نئی نسل تک، جسے ہم ’جین زی‘ کہتے ہیں اور جو کافی انقلابی ہے، موثر انداز میں یہ پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے کہ صرف ترنگا لہرا دینا کافی نہیں بلکہ مجاہدین آزادی کے خوابوں کی تعبیر کی تلاش بھی ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 4:34 PM IST | Qutubuddin Shahid | Mumbai
نئی نسل تک، جسے ہم ’جین زی‘ کہتے ہیں اور جو کافی انقلابی ہے، موثر انداز میں یہ پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے کہ صرف ترنگا لہرا دینا کافی نہیں بلکہ مجاہدین آزادی کے خوابوں کی تعبیر کی تلاش بھی ضروری ہے۔
ہم ہر سال ۱۵؍ اگست کو آزادی کی سالگرہ مناتے ہیں۔ ایک ہندوستانی کی حیثیت سے بلا شبہ یہ دن ہمارے لئے بہت اہم ہے، ہمارے شاداں و فرحاں ہونے کا معقول جواز ہے۔ اگر ہم جشن مناتے ہیں تو یہ ہمارا حق ہے۔ تحریکِ حریت کے شہداء کی قربانیوں کو یاد کرکے ان سے انسیت کا ثبوت پیش کرتے ہیں اور مجاہدینِ آزادی کو سلام کرتے ہیں تو یہ ہمارا قومی فریضہ ہے۔ بلاشبہ ہمارے بزرگوں نے بڑا کارنامہ انجام دیا تھا۔ انہوں نے اس ظالم حکمراں کے پنجے سے ہمارا حق چھینا تھا جس کا دعویٰ تھا کہ اس کی سلطنت میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ ۷۹؍ سال قبل اسی تاریخ کو ہمارا ملک آزاد ہوا تھا، انگریزی تسلط سے ہمیں نجات ملی تھی اور تقریباً دو سو برسوں پر محیط غلامی کے دور کا اختتام ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ آزادی میں اہل مدارس کی قربانیاں جنہیں بھلایا نہیں جاسکتا
مگر کیا ہماری ذمہ داری بس اتنی سی ہے؟ ترنگا لہرا کر مجاہدینِ آزادی کی شان میں چند کلمات کہہ دینا ہی کافی ہے؟ کیا اس رسم کی ادائیگی سے ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں؟ یہاں ہمیں تھوڑا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اگر اپنی زندگی کے کئی بیش قیمت سال جیل میں گزارے.... تو کیا ان کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ گوروں کی جگہ کالے حکمراں ہوجائیں اور نظامِ سلطنت وہی رہے؟ جنوبی افریقہ میں کامیاب زندگی گزارنے والے مہاتما گاندھی نے غلام ہندوستان کا رخ کیا اور طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کیں.... تو آخر ان کے دل میں کون سا جذبہ موجزن تھا؟ کیا ملک کو آزاد کرانے کا خواب انہوں نے صرف اس لئے دیکھا تھا کہ یہاں فرقہ پرستی کا ناچ ہو، بدعنوانی کا دور دورہ ہو، پارلیمنٹ کا تقدس پامال ہو اور جمہوریت پر آمریت غالب آجائے؟ پُرتعیش زندگی گزارنے کے تمام تر لوازمات کی موجودگی کے باوجود پنڈت جواہر لال نہرو نے مولانا آزاد کے ساتھ احمد نگر جیل میں کدال چلانے کو ترجیح کیوں دی تھی؟ کیا اس لئے کہ یہاں پر کسی ایک فرقے کا تسلط قائم ہوجائے جو دیگر فرقوں کو ملک بدر کرنے کی سازشیں رچے؟ کیا ملک کی آزادی کے لئے اپنی جان نچھاور کرنے والے شہیدوں نے یہ قربانیاں اسی لئے دی تھیں کہ ان کے بعد یہاں اقتدار پر قابض ہونے والے افراد ان کے خوابوں کو تعبیر عطا کرنے کے بجائے ان کی روح کو کرب پہنچائیں؟
یہ غور و فکر کا مقام ہے۔ ان حالات میں ہمارا سنجیدہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں غور کرنا ہوگا کہ جن مقاصد کی خاطر ہمارے رہنماؤں نے انگریزوں کی گولیاں کھائی تھیں، آنکھوں میں ہندوستان کے بہتر مستقبل کا خواب سجائے ہنستے ہنستے تختۂ دار پر چڑھ گئے تھے اور وطن کی خاطر اپنے عزیز و اقارب کو قربان کردیا تھا.... کیا وہ مقاصد آج پورے ہورہے ہیں؟ اگر نہیں تو اس کے لئے ہم کس حد تک ذمہ دار ہیں؟
اس سوال کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہر دور کی نئی نسل اپنے سے پچھلی نسل کے مقابلے میں زیادہ تیز، زیادہ باخبر اور زیادہ سوال کرنے والی رہی ہے۔ مگر آج کی نئی نسل، جسے ہم عموماً ’جین زی‘ کے نام سے جانتے ہیں، اپنے مزاج، اپنے سوالات اور اپنے ردِعمل کے اعتبار سے کچھ زیادہ ہی انقلابی محسوس ہوتی ہے۔ وہ بہت کچھ قبول کرنے سے پہلے اس پر سوال اٹھاتی ہے، دلیل مانگتی ہے اور اپنی آواز بلند کرنے سے گریز نہیں کرتی۔ اس نئی نسل کے مزاج کا ایک نظارہ ہم نے جنترمنتر پر بھی دیکھا ہے، جہاں نوجوانوں کی بے چینی اور اپنے مستقبل کے بارے میں ان کے سوالات سامنے آئے۔ یہ صورتحال ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ نئی نسل کو صرف قومی تہواروں کی رسمی تقریبات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے آزادی کے اصل مفہوم سے روشناس کرانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: تحریک آزادی اوراردو صحافت
ہمیں اپنی نئی نسل کو بتانا ہوگا کہ آزادی صرف اتنی نہیں کہ ہم ۱۵؍ اگست کو ترنگا لہرا دیں، قومی ترانہ پڑھ لیں اور مجاہدینِ آزادی کو خراجِ عقیدت پیش کردیں۔ ترنگا ہماری شان ہے، ہماری قومی شناخت ہے اور اسے سربلند رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، لیکن اس سے بھی بڑی ذمہ داری ان خوابوں کی تعبیر تلاش کرنا ہے جو ہمارے مجاہدینِ آزادی نے ایک آزاد ہندوستان کے بارے میں دیکھے تھے۔ وہ ہندوستان جہاں ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق ہو، جہاں مذہب، ذات، زبان اور علاقہ انسان کی قدر کا پیمانہ نہ بنیں، جہاں انصاف طاقتور اور کمزور کے لئے یکساں ہو، جہاں تعلیم اور روزگار کے مواقع سب کے لئے ہوں اور جہاں اختلافِ رائے کو غداری نہ سمجھا جائے۔
یہ ذمہ داری صرف حکومتوں یا سیاسی جماعتوں کی نہیں، ہم سب کی ہے۔ بحیثیت شہری ہمیں اپنے حصے کا فرض ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے آئین، اپنے جمہوری اداروں اور اپنے معاشرتی رشتوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کررہے ہیں۔ ہم دوسروں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتے ہیں؟ ہم انصاف چاہتے ہیں تو کیا اپنے معاملات میں انصاف پسند ہیں؟ ہم امن کی خواہش رکھتے ہیں تو کیا اپنے قول و عمل سے امن کو فروغ دیتے ہیں؟
یہ بھی پڑھئے: آزادی کیلئے مسلمانوں نے تن،من،دھن قربان کیا ہے
اور بطور مسلمان ہماری ذمہ داریاں اس سے الگ نہیں بلکہ مزید اہم ہوجاتی ہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا ہوگا۔ اگر برادران وطن کا ایک بڑا طبقہ ہم سے نفرت کرتا ہے تو کیا ہم نے کبھی یہ سمجھنے، محسوس کرنے اور جاننے کی کوشش کی کہ ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم نے یہ سوچا کہ کہیں ہمارے اپنے طرزِ عمل، ہماری زبان، ہمارے رویوں یا ہمارے معاشرتی کردار میں کوئی ایسی خامی تو نہیں جسے دور کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا صرف یہ کہہ کر ہم بری الذمہ ہوسکتے ہیں کہ ہم سے نفرت کرنےوالے تمام کے تمام فرقہ پرست ہیں۔ دوسروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرنا آسان ہے، مگر اپنے اندر کی کمزوریوں کا احتساب کرنا مشکل۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس مشکل کام کیلئے ہمت کریں۔ اگر کہیں ہم سے غلطی ہورہی ہے تو اسے تسلیم کریں اور دور کرنے کی کوشش کریں۔ ایک اچھا مسلمان اور ایک ذمہ دار ہندوستانی دونوں اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے، محض نعروں سے نہیں۔
یہ یومِ آزادی ہمیں صرف خوشی منانے کا موقع نہیں دیتا بلکہ اپنے ماضی کو یاد کرنے، حال کا جائزہ لینے اور مستقبل کا راستہ متعین کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو صرف تاریخ کی کتابوں میں محفوظ رکھنا چاہتے ہیں یا ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش بھی کریں گے۔ ترنگا لہرانا یقیناً ہماری ذمہ داری ہے، مگر اس ترنگے کی حرمت، اس ملک کی سالمیت، اس کے جمہوری مزاج اور ہر ہندوستانی کی عزت و آزادی کی حفاظت اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔ یہی دراصل آزادی کا جشن بھی ہے اور آزادی کا حق بھی۔