امن کی ضد کے طور پر جنگ کا استعمال عام ہے اور جنگ کی ضد کے طور پر امن کا، مگر جنگ وہی نہیں ہے جو سرحدوں پر لڑی جاتی ہے۔ جنگ کسی علاقے میں برپا ہونے والا فساد بھی ہے ۔ جنگ ہر وہ شے ہے جو معمول کی زندگی کو پریشان اور ہراساں کرتی ہے۔
امن کی ضد کے طور پر جنگ کا استعمال عام ہے اور جنگ کی ضد کے طور پر امن کا، مگر جنگ وہی نہیں ہے جو سرحدوں پر لڑی جاتی ہے۔ جنگ کسی علاقے میں برپا ہونے والا فساد بھی ہے ۔ جنگ ہر وہ شے ہے جو معمول کی زندگی کو پریشان اور ہراساں کرتی ہے۔ جنگ وہ بھی ہے جو پڑوس میں ہونے والے جھگڑے کی وجہ سے ذہنی خلفشار پر منتج ہوتی ہے۔ جنگ وہ اَن بن اور من مٹاؤ بھی ہے جو دو لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ جنگ ہر وہ شے ہے جوخلافِ معمول واقع ہوکر معمول کو درہم برہم کرتی ہے۔ ان تمام باتوں کو عموماً جنگ کے معنوں میں نہیں لیا جاتا مگر سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ سے اگر تیل اور گیس کی شدید قلت پیدا ہوتی ہے تو پڑوس کا لڑائی جھگڑا اور آپسی من مٹاؤ بھی ذہنی تشنج پیدا کرتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھئے تو محسوس ہوگا کہ انسان ہمہ وقت حالت ِ جنگ میں رہتا ہے سوائے اُس مختصر دورانیہ کے جب وہ ایسے وقت میں تفریح کررہا ہو جس میں اُس کا ذہن بالکل فارغ ہو، کوئی بات اُس کے ذہنی تسلسل میں خلل نہ ڈال رہی ہو اور کوئی شے اُسے ڈسٹرب نہ کررہی ہو۔ مگر ایسا دورانیہ کب میسر آتا ہے؟ شاذ ونادر۔ ورنہ عام زندگی میں تو تفریح کے دوران بھی کوئی نہ کوئی بات ذہن میں موجود رہتی ہے اور مکمل ذہنی فراغت حاصل نہیں ہوتی۔
اس طرح، انسان ہمہ وقت حالت ِ جنگ میں رہتا ہے مگر جب سے ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور سوشل میڈیا نے حالات کو یکسر بدل دیا، انسان کے حالت ِ جنگ میں رہنے کی کیفیت بدل گئی ہے۔ وہ اس طرح کہ اب وہ کچھ کر رہا ہے ساتھ ہی کچھ دیکھ بھی رہا ہے، کچھ پڑھ رہا ہے اور کوئی شے اُسے تسلسل کے ساتھ ڈسٹرب بھی کررہی ہے، وہ کہیں مصروف ہے مگر ذہن اُلجھا ہوا ہے کہ میرے اسٹیٹس کو اُتنے لوگوں نے نہیں دیکھا جتنے لوگوں کی مَیں نے توقع کی تھی۔
ایک طالب علم تعطیل کے بہتر استعمال کی غرض سے صف اول کے قلمکاروں کی تحریروں کا سلسلہ وار مطالعہ کر رہا ہے مگر اُس کا دل اُچاٹ ہے۔ کوئی شے اُسے اندر ہی اندر پریشان کررہی ہے۔ جب کبھی ایسا ہوتا ہے (اور اب تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے) تب انسان یا طالب علم جن باتوں کو بآسانی یاد رکھ سکتا ہے وہ بھی یاد نہیں رہتیں ۔جب بآسانی یاد رہنے والی باتیں بھی یاد نہ رہتی ہوں تو سوچئے کسی ناول، افسانہ، تاریخ کے کسی باب کے مطالعہ کے بعد اُس پر غوروخوض کیسے ہو؟
اب تک Contentکا معنی تھا مشمولات، مندرجات ، مضمون، مواد وغیرہ مگر اب یہ سات حرفی لفظ اپنے اندر سونامی جیسی کیفیت اور طاقت رکھتا ہے۔ اب ہر وہ چیز جو ابلاغ اور ترسیل کیلئے تیار کی گئی ہے، Content ہے ۔ حال یہ ہے کہ پوری دُنیا میں ہر لمحہ کانٹینٹ تیار ہورہا ہے۔بعض مطالعات کے مطابق دُنیا میں روزانہ ۴۰۲؍ ٹیٹرابائٹس ڈیٹا یا کانٹینٹ تیار ہوتا ہے۔ عام آدمی نہیں جانتا کہ یہ کتنا ہوتا ہے؟ اگر وہ ’’جی بی‘‘ میں جاننا چاہے تو جان لے کہ ۴۰۲؍ ٹیٹرابائٹس چار کھرب جی بی کے مساوی ہے۔ اس میں سے بہت سا کانٹینٹ ہم تک پہنچتا ہے ہمیں مبتلا رکھنے کیلئے۔ یہ نئی حالت ِ جنگ ہے۔ سکون کے متلاشیوں ، بالخصوص اُن لوگوں کو جو تخلیقی اور تعمیری کام کرنا چاہتے ہیں ، اس کانٹینٹ سے دور رہ کر چند گھنٹے اپنے لئے نکالنے چاہئیں روزانہ۔ یہ حالت ِ جنگ سے حفاظت کا بہترین نسخہ ہے۔