار کی عینک لگا کر لکھے۔ 
(۲) وزرائے اعلیٰ اور گورنر کے علاوہ اب یہ بھی کوشش ہورہی ہے کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور سینٹ ممبران بھی آرایس ایس کے پر چارک ہی ہوں۔ 
(۳) انڈین کونسل آف ہسٹرار یکل ریسرچ جیسے اہم ادارے کے سارے اراکین وشو ہندو پریشد سے وابستہ رہے ہیں اور وہ تاریخ پر’ تحقیق‘ کرنے میں مصروف ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا وزیراعظم میڈیا کی چوتھے ستون کی حیثیت فراموش کرچکے ہیں؟

(۴) انڈین انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹڈیز میں آرایس ایس کی ذیلی تنظیم وید دویا پرتشٹھان کے ممبران کو شامل کیا گیا ہے۔ 
(۵) انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن کے تمام اراکین اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسے انتہائی اہم اِدارہ کے سکریٹری کیلئے بھی آرایس ایس ہی کے پر چارکوں کا ہی انتخاب ہوا ہے۔ 
(۶)بی جے پی کی سرکار والی حکومتیں خصوصاً گجرات و راجستھان میں جو زہریلی تاریخ پڑھائی جارہی ہے، وہی تاریخ پورے ملک میں پڑھانے کی تیاری ہو چکی ہے۔ 
(۷) ان ریاستوں میں تاریخ کی کتابوں میں یہ پڑھایا جا رہا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ہے۔ عرب ڈاکو تھے اور لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کیلئے یہاں آئے تھے ( کتاب: اتہاس گا رہا ہے )
(۸) سنگھ پریواری تاریخ میں یہ پڑھایا جا رہا ہے اور ملکی سطح پر یہ پڑھایا جاے گا کہ موریہ اور گپت دور ہی اس ملک کا سب سے سنہرا دَور تھا اور ہندوستان کی غلامی کا دَور انگریزوں کے ساتھ نہیں بلکہ مسلم دَور کے ساتھ شروع ہوتا ہے یعنی مسلم حکمرانوں کو حملہ آورکے طور پر پیش کیا جائے گا۔ 
(۹ ) مغل دَور کومغل بمقابلہ مراٹھا اور راجپوت بمقابلہ مغل کے طور پر پیش کر کے معصوم ذہنوں کو آلودہ کیا جائے گا۔ 
(۱۰) آر ایس ایس کی تنظیم ودّیا بھارتی کی۲۰؍ ہزار سے زائد اسکولیں اورششو مندر ہیں جن میں مالا، زعفرانی کپڑے اور تلک ان سب کو ہندوستانی ہونے کی نشانیاں بتایا گیا ہے۔ (کتاب : گورو گا تھا، ص: ۱۳)
(۱۱) سومیت سرکار، ٹی وی سبرامنیم، رومیلا تھا پر، آر ایس شرما اور بپن چندر جیسے سیکولر اور معتدل مورخین کی کتابوں کو یونیورسٹی سے ہٹانے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ 
(۱۲) گوروگا تھا نامی تاریخ کی کتاب میں مسلمانوں اور عیسائیوں کوغیر ملکی کہاگیا ہے اور یہی کتاب پورے ملک میں پڑھائے جانے کا منصوبہ تیار ہو چکا ہے۔ 
ہریانہ، دہلی، بہار اور بنگال کے الیکشن میں مبینہ دھاندلیوں کے بعد اکثر لوگ انجانے ڈر و خوب کا شکار ہیں۔ سیاست داں اب اس کا حل خود پتہ کرلیں البتہ تعلیمی محاذ پر ہمیں سمجھوتہ نہیں کرنا ہے، جمہوری طریقوں سے احتجاج درج کرانا ہے۔ کچھ عرصہ انتظار کرنا ہوگا مگر تعلیمی نظام کو تباہ ہونے سے اب بھی ہم بچا سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK