Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجہ ارادت جہاں: آزادی کے گمنام مگر عظیم مجاہد

Updated: August 15, 2026, 4:55 PM IST | Dr. Muhammad Muqeem Jamee | Mumbai

تاریخ کا مزاج عجیب ہے۔ وہ بعض اوقات چند ناموں کو اس قدر روشن کر دیتی ہے کہ ان کی چمک میں بے شمار دوسرے چراغ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، حالاں کہ ان چراغوں کی لو بھی اتنی ہی تیز اور ان کی قربانی بھی اتنی ہی عظیم ہوتی ہے۔

Shahi Fort of Jaunpur, which Raja Iradat Jahan (inset) made the center of his struggle. Picture: INN
جون پور کا شاہی قلعہ جسےراجہ ارادت جہاں(انسیٹ) نے اپنی جدوجہد کا مرکز بنایاتھا۔ تصویر: آئی این این

تاریخ کا مزاج عجیب ہے۔ وہ بعض اوقات چند ناموں کو اس قدر روشن کر دیتی ہے کہ ان کی چمک میں بے شمار دوسرے چراغ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، حالاں کہ ان چراغوں کی لو بھی اتنی ہی تیز اور ان کی قربانی بھی اتنی ہی عظیم ہوتی ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کی تاریخ بھی اسی المیے کی آئینہ دار ہے۔ منگل پانڈے، رانی لکشمی بائی، بہادر شاہ ظفر، تاتیا ٹوپے اور بیگم حضرت محل جیسے مجاہدین کے تذکرے عام ہیں، لیکن مشرقی  یوپی کی سرزمین پر ایسے بے شمار جانباز بھی گزرے جنہوں نے وطن کی آزادی، عزت اور خودداری کیلئے اپنی جانیں نچھاور کر دیں، مگر تاریخ کے صفحات میں ان کا ذکر وقت کی گرد میں مدھم پڑ گیا۔ انہی گمنام مگر عظیم مجاہدین میں ایک نام راجہ ارادت جہاں کا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو والد کی فلم، آزادی کے ہفتے ۲۰۲۶ء میں بیٹے کی فلم

راجہ ارادت جہاں کا تعلق ضلع اعظم گڑھ کے تاریخی قصبہ ماہل سے تھا۔ وہ ایک ایسے معزز اور باوقار خانوادے کے فرد تھے جس نے نہ صرف سیاسی و انتظامی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ اس خطے کی آبادکاری اور تہذیبی شناخت میں بھی اپنا نقش چھوڑا۔ ان کے خاندان کے بزرگوں نے اپنے ناموں کی نسبت سے متعدد بستیاں آباد کیں جو آج بھی ان کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ سید جہاں نے خراساں آباد کی بنیاد رکھی، جو وقت کے ساتھ عوامی تلفظ میں بدل کر خراسوں کہلانے لگا۔ شمشاد جہاں کے نام سے شمس آباد، بشارت جہاں کے نام سے بشارت آباد، دیدار جہاں کے نام سے دیدار گنج اور راجہ ارادت جہاں کے نام سے ارادت نگر آباد ہوا۔ یہ بستیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ خاندان محض اقتدار کا وارث نہیں تھا بلکہ آبادکاری، تعمیر اور تہذیبی تشکیل میں بھی اس کا نمایاں کردار تھا۔ افسوس کہ جن لوگوں کے نام سے بستیاں آباد ہوئیں، وقت گزرنے کے ساتھ انہی کے کارنامے تاریخ کی گرد میں دب کر رہ گئے۔

یہ بھی پڑھئے: وہ تاریخی دن یاد کیجئے جب اقتدار نے پہلی بار عوام کی آنکھوں میں جھانکا تھا

راجہ ارادت جہاں کی پیدائش۱۸۰۱ء میں ہوئی تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق ان کا تعلق ایک معزز سادات خاندان سے تھا اور ان کے آباء و اجداد کو مغلیہ سلطنت کے دور میں وفادارانہ خدمات کے اعتراف میں ’راجہ‘ کا خطاب عطا کیا گیا تھا۔ راجہ ارادت جہاں نے عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم حاصل کی اور انتظامی امور، سیاسی تدبر اور عسکری قیادت میں بھی مہارت پیدا کی۔ ان کی صلاحیتیں انہیں ریاستِ اودھ کے انتظامی نظام تک لے گئیں۔ نومبر۱۸۵۶ء میں انہیں جونپور مرکز کے تحت نائب ناظم مقرر کیا گیا۔ یہ منصب ان کی انتظامی قابلیت، عوامی مقبولیت اور سیاسی بصیرت کا واضح ثبوت تھا،لیکن تاریخ نے ان کیلئے صرف انتظامی منصب کا کردار نہیں لکھا تھا۔ ہندوستان کے سیاسی افق پر غلامی کے بادل گہرے ہو رہے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیع پسندانہ پالیسیوں، ریاستوں کے الحاق، انتظامی جبر اور معاشی استحصال نے عوام کے اندر بے چینی پیدا کر دی تھی۔۱۸۵۷ء میں جب یہ بے چینی بغاوت کی صورت میں پھوٹی تو اس کی چنگاری دیکھتے ہی دیکھتے شمالی ہندوستان کے وسیع علاقوں میں شعلہ بن گئی۔ سپاہیوں کے ساتھ علماء، زمیندار، کسان، مقامی حکمران اور عام لوگ بھی اس مزاحمت میں شریک ہوئے۔ یوں یہ تحریک صرف فوجی بغاوت تک محدود نہ رہی بلکہ آزادی کی ایک وسیع جدوجہد بن گئی۔

اعظم گڑھ اور جونپور بھی اس طوفان سے محفوظ نہ رہ سکے۔ اسی ماحول میں راجہ ارادت جہاں نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق۲۶؍ جون۱۸۵۷ء کو انہوں نے ماہل پر قبضہ کرکے آزاد حکومت کا اعلان کیا اور جونپور کے شاہی قلعے کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ ان کے گرد مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ جمع ہونے لگے۔ کسان، سپاہی، زمیندار اور عام عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے انگریز حکومت کو مال گزاری ادا کرنے سے انکار کیا۔ بظاہر یہ ایک مالیاتی اقدام تھا، لیکن حقیقت میں یہ سامراجی اقتدار کے خلاف کھلا اعلانِ بغاوت تھا۔

راجہ ارادت جہاں کی قیادت میں آزادی کی یہ تحریک مقامی سطح پر قوت پکڑنے لگی تو برطانوی حکام کو اس کے نتائج کا اندازہ ہونے لگا۔ انہیں خوف تھا کہ اگر یہ مزاحمت پھیل گئی تو جونپور، اعظم گڑھ اور مشرقی یوپی کے وسیع علاقے ان کے اقتدار سے باہر ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ بغاوت کو کچلنے کیلئے فوجی کارروائی شروع کی گئی۔کئی مقامات پر معرکے ہوئے۔ وسائل اور جدید اسلحے کے اعتبار سے انگریز فوج کو برتری حاصل تھی لیکن راجہ ارادت نے عزم، شجاعت اور استقامت میں کوئی کمی نہ آنے دی۔ وہ جانتے تھے کہ آزادی کی راہ قربانی مانگتی ہے، مگر انہوں نے اپنے مقصد سے انحراف نہیں کیا۔راجہ ارادت کی جدوجہد کا سب سے المناک باب ان کی گرفتاری اور شہادت ہے۔ بعض تاریخی ماخذوں میں اس واقعے کی مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔  انہیں گرفتار کیا گیا اور مقدمے کے بعد فصاحت جہاں کے ساتھ پھانسی دی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام نے قومیت کا فلسفہ بھی سمجھایا ہے!

دوسری تاریخی روایات کے مطابق راجہ ارادت جہاں کو مذاکرات اور مصالحت کے بہانے بلایا گیا۔ وہ اپنے تقریباً چالیس غیر مسلح ساتھیوں کے ہمراہ وہاں پہنچے، مگر یہ دعوت ایک منصوبہ بند دھوکے میں تبدیل ہوگئی۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے ساتھیوں کو بھی موت کی سزا دی گئی۔ بالآخر۲۷؍ ستمبر۱۸۵۷ء کو راجہ ارادت جہاں بھی آزادی کی راہ میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ تاریخی روایات میں واقعے کی جزئیات کے حوالے سے اختلاف کے باوجود اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے انگریز اقتدار کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے مزاحمت اور قربانی کا راستہ اختیار کیا۔

ان کی زندگی کا سب سے روشن پہلو یہی ہے کہ انہوں نے اقتدار کو مقصد نہیں بنایا بلکہ اصول کو مقصد بنایا۔ اگر ان کی نگاہ صرف اپنے منصب، جاگیر یا ذاتی مفاد پر ہوتی تو شاید وہ حالات کے سامنے سمجھوتہ کر لیتے، مگر انہوں نے غلامی کی زندگی کے مقابلے میں عزت اور آزادی کی راہ کو ترجیح دی۔ یہی وہ وصف ہے جو کسی انسان کو محض ایک تاریخی شخصیت سے بلند کرکے قومی کردار کی علامت بنا دیتا ہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی صرف دہلی، کانپور، جھانسی یا لکھنؤ تک محدود نہیں تھی۔ اس کی گونج اعظم گڑھ، جونپور، غازی پور اور مشرقی یوپی کے دور دراز علاقوں تک پہنچی تھی۔ راجہ ارادت جیسے مقامی رہنماؤں نے اس تحریک کو عوامی رنگ عطا کیا تھا۔ ان کی قربانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آزادی کی بنیاد صرف چند معروف ناموں نے نہیں رکھی تھی بلکہ ہزاروں گمنام سپاہیوں، مقامی رہنماؤں، کسانوں  اور عام لوگوں نے اپنے خون سے اس بنیاد کو مضبوط کیا تھا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہماری قومی تاریخ میں چند معروف شخصیات کو تو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، لیکن راجہ ارادت جہاں جیسے بے شمار مجاہدین پس منظر میں چلے گئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK