وطن عزیز کو انگریزوں کے قبضہ سے آزاد کرانے میں مسلمانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ انگریزی سامراج کے خطرے سےسب پہلے شاہ ولی اللہ نے حکمرانوں کو آگاہ کیا۔ بعد میں ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیزؒ نے اسی بنیاد پر اس مشن کو آگے بڑھایا اور کہا کہ ہر محب وطن کا فرض ہے کہ اس اجنبی طاقت کے خلاف اعلان جنگ کرے۔
مولانا حسرت موہانی اورڈاکٹرامبیڈ کر۔ تصویر: آئی این این
وطن عزیز کو انگریزوں کے قبضہ سے آزاد کرانے میں مسلمانوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ انگریزی سامراج کے خطرے سےسب پہلے شاہ ولی اللہ نے حکمرانوں کو آگاہ کیا۔ بعد میں ان کے صاحبزادے شاہ عبدالعزیزؒ نے اسی بنیاد پر اس مشن کو آگے بڑھایا اور کہا کہ ہر محب وطن کا فرض ہے کہ اس اجنبی طاقت کے خلاف اعلان جنگ کرے۔ تحریک آزادی اور مسلم حکمراں : سب سے پہلے ۱۸۵۷ء کی جنگِ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کو شہید کرکے اسکے علاقے کو غلامی میں جکڑا گیا۔ ۱۷۶۴ء میں بکسر کی جنگ کے موقع پر شاہ عالم ثانی(سلطان ہند)، شجاع الدولہ (نواب اودھ) اور میر قاسم( نواب بنگال) کی متحدہ فوجوں کو شکست دے کر انگریز مضبوط ہوئے۔ انہیں سب سے زیادہ خطرہ شیر میسور ٹیپو سلطان شہیدؒ سے تھا ۔ اسلئے ۴؍مئی ۱۷۹۹ء میں میر صادق جیسے غدار کی مدد سے ٹیپو سلطان کو شہید کیا۔۱۸۵۷ء کی بغاوت کی روح مسلم قائدین تھے: مولوی احمداللہ شاہؒمدراسی، مولانا فضل حق خیر آبادی ؒ، مولانا رحمت اللہ اور عظیم اللہ خانؒ وغیرہ نے خاموشی سے ملک کے دوردراز علاقوں کا سفر کرکے بطور خاص انقلاب کی فضاء ہموار کی اور تمام رہنمائوں کی متفقہ رائے سے بغاوت کیلئے ۳۱؍مئی ۱۸۵۷ء کی تاریخ طے کی لیکن ا س سے قبل ۱۰؍مئی ۱۸۵۷ء کو میرٹھ کی فوجی چھائونی میں منگل پانڈے اور دیگر ہندوستانی فوجیوں نے بغاوت کردی۔ اس کار روائی کی وجہ سے پورے ہندوستان میں بغاوت کی ایک لہر پھوٹ پڑی۔ اسی بغا وت کو ’’غدر‘‘ کا نام دیا گیا۔اس سے انگریز بوکھلا گئے اورقتل عام کیا، لارڈ رابرٹسن کا بیان ہے۔ ۲۷ ہزار کو معمولی شنوائی کے بعد پھانسی دے دی گئی۔

ریشمی رومال تحریک:ان تمام مظالم اور زیادتیوں کے باوجود مسلمان خاموش نہیں بیٹھے۔۱۸۶۶ء میں ہی مولانا قاسم نانوتویؒ نے ’دارلعلوم دیوبند‘ کی بُنیاد رکھی جس کے قیام کا مقصد صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ ایسے افراد تیار کرنا تھا جو فکری آزادی کے ساتھ ملک و ملت کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس دلاسکیں ۔ انگریزوں کے خلاف مولانا عبیداللہ سندھی ؒ نے کابل سے ریشمی رومال پر رازدارانہ خطوط شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کومکہ مکرمہ روانہ کئے تھے جو حکومت برطانیہ کے لوگوں نے پکڑلیا،یہی شیخ الہند ؒ کی گرفتاری کا سبب بنا۔مکمل آزدی کا تصّور سب سے پہلے مولاناحسرت موہانی نے پیش کیا: ۱۹۲۱ء میں انڈین نیشنل کانگریس ہی کے احمد آباد اجلاس میں پہلی بارمولانا حسرت موہانیؒ نے مکمل آزادی کا تصّور پیش کیا ۔ اس دوران مولانا ابوالکلام آزاد نے ’ الہلال‘، مولانا محمد جوہر نے ’کامریڈ‘اور ’’ہمدرد‘‘ اور مولانا ظفر علی خان نے ’’زمیندار‘‘ کے ذریعے عوام میں انقلاب کی روح پھونکی۔
قربانیاں ہی قربانیاں :خلافت تحریک کے روح رواں مولانا محمد علی جوہر ؒ کا قول بہت مشہور ہے جو اُنہوں نے انگلستان میں پہلی گول میز کانفرنس میں کہا تھا ’’ میں بیمارہو ں اور بیماری کے بستر سے یہاں آیا ہوں تاکہ اپنے ملک کیلئے آزادی کا پروانہ لے جا سکوں ۔ اگر حکومتِ برطانیہ ہمیں آزادی ابھی نہیں دیتی ہے تو میری قبر کیلئے اسے زمین دینی ہوگی کیو نکہ میں ایک غلام ملک میں دفن ہونا پسند نہیں کروں گا۔ ’’ مولانا نے ۱۹۳۱ء میں انگلستان میں ہی وفات پائی اور فلسطین میں دفن کئے گئے۔ ملبار کیرلا کے مو پلا مسلمانوں نے برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی اورتقریباً ۱۰؍ ہزار مسلمان شہید ہوئے اور ۵۶؍ہزار گرفتار کئے گئے۔ کا نگریس نے ۱۹۳۰ء میں ’تحریک سول نافرمانی‘ شروع کی تو ۹۰؍ہزار افراد گرفتار ہوئے جن میں ۴۴؍ہزار سے زائد مسلمان تھے۔ ’ ٹیکس مت دو تحریک‘ چلی تو اس کی قیادت سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان نے کی۔ ۳۱؍مارچ ۱۹۳۱ء کو کانگریس فنڈ کیلئے گاندھی جی نے ایک کروڑ روپیہ جمع کرنے کی اپیل کی اس موقع پر عمر سبحانی(جو کاٹن کنگ کہلاتے تھے) نے اپنی جیب سے ۳؍ لاکھ روپے دئیے۔ نیتاجی سبھاش چندر بوس نے ’آزاد ہندفوج‘ بنائی تو اس میں جنرل شاہ نواز خان، کرنل حبیب الرحمٰن، کرنل محبوب، کرنل شوکت ملک، لیفٹیننٹ کرنل عزیز احمد، میجر عابد حسین صفرانی وغیرہ کتنے عہدیدار مسلمان تھے۔ انہوں نے برما میں چندے کی اپیل کی تو سب سے پہلے ایک مسلمان تاجر عبدالحبیب مارخانی نے ایک کروڑ ۳۴؍ لاکھ کا چندہ دیا۔