بنگال میں جس طرح بھوانی پور میں ممتا بنرجی ہاری ہیں، اس سے ۲۰۲۲ء کے رامپور کے انتخابات کی یاد تازہ ہوگئی۔ رامپور کے ۲۰۲۲ء کے اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک پہنچنے سے روکا گیا تھا۔
بھوانی پور اسمبلی حلقے میں اپنے حامیوں میں گھری ممتا بنرجی.... ان کے حامیوں کو انتخابی نتائج پر یقین ہی نہیں آیا۔ تصویر: آئی این این
ایس آئی آر میں۹۰؍ لاکھ ناموں کے کٹنے، ۲۷؍ لاکھ ووٹرس کی ’’منطقی تضاد ‘‘ کے نام پر حق رائے دہی سے محروم ہونے اور اس محرومی پر سپریم کورٹ کی مہر کے بعد مرکزی نیم فوجی دستوں کے۳؍ لاکھ سے زائدجوانوں کی موجودگی میں یعنی سنگینوں کے سائے میں منعقدہ الیکشن میں بالآخر بی جےپی نے مغربی بنگال کا قلعہ فتح کرلیا۔ وہ ریاست جہاں ۲۰۱۱ء میں اس کا ایک بھی ایم ایل اے نہیں تھا، ۲۰۲۶ء میں اس نے۲۰۷؍ سیٹوں کے ساتھ واضح اکثریت والی اپنی پہلی حکومت بنا لی ہے۔
مغربی بنگال ملک کی ۲۲؍ ویں ریاست ہے جہاں بی جے پی اس وقت اقتدار میں ہے۔ ۲۰۱۴ء میں جب مودی لہر چل اپنے عروج پر تھی اور لوک سبھا الیکشن میں بی جےپی نے تنہا اپنے دم پر ۲۸۲؍ سیٹوں کی غیر معمولی کامیابی حاصل کرکے تاریخ رقم کر دی تھی، اس وقت بھی ریاستوں میں اسے ایسی کامیابی نصیب نہیں ہورہی تھی جیسی کامیابی ۲۰۲۴ء کے الیکشن کےبعد اسے مل رہی ہے۔ مہاراشٹر کے اسمبلی الیکشن سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ بنگال تک دراز ہو چکاہے۔ ۲۰۲۴ء میں ۴۰۰؍ پار کے نعرہ کے برخلاف زعفرانی پارٹی جب ۲۴۰؍ سیٹوں پر سمٹ گئی تو ایسا لگا کہ اب اپوزیشن کیلئے بھی کچھ امکانات پیدا ہوں گے۔ پہلا امتحان مہاراشٹر میں تھا جہاں نومبر میں الیکشن ہونے تھے اور جہاں اپریل -مئی میں ہونے والے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئےیقین کےساتھ کہا جارہاتھا کہ اس کا ریاستی اسمبلی میں بر سر اقتدار آنا محال نہیں تو آسان بھی نہیں مگر انتخابی نتائج نے سب کو چونکا دیا۔ چونکانے کا یہ سلسلہ جو مہاراشٹر سے شروع ہواتھا، بنگال تک آتے آتے کچھ یوں معمول بن گیا ہے کہ اب کوئی چونکنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ نئے ہندوستان میں یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اپوزیشن ’حکومت مخالف لہر‘ کی وجہ سے الیکشن ہار جاتا ہے مگر بی جےپی اگر اقتدار میں ہوتو وہ ’اقتدار حامی لہر‘ کے نتیجے میں جیت جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے آسام جیت لیا اورٹی ایم سی بنگال ہار گئی۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال: ایس آئی آرمیں ہٹائے گئے ناموں کے کچھ حیرت انگیز ’منطقی تضاد‘
مغربی بنگال میں جس طرح بھوانی پور میں ممتا بنرجی ہاری ہیں، اس سے ۲۰۲۲ء کے رامپور کے انتخابات کی یاد تازہ ہوگئی۔ رامپور کے ۲۰۲۲ء کے ضمنی انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر یہ الزامات سامنے آئے تھے کہ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹروں کو پولنگ بوتھ تک پہنچنے سے روکا گیا تھا۔ ایسے کئی ویڈیوز سامنے آئے تھے جنہوں نے پولیس کے رول پر سنگین سوالات کھڑے کئے تھے۔ اُس وقت بہت ساری میڈیا رپورٹس، سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں، ویڈیوز اور مقامی افراد کے بیانات میں پولیس پرمسلم ووٹروں کو ووٹ دینے سے روکنے کے کئی معاملات سامنے آئے تھے۔
مسلم علاقوں میں غیر معمولی طور پر کم ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ سماج وادی پارٹی کےلیڈروں نے دعویٰ کیا کہ بعض بوتھوں پر جہاں سیکڑوں یا ہزاروں ووٹر تھے وہاں صرف چند ووٹ ڈالے گئے۔ ایک رپورٹ میں اعظم خان کے حوالے سے کہا گیا کہ ایک مسلم اکثریتی بوتھ پر۲۲؍سو ووٹروں میں صرف ایک ووٹ پڑا۔ متعدد مسلم ووٹرس نے آن کیمرہ شکایت کی کہ پولیس نے انہیں پولنگ اسٹیشن تک جانے سے روکا۔ بعض خواتین نے ویڈیوز میں کہا کہ انہیں لاٹھی سے مارا گیا اور ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ کچھ ویڈیوز میں خواتین اور بزرگ افراد نے بتایا کہ پولیس نے ان کی ووٹر سلپس پھاڑ دیں اور انہیں پولنگ بوتھ سے واپس بھیج دیا۔ سپریم کورٹ میں درخواست داخل کرنے والے سلیمان محمد خان نے عدالت میں بتایا کہ مسلم علاقوں میں پولیس نے’ہزاروں ووٹرس‘ کو ووٹ ڈالنے سے روکا اور بعض لوگوں کو گھروں میں محدود رکھا گیا۔ مجموعی طورپر پولیس پر طاقت کے استعمال کا الزام لگایا اور انتخابی عمل کے آزادانہ ہونے پر سوال کھڑے ہوئے۔ مسلم محلوں میں بھاری پولیس فورس تعینات کی گئی، عوام میں خوف پیدا کیا گیا اور رامپور کایہ ضمنی الیکشن ہندوستان کی انتخابی سیاست میں ایک اہم مگر منفی مثال بن گیا جہاں اپوزیشن نے ریاستی مشینری کے استعمال اور مسلم ووٹروں کو دبانے کا الزام لگایا۔
یہ بھی پڑھئے: اس بار بیشتر اخبارات نے اسرائیلی جارحیت، خواتین ریزرویشن اور مودی کو موضوع بنایا
اب ذرا ممتا بنرجی کی سیٹ بھوانی پور پر نظر ڈالیں۔ ممتا بنرجی ۱۵؍ ہزار ووٹوں سے یہ الیکشن ہار گئیں مگر اس سے قبل ایس آئی آر میں یہاں ۵۱؍ ہزار ووٹروں کے نام کٹ گئے تھے۔ بھوانی پور میں اقلیتی ووٹ کم وبیش ۲۰؍ سے ۲۱؍ فیصد تھے۔ اسی طرح مغربی بنگال کے مسلم اکثریتی ضلع مرشد آباد پر نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ یہاں ۷۰؍ فیصد مسلم آبادی ہے، بی جےپی نے موجودہ الیکشن میں یہاں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ یہاں کی ۲۲؍ سیٹوں میں سے ۸؍ مرشد آباد، بہرام پور، جہانگیر پور، نابا گرام، کانڈی، بروان، بیل ڈانگا اور کھرگام بی جےپی کے کھاتے میں آئی ہیں۔ ۲۰۲۱ء میں بی جےپی نے یہاں صرف ۲؍ سیٹیں جیتی تھیں۔ یہ ضلع ایس آئی آر سے بری طرح متاثر ہونے والے اضلاع میں سر فہرست ہے۔ یہاں ۱۱؍ لاکھ ووٹرس کو ’’زیر سماعت ‘‘قرار دیاگیا جن میں سے ۴؍ لاکھ ۵۵؍ ہزار ووٹنگ کے حق کیلئے ’’نااہل ‘‘ قرار پائے۔ اوسطاً ۵۰؍ سے ۶۰؍ ہزار ووٹ ایک ایک اسمبلی حلقے میں کٹ گئے۔
یہی وجہ ہے کہ بنگال کے انتخابی نتائج سوالات کے گھیرے میں ہیں۔ ممتا بنرجی اگر یہ الزام عائد کررہی ہیں کہ ۱۰۰؍ سے زیادہ سیٹیں بی جےپی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر لوٹ لی ہیں توعام لوگوں کی بڑی تعداد اسے سرے سے خارج کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مغربی بنگال الیکشن میں جیت ہار کسی کی بھی ہوئی ہو، اس الیکشن میں الیکشن کمیشن کے رویے اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرز عمل نے ملک میں ہونے والے انتخابات کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس درد کو محبوبہ مفتی کے اس ٹویٹ سے سمجھا جاسکتاہے کہ’’ہندوستان کبھی آزانہ اور منصفانہ الیکشن کیلئے دنیا میں ماڈل کے طورپر پیش کیا جاتا تھا، خاص طور پر ٹی این سیشن کے بعد جنہوں نے الیکشن کمیشن کو جمہوریت کے محافظ اور بے باک ادارہ میں تبدیل کردیا تھا مگر آج اسی ادارہ پر انتخابی عمل کومرکزی سیکوریٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر برباد کردینے کا الزام لگ رہاہے۔ یہی کیسی تنزلی ہے، ہم وشو گرو تو نہیں بن سکے مگر انتخابات میں دھاندلی کے فن میں ماہر ضرور ہوگئے ہیں۔ مغربی بنگال اس بدترین حقیقت کی تازہ مثال ہے۔ ‘‘
جمہوریت میں اصل طاقت عوام کے ووٹ کی ہوتی ہے۔ یہی ووٹ حکومتیں بناتا اور گراتا ہے اور یہی جمہوری نظام کو عوامی اعتماد فراہم کرتا ہے لیکن جب انتخابی عمل عوام کے اعتماد سے محروم ہوجائے اوراس کے نتائج شک کے گھیرے میں آجائیں تو یہ جمہوریت کیلئے فال بد ہے۔ اتر پردیش کے رامپور سےمغربی بنگال کے بھوانی پور تک کے واقعات اسی تشویش کو نمایاں کرتے ہیں۔ انہوں نے اس احساس کو تقویت دی کہ انتخابی عمل صرف ای وی ایم تک محدود نہیں بلکہ انتظامیہ، پولیس، ووٹر لسٹ، پیسوں کی ریل پیل اورمرکز کی طاقت سب اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔