انتخابات بی جے پی کیلئے کھیل بن چکے ہیں اوروہ یہ جانتی ہے اس کھیل کو کس طرح جیتنا ہے، اپوزیشن کے پاس یہ صلاحیت نہیں۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 3:33 PM IST | Arkam Noorul Hasan | Mumbai
انتخابات بی جے پی کیلئے کھیل بن چکے ہیں اوروہ یہ جانتی ہے اس کھیل کو کس طرح جیتنا ہے، اپوزیشن کے پاس یہ صلاحیت نہیں۔
مغربی بنگال میں بی جےپی کی جیت شانداررہی ۔ ساری قیاس آرائیوں، سارے دعوؤں، سبھی امکانات اور سبھی مساوات کوغلط ثابت کرتے ہوئے زعفرانی پارٹی نے یہ جیت حاصل کی ہے۔ اس کے پس پشت کئی وجوہات موضوع بحث بنی ہوئی ہیں مگرسب سے اہم وجہ اس پارٹی کا’اعتماد‘ ہے جو۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں ناقص کارکردگی کے باوجودکہیں سے کم نہیں ہوا۔ لوک سبھا انتخابات میں بی جےپی کی ۶۳؍ سیٹیں کم ہوئی تھیں۔ باوجود اس کے، اس کے بعد ہونے والے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں اس کی کارکردگی ایسی رہی جیسےلوک سبھا انتخابات میں کچھ ہوا ہی نہ ہواورگزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے اس نے ۲۷؍ سیٹیں زیادہ جیت لیں۔ عام انتخابات کے بعدسےزیادہ ترریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جےپی اوراس کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد کو جیت حاصل ہوئی ہےجن میں مہاراشٹرکے علاوہ آندھرا پردیش(ٹی ڈی پی جو این ڈی اے کا حصہ ہے )، اروناچل پردیش اور بہار خاص طورپر شامل ہیں ۔ اب ان میں آسام اورمغربی بنگال جیسی ریاستیں بھی شامل ہوچکی ہیں۔ اب آئندہ سال اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے جن کی تیاری پارٹی نے شروع کرد ی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا وزیراعظم میڈیا کی چوتھے ستون کی حیثیت فراموش کرچکے ہیں؟
اپنی ساری ایسی پالیسیوں اورطرز سیاست سے قطع نظر، جس پرتنقید کی جاسکتی ہو اور تنقید کی جاتی رہی ہے، بی جےپی خود کو ایک ایسی پارٹی کی شناخت دلانے میں کامیاب رہی ہےجسےانتخابات میں ہرانا اب آسان نہیں رہ گیا ہے۔ یہ پارٹی، آتی ہے، دیکھتی ہے اورفتح کرکے چلی جاتی ہے۔ وزیر اعظم مودی کے مطابق گنگوتری (اترا کھنڈ )سےگنگا ساگر(مغربی بنگال) تک کنول کھل چکا ہے۔ مغربی بنگال اورآسام میں حالیہ فتوحات کے بعدسوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ایک دلچسپ پوسٹ میں بتایا گیاکہ بی جےپی اوراس کی قیادت میں این ڈی اے اتحادملک کی ۷۰؍ فیصد ریاستوں کا اقتدار حاصل کرچکا ہے۔ یہیں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا ملک کے عوام کی اکثریت بی جےپی اور اس کی حکومت کو قبول کرچکی ہے، یہاں قبول کرنے سے مراد یہ ہےکہ کیا وہ طےکرچکے ہیں کہ انہیں اقتدار میں بی جےپی ہی چاہئےیا وہ اتحاداورپارٹی جسے بی جےپی کی حمایت حاصل ہو؟ حالانکہ جنوبی ہند میں ابھی یہ صورتحال نہیں ہےلیکن بنگال کے بعد اب یہ بات بھی کہی جارہی ہےکہ بی جے پی اب جنوبی ہند میں اپنی سیاست کو وسعت دے گی۔
بی جے پی توتمل ناڈو میں تھلاپتی وجے کی پارٹی ’ٹی وی کے ‘کی جیت سے بھی اعتماد حاصل کرسکتی ہے یا کم از کم یہ تو ظاہر کرسکتی ہےکہ اسے اس جیت سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ ٹی وی کے کو بہت بڑی جیت حاصل ہوئی ہے اور اس جیت نے دہلی میں عام آدمی پارٹی کی جیت یاددلادی۔ بہر حال آج عام آدمی پارٹی کس حال میں ہے، یہ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن متبادل سیاست کے علمبردار امید کریں گے کہ ’ ٹی وی کے‘ کی حالت عام آدم پارٹی جیسی نہ ہو اور وہ سیاست میں ایک مضبوط متبادل کی حیثیت سے آگے بڑھتی رہے۔ لیکن جب بی جے پی آئندہ برسوں میں ہندی بیلٹ سے نیچے ا ترکر جنوب کی طرف دیکھےگی اوراس پر ویسی توجہ دے گی جیسی وہ اب تک شمالی ہند پر دیتی آئی ہےتووہ یہاں لہربہ آسانی اپنے حق میں کرسکتی ہےکیونکہ عوام اب تبدیلی چاہ رہے ہیں اور چھوٹی موٹی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسی تبدیلی جوسیاست کا محورومرکزہی بدل کررکھ دے۔ کہا جاسکتا ہےکہ اگر تمل ناڈو میں ’ٹی وی کے‘ نہ ہوتی تو’بی جے پی‘ ہوتی(اگروہاں اس کی موجودگی ہوتی)۔ عوا م میں اسٹالن حکومت کے خلاف لہر تھی اور اس بار ان کے سامنے ’ٹی وی کے‘ ایک فوری متبادل کے طور پرسامنے آگئی لیکن بی جے پی وہ پارٹی ہے کوجو خودکو ہرسیاست اورہر حکومت کا مستقل متبادل بنا کر پیش کر رہی ہےاور اس میں اسے کامیابی بھی ملی ہے۔ کیرالا میں ابھی سی پی آئی اورکانگریس کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ بی جے پی جب اپنے پورے وسائل کے ساتھ جنوب میں جائے گی توعلاقائی پارٹیوں کیلئے اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگال میں اسمبلی الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی آئے جمہوریت بری طرح شرمسار ہورہی ہے
بی جے پی نے’ کانگریس مکت بھارت ‘کے عزم کے ساتھ خودکو ملک کی پارٹی ثابت کردیا ہے۔ یہ وہ واحد مضبوط نعرہ ہےجس کا اپوزیشن کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں ’چوکیدار چور ہے‘کا نعرہ کھڑا نہیں رہ سکے گا کیونکہ وہاں باقاعدہ ایک متبادل حکومت اور متبادل نظم کا اعلان کیاجارہا ہے اوریہاں بس ایک لیڈر نشانےپر ہے۔ اس کے مقابلے میں ’ جوڑو جوڑو، بھارت جوڑو‘ اور ’محبت کی دکان‘ جیسے نعرے متاثر کن ہیں اوراس کے اثرات نظر بھی آتے ہیں۔ ایسے ہی نعروں پر اپوزیشن کو اپنے اعتماد کی عمارت کھڑی کرنی ہوگی اوراسےبی جے پی مخالف پارٹیوں کے اتحاد کی مٹی اور گارےسےمستحکم ومضبوط کرنا ہوگا۔ اب سیاست کا نقشہ اوررخ پوری طرح بدل چکا ہے۔ اب حکمت عملی کو اس جانب موڑنا ہوگا کہ عوامی لہر کو کس طرح اپنے حق میں کیاجائے۔ بی جے پی اس میں مہارت رکھتی ہےجبکہ اپوزیشن یہاں کمزور پڑ جاتا ہے۔
کسی بھی ریاست میں پولنگ کا دن آتے آتےماحول بی جے پی کے حق میں ہوچکا ہے جس کا اپوزیشن کو احساس نہیں ہوتا۔ پولنگ سے پہلےہی بی جے پی بازی مارلے جاتی ہے۔ ایساکیوں ہورہا ہے؟ ایسا کیوں ہورہا ہےکہ جہاں حکومت مخالف لہر ہے وہاں بھی بی جے پی متاثر کرنے میں کامیاب ہورہی ہےاور جہاں نہیں ہے وہاں بھی ؟ایسا کیوں ہےکہ اپوزیشن کےپاس قیادت کے ۱۰؍چہرے ہیں اوربی جے پی کے پاس ایک چہرہ ہی کافی ہورہا ہے؟یہ صرف اور صرف اعتماد کا کھیل ہے۔ بی جے پی کو پتہ ہے کہ اس کے اثرات کا دائرہ کہاں تک اورکس طرح دن بہ دن بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی کواندازہ ہےکہ اس کی فرقہ واریت پر مبنی سیاست کے نتائج کس طرح اس کے حق میں آئیں گے۔ بی جے پی اس بات سے واقف ہےکہ اپنی اسکیموں، منصوبوں اورپروجیکٹوں کے ذریعےعوام کو کس طرح اپنی طرف راغب کرنا ہے۔ بی جے پی کی نفرت پر مبنی اور منفی سیاست ایک طرف اور اس کا اعتماد ایک طرف۔ بی جے پی کیلئے انتخابات کسی میلے کی طرح ہیں، کسی جشن کی طرح ہیں۔ بی جے پی لیڈران جب کسی ریلی میں ہوتے ہیں تو وہ ریلی ان کیلئے میلہ بن جاتی ہے۔ جب وہ کسی پروجیکٹ کا افتتاح کررہے ہوتے ہیں تویہ ان کیلئے ایک جشن کا سماں ہوتا ہے۔ بی جےپی چیزوں کو گلیمرائز کرنا جانتی ہے۔ وہ یہ جانتی ہےکہ گھر گھر تک کس طرح پہنچنا ہےاورکس طرح لوگوں کو آمادہ کرنا ہے جب وہ پولنگ بوتھ پر پہنچیں توبٹن ’کمل ‘ کا ہی دبائیں۔ اس اعتماد کا مقابلہ کرنانا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔