Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیرون ملک مقیم ہندوستانی کس طرح ۱۵؍ اگست مناتے ہیں؟ کیا جشن مناتے ہیں؟ پرچم لہراتے ہیں؟

Updated: August 15, 2026, 5:21 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

وطن کی محبت، وطن سے دور ہونے کے بعد مزید بڑھ جاتی ہے،یوم آزادی کی مناسبت سے انقلاب نے ہندوستان سے باہر رہنےوالوں سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ۱۵؍ اگست کو وہ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اور اس دن ان کی کیا مصروفیات رہتی ہیں، ملاحظہ کریں ان کے تاثرات۔

A scene from the August 15th celebrations at an office in Madinah Munawwarah. Picture: INN
مدینہ منورہ کے ایک دفتر میں ۱۵؍ اگست کے جشن کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
قطر:یہاں ۱۵؍ اگست سے چند روز قبل ہی ہندوستانی بستیوں میں یومِ آزادی کی گہماگہمی محسوس ہونے لگتی ہے
 
وطن عزیز سے دور دیارِ غیر میں رہتے ہوئے ۱۵؍ اگست محض ایک تاریخ نہیں رہتی، بلکہ دل میں چھپی وطن کی محبت کے ازسرِ نو بیدار ہونے کا نام بن جاتی ہے۔ اپنے ملک میں رہتے ہوئے اسکولوں، کالجوں اور گلی محلوں میں لہراتا ترنگا، ’جن گن من‘ کی گونج، رنگ برنگے غبارے اور مٹھائیوں کی خوشبو جو خوشی اور طمانیت دیتی تھی، وہ یادیں آج بھی دل کے کسی گوشے میں تازہ ہیں۔ گزشتہ دس سال سے قطر میں مقیم ہوں۔ یہاں ۱۵؍ اگست سے چند روز قبل ہی شاپنگ سینٹرز، دکانوں اور ہندوستانی بستیوں میں یومِ آزادی کی گہماگہمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ جگہ جگہ ہندوستانی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تاجر اور ملازمین پھلوں، سبزیوں اور مٹھائیوں کو ترنگے کے رنگوں میں سجاتے ہیں۔ گھروں میں بچے ترنگا لانے کی ضد کرتے ہیں، دیواریں قومی پرچم سے سجتی ہیں اور رنگین روشنیوں سے ترنگے کی شکلیں ابھرتی ہیں۔ 
قطرمیں ہندوستانی برادری کی تقریبات کا سب سے جذباتی لمحہ وہ ہوتا ہے جب ہزاروں میل دور ایک ساتھ قومی پرچم لہرایا جاتا ہے اور’جن گن من‘ کی آواز بلند ہوتی ہے۔ سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے اور آنکھیں بے اختیار نم۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہندوستان اور قطر کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ چند لمحوں کیلئےمٹ گیا ہو۔ 
اپنے بچوں کو ترنگا لہراتے دیکھ کر ایک اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ جو وطن ہم سے دور ہے، اس کی محبت ہماری نسلوں کے دلوں سے کبھی دور نہ ہو۔ پردیس میں رہتے ہوئے ہر ہندوستانی اپنے وطن کا غیر رسمی سفیر بن جاتا ہے۔ ہماری گفتگو، کردار، دیانت اور اخلاق سے ہندوستان کی پہچان وابستہ ہوتی ہے۔ اسلئے یومِ آزادی ہمیں صرف آزادی کی خوشی نہیں دیتا، بلکہ یہ عہد بھی دلاتا ہے کہ ہم جہاں رہیں، اپنے عمل سے اپنے وطن کا سر بلند رکھیں گے۔ 
ڈاکٹر ابو معاذ
( شعبہ لسانیات، وزارت داخلہ، قطر)
امریکہ : یہاں رہتے ہوئے بھی دل ہمیشہ ہندوستان کیلئے دھڑکتا ہے اور اپنوں سے جوڑے رکھتا ہے
 
اپنے وطن سے دور رہنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا، لیکن مٹی کی محبت ایک ایسی ڈور ہے جو انسان کو سات سمندر پار بھی اپنے ملک سے باندھے رکھتی ہے۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی دل ہمیشہ ہندوستان کیلئے دھڑکتا ہے۔ اپنی ثقافت، روایات اور جڑوں سے یہ گہرا لگاؤ تب اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے جب۱۵؍ اگست کا دن آتا ہے۔ یہ صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ اپنی پہچان پر فخر کرنے اور اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے کا ایک خوبصورت موقع ہے۔ امریکہ میں یہ جشن صرف گھروں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری کمیونٹی مل کر اسے ایک تہوار کی طرح مناتی ہے۔ 
سفارت خانوں میں تقریبات: واشنگٹن ڈی سی اور دیگر بڑے شہروں میں واقع قونصل خانوں میں باقاعدہ پرچم کشائی کی تقاریب ہوتی ہیں، جہاں قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے۔ 
 
 
کمیونٹی سینٹرز: مقامی ہندوستانی تنظیمیں ہالز اور پارکوں میں جمع ہو کر ترنگا لہراتی ہیں اور حب الوطنی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ 
انڈیا ڈے پریڈز: نیویارک اور شکاگو جیسے شہروں میں شاندار پریڈز نکالی جاتی ہیں، جن میں روایتی رقص (جیسے بھنگڑا اور کتھک) اور خوبصورت جھانکیاں شامل ہوتی ہیں۔ 
کھانوں کے اسٹالز: ان میلوں میں روایتی ہندوستانی کھانوں اور مٹھائیوں کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں، جو وطن کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ 
خاندانی اور نجی اجتماعات میں روایتی لباس: اس دن عام طور پر خاندان کے تمام لوگ نئے روایتی لباس پہنتے ہیں اور مل کر گھر پر کوئی خاص پکوان تیار کرتے ہیں۔ 
نسلوں کی منتقلی: بزرگ اپنے بچوں کو آزادی کی اہمیت اور ملک کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہیں، تاکہ نئی نسل بھی اپنے وطن سے جڑی رہے۔ 
وجیہہ الدین نذیر الدین خان
(طیارہ ساز کمپنی بوئنگ میں سینئر سولیوشن آرکیٹیکٹ اور اے آئی ایکسپرٹ، امریکہ)
دبئی:ہم یہاں اپنے ملک کے سفیر ہیں 
 
دیارِ غیر میں مقیم ہونے کے باوجود اپنے وطن سے محبت کی ڈور کبھی کمزور نہیں ہوتی۔ وطنِ عزیز میں گزاری ہوئی ۱۵؍ اگست کی صبحیں آج بھی میری یادوں کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ وہ اسکولوں میں قومی ترانے کی گونج، فضا میں لہراتے ہوئے ترنگے، جلیبیاں اور گلی محلوں میں حب الوطنی کے نغمے، یہ سب باتیں ایک ایسا جوش پیدا کرتی تھیں جو دن بھر چھایا رہتا تھا۔ جس سال کسی باضابطہ تقریب میں شرکت نہ بھی ہوتی، تب بھی دل میں ایک عجیب خوشی، فخر اور اپنائیت کا احساس رہتا تھا۔ 
اب جبکہ میں دیارِ غیر میں ہوں، ۱۵؍ اگست کا دن ایک الگ ہی کیفیت لے کر آتا ہے۔ یہاں کی روزمرہ زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہتی ہے، سڑکوں پر وہ چہل پہل اور وطن جیسی رونق نہیں ہوتی، لیکن دل میں اپنے ملک کی یادوں کا پرچم پوری شان سے لہراتا ہے۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے ہم صرف ایک فرد نہیں رہتے بلکہ اپنے ملک کے سفیر بن جاتے ہیں۔ اس دن یہ احساس اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہمارا اخلاق اور ہماری محنت ہمارے ملک کی نمائندگی کر رہی ہے۔ یومِ آزادی کے موقع پر دن کا آغاز اکثر صبح صبح وطن میں موجود اپنے گھر والوں اور دوستوں کو مبارکباد دینے سے ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لہراتے ترنگے اور مبارکباد کے پیغامات دیکھ کر دل بھر آتا ہے۔ اگر کام کا دن ہو تو میں اپنے لباس میں قومی پرچم کے رنگوں کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ خاموشی سے ہی سہی، اپنی پہچان اور خوشی کا اظہار کر سکوں۔ شام کو مقامی ہندوستانی برادری کی کسی تقریب یا آن لائن ویبنار میں شرکت کر کے دیگر اہل وطن کے ساتھ یہ خوشی بانٹتا ہوں۔ دیارِ غیر میں ۱۵؍ اگست صرف ایک جشن نہیں بلکہ اپنے وطن کی مٹی کو یاد کرنے، اس کی ترقی کیلئے دعا کرنے اور اس کی بہترین نمائندگی کا عزم دہرانے کا دن بن جاتا ہے۔ 
سعد شمیم خان (جنرل منیجر، رینبو انٹرنیشنل ایف جی سی او، دبئی)
مدینہ منورہ:اس دن کی اہمیت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے
 
وطن سے دوری انسان کو اپنے ملک کی قدر و محبت کا وہ احساس دلاتی ہے جسے شاید وطن میں رہتے ہوئے پوری طرح محسوس نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ کئی برسوں سے بیرونِ ملک، سعودی عرب میں مقیم ہوں، لیکن ۱۵؍ اگست کا دن آج بھی میرے لئے صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ میری شناخت، میری یادوں اور اپنے وطن انڈیا سے جڑے جذبات کا دن ہے۔ ہندوستان میں رہتے ہوئے یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت، ترنگے کی بہار، قومی ترانے کی آواز، دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ جشن اور ہر طرف نظر آنے والی خوشی اس دن کو خاص بنا دیتی تھی۔ اب جب میں بیرون ملک ہوں تو ۱۵؍ اگست کی کیفیت کچھ مختلف ضرور ہے، لیکن وطن سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے اس دن کی اہمیت اور بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ 
 
 
سعودی عرب میں رہتے ہوئے میں ہر سال اپنے آفس کے ہندوستانی ساتھیوں کے ساتھ مل کر ۱۵؍ اگست کا جشن مناتا ہوں۔ ہم مل کر ہندوستانی پرچم کے تئیں اپنے احترام کا اظہار کرتے ہیں، آزادی کی اہمیت کو یاد کرتے ہیں اور اپنے وطن کی ترقی، امن اور خوشحالی کیلئے نیک خواہشات پیش کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود اس موقع پر ہم سب کے دل ایک ہی جذبے سے جڑ جاتے ہیں۔ یہاں رہتے ہوئے اپنے وطن کی نمائندگی کرنا میرے لیے ایک اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ذریعے اپنے ملک کا مثبت تعارف پیش کروں۔ 
یومِ آزادی مجھے یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، جس کی قدر کرنا اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ میں جہاں بھی رہوں، میرے دل میں ہندوستان ہمیشہ بستا رہے گا ان شاء اللہ۔ میرا وطن، میری پہچان، میرا فخر انڈیا
شیخ ارباز آفتاب عالم
(پروجیکٹ مینجمنٹ انجینئر، مدینہ منورہ)
سعودی عرب: یومِ آزادی منانے کا انداز بدل گیا ہے
 
گزشتہ ساڑھے چار برس سے میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اور بحیثیت سینئر پلاننگ اینڈ کاسٹ کنٹرول انجینئر اپنے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ بیرون ملک رہتے ہوئے وطن سے دوری کا احساس ہمیشہ دل میں رہتا ہے، لیکن۱۵؍ اگست کا دن میرے لیے اس احساس کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ 
وطنِ عزیز میں رہتے ہوئے یومِ آزادی کا دن ایک الگ ہی جوش اور جذبے کے ساتھ گزرا کرتا تھا۔ خاص طور پر اپنے پیارے رفیع الدین فقیہ بوائز ہائی اسکول کے وہ دن آج بھی میری یادوں میں تازہ ہیں۔ ۱۵؍ اگست کی صبح سویرے اسکول کیلئے تیار ہونا، دوستوں کے ساتھ تقریب میں پہنچنا، ترنگا لہراتے دیکھنا، قومی ترانے کی آواز سننا اور آزادی کے جذبے سے سرشار ہوکر تقریب میں شریک ہونا، یہ سب یادیں آج بھی میرے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں۔ اسکول کے علاوہ اپنے آس پاس کی سوسائٹیوں اور مختلف مقامات پر ہونے والی تقریبات میں بھی ہم بڑے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کیا کرتے تھے۔ پردیس میں رہتے ہوئے اب یومِ آزادی منانے کا انداز ضرور بدل گیا ہے، لیکن وطن سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ۱۵؍ اگست کی صبح میں خاص طور پر اپنے وطن کو یاد کرتا ہوں۔ ہم دفتر میں اپنے ساتھیوں کیلئے مٹھائی لے کر جاتے ہیں اور تمام ساتھیوں، جن میں ہندوستانی کے ساتھ ہی پاکستانی، سعودی، مصری اور دیگرملکوں کے لوگ بھی ہوتے ہیں، مٹھائی بانٹ کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہندوستان کے یومِ آزادی کی خوشی بانٹنا میرے لیے ایک خوبصورت اور یادگار لمحہ ہوتا ہے۔ 
پردیس نے مجھ میں یہ احساس اور بھی گہرا کر دیا ہے کہ وطن صرف ایک ملک کا نام نہیں بلکہ ہماری یادوں، جذبات، پہچان اور دل کی وہ کیفیت ہے جس سے انسان چاہے جتنا بھی دور ہو جائے، دل سے کبھی دور نہیں ہو سکتا۔ 
محمد اعظم خان
( سینئر پلاننگ اینڈ کاسٹ کنٹرول انجینئر، سعودی عرب)
امریکہ:یہاں بھی ترنگے کی چمک برقرار ہے 
 
وطن سے دور رہنے کے بعد یومِ آزادی کی اہمیت میرے لیے اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء وہ تاریخی دن ہے جب ہندوستان ۲۰۰؍ سالہ برطانوی غلامی سے آزاد ہوا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے لال قلعہ پر ترنگا لہرایا۔ یہ دن آزادی کے مجاہدوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ وطن میں رہتے ہوئے ۱۵؍ اگست کا دن آزادی کی اہمیت کادن ہوتا، مطلب، اسکول اور کالج میں پرچم کشائی ہوتی، تقریبات منائے جاتے، قومی نغمے گاتے، مٹھائیاں تقسیم ہوتیں اور گلی محلوں میں ترنگے لہراتے۔ اس وقت شاید اس دن کی گہرائی کا اتنا احساس نہ تھا جتنا آج یہاں ہوتا ہے۔ 
۱۵؍ اگست کی صبح آتے ہی میں اور میرے بچے ترنگے کپڑوں میں تیار ہو جاتے ہیں۔ گھر میں پرچم لہرا کر ٹی وی پر قومی ترانہ لگا کربچوں کو آزادی کی تاریخ، ثقافت اور تنوع کے بارے میں بتاتی ہوں۔ اس دن خاص ترنگے رنگ کے پکوان بنا کراپنے ہندوستانی دوستوں کے ساتھ بانٹتی ہوں۔ بیرونِ ملک رہتے ہوئے یہ احساس بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے کہ ہم صرف اپنی ذات کی نہیں بلکہ کسی حد تک اپنے ملک کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ہمارے اخلاق، ہمارا رویہ، ہماری محنت، حب الوطنی کا جزبہ، اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ لوگوں کے ذہن میں ہمارے وطن کی اک تصویر بناتا ہے، اس لیے یوم آزادی مجھے اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی بھی یاد دلاتا ہے۔ 
میرے لیے یوم آزادی فخر، شہیدوں کی قربانی، شکر گزاری اور وطن سے اپنے تعلق کو دوبارہ محسوس کرنے کا دن ہے۔ 
پردیس میں بھی یومِ آزادی یوں مناتے ہیں ہم 
اخلاق و کردار سے وطن کی تصویر بناتے ہیں ہم
انصاری شافعہ محمد عمران ندوی
(ایم اے، اکنامکس، بی ایڈ، رالے، نارتھ کیرولینا، امریکہ)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK