Inquilab Logo Happiest Places to Work

تحریک آزادی اوراردو صحافت

Updated: August 15, 2020, 3:20 AM IST | Syed Akbar Zahid | Mumbai

تحریک آزادی میں اردو صحافت نے بھی موثر کردار اد ا کیا ہے۔ اردو کے صحیفہ نگاروں میں مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی باقر اردو کے پہلے صحافی تھے جنہیں پھانسی پر لٹکایا گیا۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 تحریک آزادی میں اردو صحافت نے بھی موثر کردار اد ا کیا ہے۔ اردو کے صحیفہ نگاروں میں مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی باقر اردو کے پہلے صحافی تھے جنہیں پھانسی پر لٹکایا گیا۔ ۱۸۵۷ء کے بعد شعلۂ طور، خیر خواہ خلق، اخبار العالم، قومی شعور، وغیرہ سیاسی بیداری کا ذریعہ بنے۔ بیسویں صدی میں ’زمیندار‘، ’الہلال‘ اور ’ہمدرد‘ نامی اخبارات نے عوام کے دلوں میں آزادی کی تڑپ پیدا کی۔ تحریک خلافت کے دوران ’ اخبار ِ خلافت‘ نے بھی ہندوستان کی آزادی میں نمایاں رول ادا کیا تھا۔ کلکتہ سے قاضی عبدالغفار کی ادارت میں ’اخبارِ جمہور‘جاری ہوا تھا جس نے انگریزی حکومت کو ہلاکررکھ دیا تھا۔ انکے علاوہ کئی نام ہیں ، جن میں شاہ عبدالعزیز ، ٹیپوسلطان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، مولانا حالی، علامہ اقبالؔ، جو ش ملیح آبادی، مولانا مودودی، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی جوہرؔ، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا عبیداللہ سندھی، حکیم اجمل خان، اشفاق اللہ خان شہید، سیف الدین کچلو، رحمت اللہ سیانی، مولانا حسین احمد مدنی، مخدوم محی الدین، ان حضرات کے علاوہ کئی غیر مسلم برادران وطن بھی ہیں جنہوں نے اردو زبان میں اخبارات نکال کرآزادی کیلئے آواز بلند کی۔ ہندوستان کا پہلا ہفتہ وار اردو اخبار ’فوجی اخبار‘ کے نام سے ۱۷۹۴ء میں سلطنتِ خداداد سے جاری ہوا جس کے بانی حضرت ٹیپوسلطان شہید ؒ تھے۔ ( سرفروشان وطن مصنف:سید رحمت علی ، صفحہ ۳۲) ’فوجی اخبار‘‘ میں فوجی خبروں کے علاوہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے مظالم کی رپورٹیں بھی شائع ہوتی تھیں ۔افسوس کہ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد اس اخبار کی تمام جلدیں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجوں نے نذر آتش کردیں ۔ غرض اردو صحافت نے مجاہدینِ آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ ہندوستان کا اولین اردو اخبار ’’جام جہاں نما‘‘ تھا جو کلکتہ سے شائع ہوتا تھا۔ اس کے بانی ہری ہر دتا تھے جو مشہور بنگالی صحافی تارا چند دتا کے بیٹے تھے۔ یہ اخبار ۱۸۲۲ء میں شائع ہوا۔۱۴؍جنوری۱۸۵۰ء کو منشی ہرسکھ رائے نے ہفتہ وار ’ کوہ ِ نور‘ شروع کیا۔ ۱۸۵۸ء میں من بیرکبیر الدین اردو کا پہلا روزنامہ ’اردو گائیڈ‘جاری ہوا۔ اسی سال ’روزنامہ پنجاب‘ لاہور سے شائع ہوا۔منشی نول کشور نے لکھنوء سے اسی سال ’اودھ اخبار‘ شائع کیا تھا۔یہ اخبار لکھنوء کا اولین اخبار تھا۔ ۱۸۵۳ءمیں ۳۵؍اخبارات و جرائد شائع ہوتے تھے۔ جنوبی ہند کا سب سے پہلا اردو اخبار ’جامع الاخبار ‘ کے نام سے ۱۸۴۱ء میں مدراس (چنئی) سے شائع ہوا ۔ مدراس کے اخبارا ت میں جامع الاخبار (مدیر سید رحمت اللہ) کے علاوہ اعظم الاخبار (ہفت روزہ، سن اجراء۱۸۴۸ء )، عمدۃ الاخبار (ہفت روزہ ۔۱۸۴۹ء)، مخزن الاخبار (۱۸۵۰ء )، تعلیم الاخبار (۱۸۵۱ء )، صبح صادق ( ۱۸۵۴ء) ، طلسم ِ حیرت (۱۸۵۶ء ) اور شمس الاخبار (۱۸۵۹ء ) کے نام کبھی فراموش نہیں کئے جاسکتے ۔اس کے بعد جو آخری اخبار انیسویں صدی کے اواخر میں شائع ہوا وہ ہفتہ روزہ ’آفتابِ دکن‘ تھا جو سید جلال الدین گھائل کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ گھائل نے وانمباڑی سے ۱۹۱۹ء میں ایک ماہنامہ ’پروانہ ‘ کے نام سے شروع کیا۔ ’پروانہ‘ سے قبل وانمباڑی سے ۱۹۰۶ء میں ’نصیر‘ نامی ایک ہفت روزہ شائع ہوتا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK